فہمِ قرآن

تحریر : مولانا امین احسن اصلاحی


قرآن مجید کو صرف طلبِ ہدایت کیلئے پڑھا جائے اگر طلب ِہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہو گی تو قرآن کے فیض سے محروم رہے گا دل میں قرآن مجید کی عظمت و اہمیت نہ ہو تو آدمی اس کے سمجھنے اور اس کے حقائق و معارف کے دریافت کرنے پر وہ محنت صرف نہیں کر سکتا جو اس کے خزائن حکمت سے مستفید ہونے کیلئے ضروری ہے

جس طرح نماز کیلئے طہارت اور وضو شرط ہے، نماز کی برکت آدمی کو اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب وہ وضو اور طہارت کے شرائط پورے کرکے نماز کا قصد کرے، اسی طرح فہم قرآن کیلئے بھی کچھ ابتدائی شرطیں ہیں اور آدمی کو فہم قرآن کی نعمت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ ان شرائط کے اہتمام کے ساتھ قرآن مجید کو سمجھنے کی کوشش کرے، ہم یہاں مختصراً ان شرائط کو بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔

نیت کی پاکیزگی

سب سے پہلی چیز نیت کی پاکیزگی ہے، نیت کی پاکیزگی سے مطلب یہ ہے کہ آدمی قرآن مجید کو صرف طلب ہدایت کیلئے پڑھے، کسی اور غرض کو سامنے رکھ کر نہ پڑھے، اگر طلب ہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہو گی تو نہ صرف یہ کہ قرآن کے فیض سے محروم رہے گا، بلکہ اندیشہ اس بات کا بھی ہے کہ قرآن سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے۔ اگر آدمی قرآن کو اس لئے پڑھے کہ لوگ اسے مفسر قرآن سمجھنے لگیں اور کوئی تفسیر لکھ کر جلد اس سے شہرت اور نفع دنیاوی حاصل کر سکے تو ممکن ہے اس کی یہ غرض حاصل ہو جائے۔ لیکن قرآن مجید کے علم سے وہ محروم رہے گا اسی طرح اگر آدمی کے کچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ قرآن کی طرف اس لئے رجوع کرے کہ ان نظریات کیلئے قرآن سے کچھ دلائل ہاتھ آ جائیں تو ممکن ہے وہ قرآن سے کچھ الٹی سیدھی دلیلیں، اپنے خیال کے مطابق، اپنے نظریات کی تائید میں نکالنے میں کامیاب ہو جائے، لیکن ساتھ ہی اس حرکت کے سبب سے وہ اپنے اوپر فہمِ قرآن کا دروازہ بالکل بند کرے گا۔

قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہر آدمی کے اندر طلب ہدایت کا داعیہ ودیعت فرمایا ہے اگر اسی داعیہ کے تحت آدمی قرآن مجیدکی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ اس سے بقدر کوشش اور بقدر توفیق الٰہی فیض پاتا ہے، اگر اس داعیہ کے علاوہ کسی اور داعیہ کے تحت وہ قرآن کو استعمال کرنا چاہتا ہے تو  وہ وہی چیز پاتا ہے جس کی اس کو تلاش ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی اس خصوصیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ، ترجمہ ’’ اللہ اس چیز سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے۔‘‘(البقرہ) اور یہ اصول بیان فرمانے کے بعد یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ’’ وما یضل بہ الاالفسقین‘‘ (البقرہ) ترجمہ ’’ اور وہ نہیں گمراہ کرتا مگر انہی لوگوں کو جو نافرمانی کرنیوالے ہیں۔‘‘

 یعنی جو لوگ فطرت کی سیدھی راہ سے ہٹ کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہدایت سے بھی ضلالت ہی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کووہی چیز دیتا ہے جس کے وہ بھوکے ہوتے ہیں اگر ایک شخص کعبہ جا کر بھی بتوں ہی کو یاد کرنا چاہتا ہے تو وہ ہرگز اس بات کا سزاوار نہیں کہ اس پر توحید کے رموز کھولے جائیں، اگر کوئی شخص پھولوں کے اندر سے بھی کانٹے ہی جمع کرنے کا شوق رکھتا ہے تو وہ ہرگز اس کا مستحق نہیں ہے کہ اس کو پھولوں کی خوشبو نصیب ہو۔ اگر ایک شخص اپنی فساد طبیعت کے سبب سے علاج کو بھی بیماری ہی بنا لیتا ہے تو وہ اسی بات کے لائق ہے کہ شفا ء حاصل ہونے کے بجائے اس کی بیماری ہی میں اضافہ ہو۔ اسی حقیقت کی طرف قرآن حکیم نے سورہ بقرہ کی مندرجہ ذیل آیت میں اشارہ فرمایا ہے کہ ، ترجمہ ’’یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دی تو ان کی تجارت ان کے لئے نفع بخش نہ ہوئی اور یہ ہدایت پانے والے نہ بنے۔‘‘

