سچائی ،مسلمانوں کی اہم خوبی
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’ جب چار عادات تمہارے اندر پیدا ہوجائیں تو دنیا کی پریشانیاں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، وہ چار عادات یہ ہیں امانت داری ، صدق ،حسن خلق اور حلال رزق‘‘
اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کو جن خطوط پر چلنے کا حکم دیا ہے، ان میں سے ایک صدق بھی ہے ۔ صدق وسچائی اللہ تعالیٰ،انبیائے کرام علیہم السلام، بالخصوص خاتم الانبیاءﷺ ، ملائکہ ، اولیاء و صلحاء اور ہر منصف مزاج سلیم الفطرت شخص کا درجہ بدرجہ مشترکہ وصف ہے۔اپنی اہمیت کے حوالے سے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر انسان خواہ وہ مومن ہو یا کافر، مسلم ہو یا غیر مسلم ، نیک ہو یا بد ،حاکم ہو یا رعایا،افسر ہو یا ملازم ، قائد ہو یا کارکن ، استاد ہو یا شاگرد ، پیر ہو یا مرید ، امیر ہو یا غریب، اپنا ہو یا پرایا ، والدین ہوں یا اولاد الغرض زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
انسانی معاشرے کا امن و سکون ، راحت و چین اور اس کی تعمیر و ترقی کی بنیاد صدق پر ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات میں اس کی فضیلت اور ضرورت روزروشن کی طرح واضح ہے۔صدق کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ یہ صرف قول کی سچائی پر منحصر نہیں بلکہ قول کے ساتھ ساتھ فعل اور اعتقاد میں بھی سچائی شامل ہے۔ چند آیات قرآنیہ کامفہوم پیش خدمت ہے :
سورۃ النساء آیت نمبر69 میں مذکورہ4 طبقات کا خصوصی طور پر تذکرہ موجود ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے خود انعام یافتہ قرار دیا، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے،
ترجمہ:’’جوشخص اللہ کی اطاعت کرے گا اور رسول(ﷺ) کی اطاعت کرے گا تو وہ (آخرت میں ) ان کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا او روہ انبیاء ،صدیقین ، شہداء اور نیک لوگ ہیں۔‘‘
سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 119 میں روز قیامت صدق کی وجہ سے جنت ملنے کا ذکر ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے،
ترجمہ: ’’آج (قیامت)کے دن صادقین کو ان کا صدق نفع اور فائدہ دے گا ،ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ اس خلد بریں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘
سورۃ الاحزاب کی آیات 22تا24میں قول و قرار کے سچے لوگوں کی مدح و توصیف بیان کرتے ہوئے کہا گیا،ترجمہ:’’ اور جب اہل ایمان نے(کفار کی) فوجوں کو دیکھا تو کہنے لگے :یہ تو وہی ہے جس کا اللہ اور اسکے رسول(ﷺ) نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا، بالکل سچ کہا اللہ اور اسکے رسول (ﷺ) نے ان کے ایمان اور اطاعت میں مزید پختگی آئی، ایمان والوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے اپنے عہد کو سچ کر دکھلایا جبکہ کچھ ان میں پورا کرچکے اور کچھ ابھی انتظار میں ہیں اور ذرہ برابر بھی تبدیل نہیں ہوئے، تاکہ اللہ صادقین کو ان کے صدق کی وجہ سے جزا و انعام عطا کرے۔ ‘‘
فرامین خدا کی طرح فرامین رسول اللہ ﷺ میں بھی صدق کے بہت سے فضائل و مناقب مذکور ہیں۔اسے دل کا اطمینان ، دنیوی و اخروی نجات کا وسیلہ ، حصول جنت کا سبب ، خدا کی خوشنودی و رضا کا باعث ، مال میں برکت اور خیر کا ذریعہ جبکہ شرمندگی ، ندامت ، پچھتاوے ، ہلاکت اور جہنم سے بچائو کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’صدق ایسا عمل ہے جو نیکی کی راہ پر چلاتا ہے اور نیکی والا راستہ سیدھا جنت جاتا ہے اور بے شک آدمی سچ بولتا رہتا ہے بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ صدیق بن جاتا ہے، اور جھوٹ ایسا عمل ہے جو برائی کی راہ پر چلاتا ہے اور برائی والا راستہ سیدھا جہنم جاتا ہے اور بے شک جب کوئی آدمی جھوٹ کی عادت ڈال لیتا ہے وہ جھوٹ بولتا رہتا ہے بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم )۔
حضرت حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :’’خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک معاملہ ختم کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہوجائیں، اگر ان دونوں نے اس چیز کے بارے سچ بولا اور اس چیز کی حقیقت صحیح صحیح بیان کردی یعنی اگر کوئی عیب وغیرہ تھا بھی سہی تو وہ بتلا دیا تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اگر وہ جھوٹ سے کام لیں تو اس چیز سے برکت ختم کر دی جاتی ہے ۔ ‘‘ (صحیح بخاری)۔
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’ جب چار عادات تمہارے اندر پیدا ہوجائیں تو دنیا کی پریشانیاں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ وہ چار عادات یہ ہیں امانت داری ، صدق ،حسن خلق اور حلال رزق۔‘‘(مسند احمد)۔
ایک اور روایت بھی حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے ہی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یارسولؐ اللہ ! کوئی ایسا عمل بتلائیں جس کی وجہ سے جنت مل جائے۔ آپﷺنے فرمایا ’’صدق۔ کیونکہ صدق کو اختیار کرنے والا شخص نیک ہے اور نیکی کرنے والا پرامن ہے اور پرامن رہنے والا جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ اس شخص نے پوچھا ، یارسول اللہ (ﷺ) ایسے عمل کی نشان دہی بھی فرما دیں جس کی وجہ سے انسان مستحقِ دوزخ بنتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جھوٹ۔ کیونکہ جھوٹا شخص گناہگار ہے اور گناہ کرنے والا نافرمان ہے اور نافرمانی کرنے والا جہنم جائے گا۔‘‘(مجمع الزوائد و منبع الفوائد)۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’ تمہارے اوپر صدق لازم ہے کیونکہ وہ نیک اعمال میں سے ایک عمل ہے اور وہ دونوں یعنی صدق اور نیک عمل جنت میں داخلے کا سبب ہیں اور تم جھوٹ سے بچو کیونکہ یہ گناہوں میں سے ایک گناہ ہے اور وہ دونوں یعنی جھوٹ اور گناہ دونوں جہنم میں داخلے کا سبب ہیں۔‘‘ (موارد الظمائن الی زوائد ابن حبان)۔
افسوس کی بات ہے کہ آج کل جھوٹ ایک فیشن بن چکا ہے۔معاشرے سے صدق و سچائی کی اہمیت کم ہو رہی ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اس گناہ کا احساس مر تاجا رہا ہے حالانکہ یہ ایسا عمل ہے جس سے پورا معاشرہ بے سکونی اور رزق کی تنگی میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے۔
اللہ کریم ہم سب کو سچائی کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین