پردہ، عورت کی عظمت کی نشانی
شرم و حیا مسلمان عورت کے لیے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے،ہر حال میں پردے پر عمل کرنا چاہئے
ماہِ محرم کئی یاد دہانیاں کروانے آتا ہے۔ ’’کربلا‘‘ ہمیں قیامت تک کے لیے زندگی کا درس دے گیا ہے۔اس میں بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کے لیے کئی پیغامات ہیں۔
واقعہ کربلا کیا درس دے رہا ہے کربلا ہماری خواتین کو؟ایک درس حضرت زینبؓ نے اس وقت دیا جب 10ویں محرم کی شام خیموں کو آگ لگا دی گئی۔عمر میں بڑی ہونے کے باوجود حضرت زینبؓ نے اپنے بھتیجے حضرت امامِ سجادؓ سے پوچھا کہ
’’خیموں کو آگ لگ چکی ہے۔ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟بیٹا !باہر نکل کر جان بچائیں یا خیموں میں جل کر شہید ہوجائیں‘‘۔
حضرت زینبؓ کا یہ ایک جملہ آج کی عورت سمجھ جائے تو جان جائے گی کہ مرد اور عورت کے رشتے میں حاکم کون ہے۔مرد چاہے شوہر ہو،باپ یا پھر بیٹا عورت پر لازم ہے کہ اس کی موجودگی میں اسے اپنا حاکم جانے اور مانے ،اور مرد بھی اپنی ذمہ داریوں کو نہ صرف پہچانیں بلکہ انہیں پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کریں۔
حضرت زینبؓکے عمل سے ہمیں دوسرا درس پردے کا مل رہا ہے۔جب رسول اللہ ﷺ کی آل کو قیدی کر کے بازارِ شام میں لا یا گیا تو بیبیوں کے سروں سے چادریں چھین لی گئی تھیں،لیکن ہاتھ پسِ گردن بندھے ہونے کے باوجود ان پاک شہزادیوں نے بال چہرے پر ڈال کر پردہ کیا،اور ہمیں بتایا کہ چاہے تم پر ظلم کے پہاڑ ہی کیوں نہ توڑے جا رہے ہوں اپنا پردہ قائم رکھنا۔آپ اپنا پردہ سنبھال کر رکھنا، یہ آپ کو بچا لے گا،کیونکہ عورت کی اصل پردہ ہے اس لیے اسے چھپنے میں ہی راحت ملتی ہے۔ جس قدر وہ عیاں ہوتی ہے، اسی قدر بے سکون ہوتی چلی جاتی ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اسلام نے عورت کو بہت عزت دی ہے مگر اس عزت کے مقام کو پانے کے لیے اس کے گرد ایک حصار باندھ دیا ہے۔
ادھر اس کا پاؤں پھسلا ، ادھر پستیوں کے پاتال میں اترتے جھٹ بھی نہیں لگتا ہے، وہ اپنا تشخص کھو بیٹھتی ہے لیکن فہم کی آنکھ کھلنے تک تباہی کے وہ در وا ہو چکے ہوتے ہیں جن کے پٹ کو دھکیلنے کے لیے مدتوں کی توانائیاں درکار ہوتی ہیں۔ پھر سوچتے سمجھتے اور جانتے بوجھتے کتنی معصوم لڑکیاں زندہ لاشوں میں بدل جاتی ہے۔ جہاں آنکھیں دیکھتی ہیں، لیکن رنگوں کی جھلک معدوم ہو جاتی ہے۔
اے بنت حوا! تم تو شرم کا استعارہ ہو اپنے دامن کو سنبھال لو۔ تمھیں تو سرور کائنات ﷺ نے نازک آبگینے کی مانند فرمایا ہے۔ تمھارے لیے محرم رشتوں کو محافظ بنایا ہے۔ اتنے احسانات کی ناقدری مت کرو۔ چند ٹکوں کی خاطر نکاح جیسے مقدس رشتے کی توہین مت کرو۔
نام نہاد آزادی میں کتنادور جاؤ گی؟ خیال کرنا۔ کہیں واپسی کے دروازے بند نہ ہو جائیں، پھر تم ویرانوں میں کسی بدروح کی طرح بھٹک جاؤ۔ اس سے پہلے ہی اسلام کے دیے ہوئے مقام کو پہچانو اور اپنی اصل کی طرف لوٹ آؤ۔ جو تمھارے نام کا مطب ہے۔ ہاں! بے حیائی سے تائب ہو کر اصل کی طرف لوٹ آئو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے،
’’مسلمان عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں،سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں‘‘۔(سورہ نور ،آیت نمبر 31 )
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس معاشرے میں پردہ کرنے والی لڑکی کو بے انتہا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔جو لڑکی حجاب میں نوکری بھی کر رہی ہو اسے ترقی کرتا دیکھ کر اس کی راہ میں حجاب کو ہی آڑ بنا کر اسے پیچھے کر دیا جاتا ہے اور جو لڑکی حجاب کے بغیر سج سنور کے آفس جاتی ہو اسے ترقی اور مختلف مراعات بغیر کسی قابلیت کے فراہم کی جاتی ہیں۔
حیا سے حسن کی قیمت دوچند ہوتی ہے
نہ ہوں جو آب تو موتی کی آبرو کیا ہے
عورت چھپی ہوئی ہی اچھی لگتی ہے اس لیے تو اللہ رب العزت نے اسے پردے کا حکم دیاہے۔ حیا کو عورت کا زیور قرار دیا جاتا ہے۔عورت ایک نازک آبگینے کی مانند ہوتی ہے۔ اتنی نازک کہ ایک پھول کے ذریعے اسے راضی اور خوش کیا جاسکتا ہے ۔اتنی نازک ہے کہ ایک لفظ اسے توڑ کے رکھ دیتا ہے۔تعجب ہے کہ یہی عورت اپنے بچپنے میں باپ کے لیے رحمت ہوتی ہے اور پھر اپنی جوانی میں وہ سب کچھ چھوڑ کر شوہر کا ایمان کامل کرنے چلی آتی ہے۔ماں بنتی ہے تو ساتوں آسمانوں کے اوپر کی جنت اس کے قدموں تلے آ جاتی ہے۔ یہی عورت ایک معاشرہ تخلیق کرتی ہے۔
میری عزیز بہنو!اپنے آپ کو دیکھو اور اپنی آنے والی نسلوں کو بچاؤ۔کہیں ہم اس آگ کے تو نہیں بنتے جا رہے جو کل تک ہمیں جلاتی رہی تھی؟ شرم و حیامسلمان عورت کے لیے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے ،کہیں ہم یہ ڈھال پھینک تو نہیں رہے؟ کہیں ہم وہ بیج تو نہیں بو رہے جس کی جڑیں کل کو ہماری عمارت ہی اکھاڑ پھینکیں گی؟ خدارا اب بھی دیر نہیں ہوئی! سمیٹ لے خود کو ! کہ اسی میں تیرا بھلا ہے، اسی میں تیرا احترام، اسی میں تیرا وقار اور اسی میں تیرا مقام ہے۔ وہ مقام جو تیری نادانیوں کے باعث تیرے ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا ہے۔