قرآن کو ایک برتر کلام ماناجائے

دوسری چیز یہ ہے کہ قرآن مجید کو ایک اعلیٰ اوربرتر کلام مان کر اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اگر دل میں قرآن مجید کی عظمت و اہمیت نہ ہو تو آدمی اس کے سمجھنے اور اس کے حقائق و معارف کے دریافت کرنے پر وہ محنت صرف نہیں کر سکتا جو اس کے خزائن حکمت سے مستفید ہونے کے لئے ضروری ہے۔

 بظاہر یہ بات بعض لوگوں کو کچھ عجیب سی معلوم ہو گی کہ ایک کتاب کے متعلق اس کے جاننے سے پہلے ہی حسن ظن قائم کر لیا جائے کہ وہ بڑی اور اعلیٰ کتاب ہے لیکن غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ قرآن مجید کے متعلق اس قسم کا حسن پیدا ہونا ایک نہایت معقول بات ہے۔ قرآن اپنے پیچھے ایک عظیم الشان تاریخ رکھتا ہے۔ اس کے کارنامے نہایت شاندار ہیں۔ ذہنوں اور دماغوں کی تبدیلی میں اس کتاب نے جو معجزہ دکھایا ہے آج تک کسی کتاب نے بھی یہ معجزہ نہیں دکھایا۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ دنیا کی آبادی کا ایک عظیم حصہ اس کو نہ صرف کتاب مانتا ہے بلکہ اس کو خدائی اور آسمانی کتاب مانتا ہے اس کو لوح محفوظ سے اترا ہوا کلام مانتا ہے، ایک ایسا معجز کلام مانتا ہے، جس کی نظیر نہ انسان پیش کر سکتے ہیں نہ جنات پیش کر سکتے ہیں۔ ایک ایسا کلام جس کے ماضی اور جس کے حاضر کے متعلق یہ شہادتیں اور لوگوں کے یہ احساسات موجود ہوں، بہرحال ایک اہمیت رکھنے والا کلام ہے اور آدمی اس کو سمجھنے کاحق اسی وقت ادا کر سکتا ہے جب اس کی یہ عظمت و اہمیت اس کے پیش نظر ہو۔ اگر یہ اہمیت اس کے سامنے نہ ہو تو ممکن نہیں ہے کہ آدمی کا ذہن اس کو اس اہتمام کا مستحق سمجھے جو اہتمام اس کیلئے فی الواقع مطلوب ہے۔ اگر کسی رقبہ زمین کے متعلق یہ علم ہو کہ وہاں سے سونا نکلتا رہا ہے اور کسی زمانہ میں وہاں سے کافی سونا برآمد ہوچکا ہے تو توقع یہی کی جاتی ہے کہ اگر کھدائی کی جائے تو یہاں سے سونا نکلے گا اور پھر اس کی اسی حیثیت کو پیش نظر رکھ کر اس سے فائدہ اٹھانے کا سرو سامان کیا جاتا ہے اور اس پر محنت صرف کی جاتی ہے، یا یہ کہ اگر یہاں محنت کی جائے تو یہاں سے زیادہ سے زیادہ کوئلہ یا چونا فراہم ہو سکے گا تو اس پر یا تو کوئی سرے سے اپنا وقت ہی ضائع کرنا پسند نہیں کرے گا یا کرے گا تو صرف اس حد تک جس حدتک اس سے زیادہ اس کا فائدہ پہنچنے کی توقع ہو گی۔

