افزائشِ حسن کے لیے بہترین،گلیسرین

تحریر : انیلا ثمن


نرم و ملائم بال،خوبصورت جلد اور روشن چمکدار آنکھیںنہ صرف ہر عورت کا خواب ہوتی ہیں بلکہ ا ن کے حصو ل کے لیے خواتین ہزاروں روپے بھی خرچ کرتی ہیں۔بیشتر خواتین اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ ہر گھر میں موجود ایک عام چیز کا استعمال حسین نظر آنے کی خواہشمند ہر خاتون کا خواب پورا کر سکتی ہے

آپ کے تین مسائل کے حل کے لیے گلیسرین کا استعمال بہترین ثابت ہو سکتا ہے۔یہ بے رنگ اور بے بو کاربن کمپائونڈ فضا سے نمی کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنی اسی خاصت کے سبب یہ آپ کے حسن کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔گلیسرین کو استعمال کرنے کا طریقہ اور اس کے چند فوائد کے بارے میں آئیے آپ کو قدرے تفصیل سے بتائیں۔
جلد کی حفاظت: گلیسرین میں چند قطرے پانی شامل کر لیا جائے تو یہ آپ کی جلد کے لیے بہترین موئسچرائزر ثابت ہوتا ہے۔اس کے علاوہ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ گلیسرین کے ساتھ برابر کی مقدار میں شہد ملا کر چہرے اور جسم پر لگائیں،کچھ دیر بعد سادہ پانی سے اسے دھو لیں۔آپ کی جلد سے خشکی دور ہو گی اوراس کی نمی برقرار رہے گی۔
بالوں کی حفاظت: موسم چاہے کوئی بھی ہو بالوں کا روکھا پن اور ان کا پھول جانا خواتین کے لیے ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔خاص طور پر باہر جاتے وقت وہ پریشا ن ہی رہتی ہیں کہ بالوں کو کس سٹائل میں سیٹ کریں،کیونکہ لاکھ تدبیروں کے باوجود ان کے بال بکھرے بکھرے اور پھولے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ایسی خواتین جنہیں روزانہ دفتر یا کام پر جاتے ہوئے بال سنوارنے پڑتے ہیں ان کے لیے خاص طور پر یہ ایک بڑا مسئلہ ہے،اور روزانہ بالوں پر رولر یا سٹریٹنر کا استعمال بھی مناسب نہیں ہے۔اس سے آپ کے بال مزید روکھے اور بے جان ہو جاتے ہیں۔بالوں کے روکھے پن کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں،مثلاً جینیاتی اسباب،بالوں کے لیے نا مناسب شیمپو کا استعمال یا ان کا بھر پور خیال نہ رکھنا وغیرہ۔بالوں کو نرم و ملائم بنانے یا ان کا روکھا پن دور کرنے کے لیے گلیسرین کا استعمال بہترین ہے۔اس مسئلے کے حل کے لیے گلیسرین میں برابر کی مقدار میں پانی شامل کریں اور اس محلول کو اپنے بالوں میں تھپتھپا لیں۔یہ آپ کے بالوں کے لیے بہترین کنڈیشنر کا کام دے گا اور بال آسانی سے سنور جائیں گے۔یہ طریقہ گھنگھریالے بالوں کو سلجھانے اور سنوارنے کے لیے بھی انتہائی کار گر ثابت ہوتا ہے۔
آنکھوں کی حفاظت: گلیسرین کا ایک اور حیرت انگیز استعمال اور فائدہ یہ ہے کہ اسے آپ انڈر آئی کریم کے طور پر بھی استعمال کر سکتی ہیں۔اگر آپ کی آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے ہیں تو ان سے نجات پانے کی مئوثر تدبیر یہ ہے کہ رات سونے سے پہلے ان پر گلیسرین لگائیں۔اس سے نہ صرف گہرے حلقے ختم ہو جائیں گے بلکہ آنکھوں کے نیچے جلد بھی تر و تازہ اور ہموار نظر آئے گی۔آنکھوں کی سوجن اور حلقے دور کرنے کے لیے مارکیٹ میں کئی مہنگی کریمیں دستیاب ہیں،لیکن یہی کام آپ نہایت سستے اور آسانی سے دستیاب گلیسرین کی مدد سے بھی لے سکتے ہیں۔
زخموں کی دیکھ بھال: گلیسرین کی ایک حیرت انگیز خاصیت کے بارے میں بہت کم خواتین جانتی ہوں گی کہ یہ کسی بھی چوٹ یا زخم کے مندمل ہونے کا عمل تیز کر دیتی ہے اور گلیسرین کی یہ خوبی محض چھوٹے موٹے زخم یا خراشوں پر ہی کار گر نہیں بلکہ اسے بڑے زخموں پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے،کیونکہ اس میں جلد کے خلیوں اور زخموں کی مرمت کرنے کی بیش بہا صلاحیت پائی جاتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

صاف ستھرا گھر، پرسکون زندگی

آرگنائزیشن کے سنہری اصول

سونا مہنگا ہو گیا سستے اور دلکش متبادل

عالمی معاشی اتار چڑھاؤ، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

آج کا پکوان:لزانیا

اجزا: دودھ: 1 لٹر، میکرونی: ایک پیکٹ، میدہ: دو کھانے کے چمچ، نمک: حسب ذائقہ، پسی کالی مرچ: ڈھائی چائے کا چمچ، انڈے: 4 یا 5 عدد

جگر مراد آبادی اثر انگیز شاعر

ان کا طرز شعر خوانی اپنے دور میں بہت مقبول رہا یہاں تک کہ لوگوں نے نقل کرنا شروع کر دی :میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچےجگر شعر ترنم سے پڑھتے تھے اورموسیقی سے خوب واقفیت رکھتے تھے۔ آواز بڑی لوچدار اور دلفریب تھی اسی لئے جس محفل میں وہ اپنا کلام سناتے، اسے نغمہ زار بنا دیتے تھے: جگر نے شاعری کی ابتدا فارسی سے کی‘ کچھ غزلیں فارسی میں کہیں لیکن جیسے جیسے ان کا رنگ نکھرتا گیا وہ اردو کی طرف آتے گئے اور پھر تمام تر صلاحیتیں اردو غزل کی آبیاری پر صرف کر دی

رشید حسن خاں :تحقیق اورجدید اصول تدوین

بیسویں صدی کے نصف اول میں حافظ محمود شیرانی، قاضی عبد الود ود، مولانا امتیاز علی خاں عرشی اور سید مسعود حسن رضوی کے تدوین کرد ہ بعض متن اور تدوین کی روایت کے محض ابتدائی نقوش ہی نہیں بلکہ مثالی نمونے ہیں۔

نیا فارمیٹ، کڑا امتحان:جوش وخروش پر سوالیہ نشان

پاکستان سپرلیگ(پی ایس ایل)گیارہ: لیگ کے حوالے سے حالیہ فیصلے کرکٹ شائقین کیلئے حیران کن ہونے کیساتھ بحث طلب بھی ہیں: میچزلاہور اور کراچی تک محدود کرنا راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد اور پشاور کے شائقین کے لئے کسی دھچکے سے کم نہیں:جہاں 8 ٹیمیں لیگ کی عالمی ساکھ میں اضافہ کریں گی، وہیں تماشائیوں کی عدم موجودگی لیگ کے کمرشل ماڈل کو متاثر کر سکتی ہے