ادرک میں چھپا سردی کا علاج

تحریر : سارہ خان


سردیوں کا آغاز ہوتے ہی بچے بڑے سبھی نزلہ،زکام ،کھانسی اور بخار کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔گھر میں کوئی ایک بیمار ہو جائے تو چھوت کی طرح جراثیم ایک سے دوسرے میں منتقل ہونے لگتے ہیں اور سبھی کو چند دن کے لیے کوئی نہ کوئی بیماری ضرور لگتی ہے

اس کی ایک بڑی وجہ تو موسمی تبدیلی ہوتی ہے،لیکن آج کل کورونا سے خوفزدہ لوگ بخار اور کھانسی سے زیادہ پریشا ن رہنے لگے ہیں۔گلے میں ذرا سی خراش محسوس ہوتے ہی دل میں ہزار طرح کے واہمے پیدا ہونے لگتے ہیں۔بیماری کے اس ماحول میں دل میں ڈر پیدا ہونا کوئی ایسی انوکھی بات بھی نہیں،اور لاکھ کوشش کے باوجود موسم تبدیل ہونے پر طبیعت میں ہلکی پھلکی گڑ بڑ ضرور ہوتی ہے۔ایسے میں قارئین کی اسی پریشانی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم نے عام موسمی بیماریوں کا علاج آپ کے گھر میں موجود ایک سستی اور آسانی سے دستیاب سبزی میں رکھا ہے۔جس کا استعمال نہ صرف بیماری دور کرنے کے لیے بلکہ کھانوں کی لذت اور افادیت بڑھانے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ہمارے کھانوں میں روزانہ شامل ہونے والی ادرک میں صحت کے کیسے کیسے خزانے پوشیدہ ہیں اور اس سے مختلف بیماریوں کا علاج کس طرح ممکن ہے آئیے اس کے بارے میں آپ کو تفصیل سے بتائیں۔

ادرک میں سوزش رفع کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔اس کی مدد سے جہاں آپ گلے کی خراش سے نجات پا سکتے ہیں وہیں نزلہ،زکا م میں افاقہ حاصل کرنے کے لیے بھی اینٹی بائیوٹک دوائوں سے کہیں بہتر اس کا استعمال ہے۔اسے استعمال کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اپنے منہ میں ادرک کا اتنا چھوٹا سا ٹکڑا ڈال لیں جو زیادہ کڑوا محسوس نہ ہو اور آسانی سے منہ میں رکھا جا سکے۔اسے آہستہ آہستہ چبانے کی کوشش کریں۔اس سے جو رس نکلے گا وہ یقینا آپ کے منہ کا ذائقہ بھی خراب کرے گا اور کڑواہٹ بھی برداشت کرنی پڑے گی ،لیکن کہتے ہیں نہ کہ ہر کڑوی چیز میں شفا موجود ہے۔اس لیے کوشش کر کے ادرک سے نکلنے والے رس کو نگل لیں تو کچھ دیر بعد ہی آپ کو حلق میں خراش کم محسوس ہونے لگے گی اور درد سے بھی نجات ملے گی۔

نزلہ،زکام اور کھانسی کو شکست دینے کادوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ تازہ ادرک کا تقریباً ڈیڑھ انچ کا لمبا ٹکڑا کاٹ لیں۔اب آپ اسے قاشوں میں تقسیم کر دیں یا سل بٹے پر پیس لیں ،پھر پانی اُبال لیں اور خوب کھولتے ہوئے ایک کپ پانی میں پسی ادرک کو پانچ سے سات منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔اس کے بعد پانی میں سے ادرک کو خوب اچھی طرح نچوڑ کر یا چھلنی کی مدد سے نکال لیں اور پانی میں چاہیں تو حسبِ ذائقہ شہد شامل کر کے پی لیں۔ آپ کو دن بھر میں تین بار آدھا ،آدھا کپ ادرک کا پانی پینا چاہیے۔اس سے نزلہ،زکام میں جلد افاقہ ہو گا اور طبیعت بھی بحال ہو جائے گی۔اس کے علاوہ ادرک کا چٹنی کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ہر ی مرچ،پودینہ ہلکا سا نمک اور ادرک کا چھوٹا ٹکڑا ڈال کر اچھی طرح پیس لیں۔ اسے روزانہ کھانے میں استعما ل کرنے سے سانس،پھیپھڑوں  اور گلے کی کئی بیماریوں سے نجات مل جاتی ہے۔بھوک کم لگنے کی صورت میں بھی ادرک کا استعمال بہترین مانا جاتا ہے۔ پیٹ کا درد اور اپھار ہ دور کرنے کے لیے ادرک اپنی غذا میں لازمی شامل کریں۔ ادرک سے معدہ کئی بیماریوں سے پاک رہتا ہے۔

ایک چھوٹا ٹکڑا ادرک اور اس میں سات لونگ شامل کر کے دو کپ پانی ملا لیں۔پانی کو اتنا پکائیں کہ آدھا کپ رہ جائے۔اس کے بعد چھان کر چٹکی بھر نمک شامل کر کے دو سے تین گھونٹ قہوہ پی لیں اور باقی پانی کے غرارے کر لیں۔آپ کو گلے کی کئی بیماریوں سے نجات مل جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید الاضحیٰ قربانی تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ

بارگاہ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ جد الانبیاء حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں حضرت آدم ؑ کے بیٹوں ہابیل و قابیل کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے کہ دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کی، ہابیل نے عمدہ دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار یعنی غلہ پیش کیا۔ قربانی کا عمل ہر اُمت میں مقرر کیا گیا،

قربانی صرف رسم نہیں، ایک عظیم عبادت

اپنی نفسانی خواہشات ذبح کرنے کے نکتۂ نظر سے جانور قربان کریں، نمائش کیلئے نہیں

عیدالاضحیٰ پر رسول اللہ ﷺ نے قربانی کیسے کی؟

حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ !یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے صحابہ کرامؓ ؓنے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ان قربانیوں کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟ فرمایا ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ عرض کیا اوراون (جن جانوروں میں بال کے بجائے اون ہوتی ہے۔ ان سے ثواب کس طرح ہوگا) آپﷺ نے فرمایا ! اون کے بھی ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ (ابن ماجہ)

فلسفہ قربانی تاریخی، اسلامی اور معاشی حیثیت

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قوم میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ ؑ کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام نے قربانی کا حقیقی مقصد اور صحیح فلسفہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔

حج:دین و اسلام کی عظمت و شوکت اور اتحادِ اُمت کا عظیم اجتماع

حج اسلام کے پانچ ارکان میں آخری رکن ہے، اس میں اللہ تعالیٰ سے محبت اور عظمت کی تکمیل اور عبدیت و فناعیت کی تصویر ہے

خطبہ حجۃ الوداع

احکامِ الٰہی اور حقوقِ انسانی کا جامع منشور:خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کی عظمت احترام اور حقوق پر مبنی ابدی تعلیمات اور اصول عطا کئے