امریکا نے شام کو دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا

واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکا نے تقریباً 47 سال بعد شام کو دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں کی فہرست سے باضابطہ طور پر خارج کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے شام کے ساتھ تعلقات میں بڑی پالیسی تبدیلی کا حصہ ہے، شام کو 1979 میں امریکا کی دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

24 اگست 2026 کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 45 روزہ لازمی کانگریسی جائزے کی مدت مکمل ہونے کے بعد شام کی یہ حیثیت باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جولائی 2026 کو کانگریس کو شام کی یہ حیثیت ختم کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا، جس کے بعد قانون کے مطابق 45 روزہ جائزے کا عمل مکمل کیا گیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شام کے لیے اقتصادی بحالی، بین الاقوامی تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے راستے کھولنا ہے۔

امریکی اقدام کے تحت حیات تحریر الشام کو بھی سپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے جبکہ شام پر عائد بعض اہم پابندیوں اور مالی رکاوٹوں میں بھی کمی آئے گی، تاہم بعض مخصوص افراد اور اداروں پر عائد پابندیاں برقرار رہ سکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شام کو دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں کی فہرست سے نکالا جانا دمشق کی عالمی سطح پر دوبارہ معاشی و سفارتی شمولیت کی جانب ایک اہم قدم ہے اور جنگ سے متاثرہ ملک میں تعمیرِ نو اور بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات کو تقویت مل سکتی ہے۔

واضح رہے کہ شام کے اخراج کے بعد امریکا کی دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں کی فہرست میں اب ایران، کیوبا اور شمالی کوریا باقی رہ گئے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...