یہ تنبیہ ہم نے اس لئے ضروری سمجھی ہے کہ قرآن مجید کے متعلق ایسی غلط فہمیاں لوگوں کے اندر موجود ہیں جن کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے کہ اس کو اس اعتناء واہتمام کا مستحق سمجھا جائے جو اس سے حقیقی استفادہ کیلئے ضروری ہے۔ یہ غلط فہمیاں قرآن مجید کے ماننے والوں اور اس کے منکروں، دونوں کے اندر موجود ہیں۔ جو اس کے منکر ہیں وہ اس بات کا تو ایک حد تک اعتراف کرتے ہیں کہ ایک خاص دور میں اس کتاب کے ذریعہ سے کچھ اصلاحات واقع ہوئیں، لیکن ان کے خیال میں وہ زمانہ اب گزر چکا ہے۔ عرب کے بدوئوں کیلئے جن کے مسائل سیدھے سادے تھے، ان لوگوں کے خیال میں یہ کتاب مفید ہو سکتی تھی، لیکن موجودہ زمانہ کے الجھے ہوئے مسائل کو سلجھانے کیلئے وہ اس کتاب کو کافی نہیں سمجھتے۔

جو اس کو ماننے والے ہیں ان میں بہت سے لوگ اس کو محض حرام و حلال کے بتانے کا ایک فقہی ضابطہ سمجھتے ہیں اور فقہ کے احکام علیٰحدہ مرتب ہو جانے کے بعد ان کی نگاہوں میں اگر اس کی کوئی اہمیت باقی رہ گئی ہے توصرف تبرک کے نقطہ نظر سے رہ گئی ہے۔ بہت سے لوگ اس کو اچھی اچھی نصیحتوں کا ایک مجموعہ سمجھتے ہیں۔ بہت سے لوگ نزع کی سختیوں کے دور کرنے اور ایصال ثواب کی کتاب سمجھتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس کو دفع آفات و بلیات کا تعویذ سمجھتے ہیں۔

 اور جس طرح عیسائی دل کے جانب سے جیب میں انجیل رکھے پھرتے ہیں اسی طرح اس خیال کے مسلمان جیب میں قرآن کو رکھتے ہیں۔ اس طرح کی غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے مسلمان ناممکن ہے کہ قرآن حکیم سے وہ فائدہ اٹھا سکیں جس کے لئے فی الحقیقت وہ نازل ہوا ہے، ان لوگوں کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کسی شخص کو ایک توپ دی جائے کہ وہ اس کے ذریعہ سے دشمن کے قلعہ کو مسمار کرے لیکن وہ اس کو مچھر مارنے کی ایک مشین سمجھ بیٹھے اور اسی حقیر مقصد کیلئے اس کو استعمال کرنا شروع کر دے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سفرِ حج: تیاری سے تکمیل تک

’’ اور لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا اللہ کا حق ہے جو شخص اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو‘‘(آل عمران:97) ’’ایک عمرہ سے دوسرا عمرہ اپنے درمیان گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں‘‘(صحیح بخاری)حج انسان کو ایسے گناہوں سے پاک کر دیتا ہے جیسے وہ دوبارہ اپنے نامہ اعمال کا آغاز کرتا ہے، نیت صالح اور مال حلال شرط ہے

مکہ معظمہ :سر زمین مقدس کی عظمت

’’بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ مکہ میں ہے‘‘( آل عمران:96) جو خانہ کعبہ کے قصد سے آیا اور اونٹ پر سوار ہوا تو اُونٹ جو قدم اٹھاتاہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کیلئے نیکی لکھتا ہے، خطا مٹاتا اور درجہ بلند فرماتا ہے(شعب الایمان)

زُہد کے ثمرات وبرکات

زُہد اختیار کیجئے اللہ بھی محبت کرے گا لوگ بھی محبت کرینگے

مسائل اور ان کا حل

نکاح کے وقت دلہا سے کلمہ پڑھوانا سوال :کیا نکاح کے وقت دلہا سے کلمہ پڑھوانا ضروری ہے؟ کلمہ نہ پڑھوایا جائے تو نکاح درست ہو جائے گا یا نہیں؟ (احمد علی، قصور)

7 مئی 2026ء کا پاکستان

گزشتہ ایک برس کے دوران دنیا کا پاکستان کو دیکھنے کا انداز نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ مئی 2025ء سے قبل جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق عالمی تاثر کچھ اور تھا۔

معرکۂ حق قومی سیاست پر غالب، سیاسی جماعتوں اور عوام میں فاصلے کیوں؟

پاکستان کے خلاف بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب‘آپریشن معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں یادگاری تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