فاتح عرب وعجم فاروق اعظمؓ، اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرمایا ۔ حدیث رسول ﷺ
خلیفۂ دوم حضرت عمر بن خطابؓ کا اسم مبارک عمر اور لقب فاروق ہے۔ آپ ؓکے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی انہیں حوصلہ ملااور اسلام کی قوت میں اضافہ ہوا۔ حضرت علی ؓفرماتے ہیں کہ جس کسی نے ہجرت کی چھپ کر کی مگر حضرت عمر ؓمسلح ہو کر خانہ کعبہ میں آئے اور کفار کے سرداروں کو للکارا اور فرمایا کہ جو اپنے بچوں کو یتیم کرنا چاہتا ہے وہ مجھے روک لے۔ حضرت عمرؓ کی زبان سے نکلنے والے الفاظ سے کفار مکہ پر لرزہ طاری ہو گیا اور کوئی مد مقابل نہ آیا۔ ہجرت کے بعد آپ ؓنے جان و مال سے اسلام کی خوب خدمت کی۔ آپ ؓنے اپنی تمام زندگی اسلام کی خدمت کرنے میں گزار دی۔ آپؓ نے تمام اسلامی جنگوں میں مجاہدانہ کردار ادا کیا اور اسلام کے فروغ میں حضور اکرمؐ کے رفیق رہے۔
حضرت فاروق اعظم ؓ کامقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ آپؓ کی فضیلت میں بہت سی احادیث موجود ہیں۔ سرکار دو عالمﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ ’’میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتے تو عمر ہوتے۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف ص558) مذکورہ بالا حدیث مبارکہ سے یہ واضح ہوا کہ حضور اکرمﷺ آخری نبی ہیں آپﷺ پر نبوت و رسالت ختم ہو چکی۔ اب قیامت تک کوئی بھی نبی اور رسول نہیں آئیگا۔ جو اس واضح حقیقت کے باوجود دعویٰ نبوت کرے یا جو کوئی کسی کو نبی یا رسول مانے وہ ملعون کذاب کافر و مرتد ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا۔ ’’بے شک میں نگاہ نبوت سے دیکھ رہا ہوں کہ جن کے شیطان اور انسان کے شیطان دونوں میرے عمر کے خوف سے بھاگتے ہیں۔‘‘ (مشکوٰ ۃشریف ص558 ) ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد ﷺنے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرما دیا۔‘‘ (بحوالہ مشکوٰۃ شریف صفحہ557)
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروق ؓاسلام لائے تو حضرت جبرائیل ؑ حضور اکرم ﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یارسولؐ اللہ !آسمان والے عمر کے اسلام پر خوش ہوئے ہیں۔ ( ابن ماجہ بحوالہ برکات آل رسول صفحہ 291 )
ایک مرتبہ سرور کونین ﷺجبل احد پر تشریف لے گئے اس موقع پر پہاڑ میں کچھ حرکت سی پیدا ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا’’اے احد ٹھہر جا اس وقت تیرے اوپر ایک نبی ؐ ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔‘‘
سنہری کارنامے
فاروق اعظم ؓکے سنہری کارناموں سے تاریخ اسلام کا چہرہ دمک رہاہے عدل و انصاف کے باب میں آپؓ کا کوئی ثانی نہیں آپ ؓکے عالی اطوار ، شاندار کردار اور قابل رشک معاملات سے غیر مسلم بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔آپؓکے دسترخوان پر کبھی دو سالن نہیں ہوتے تھے، سفر کے دوران نیند کے وقت زمین پر اینٹ کا تکیہ بنا کر سو جایا کرتے ، آپ ؓکے کُرتے پر کئی پیوند رہا کرتے موٹا کھردرا کپڑا پہنا کرتے، باریک ملائم کپڑے سے نفرت تھی۔آپ ؓجب بھی کسی کو گورنر مقرر کرتے تو تاکید کرتے کہ کبھی ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھنا، باریک کپڑا نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی پر دروازہ بند نہ کرنا ۔ آپ ؓکا ماننا تھا کہ عادل حکمران بے خوف ہو کر سوتا ہے ۔آپؓ کی سرکاری مہر پر لکھا تھا’’ عمر ! نصیحت کیلئے موت ہی کافی ہے۔‘‘
آپؓ کا ماننا تھا کہ ظالم کو معاف کرنا مظلوم پر ظلم کرنے کے برابر ہے اور آپ ؓکا یہ قول آج دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کیلئے چارٹر کا درجہ رکھتا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں تم نے کب سے انہیں غلام بنا لیا؟ آپ ؓکے عدل کی وجہ سے رسول اللہﷺنے آپؓ کو فاروق کا لقب دیا اور آج دنیا میں عدل فاروقیؓ ایک مثال بن گیا ہے۔حضرت عمر فاروق ؓ شہادت کے وقت مقروض تھے چنانچہ وصیت کے مطابق آپؓ کا مکان بیچ کر آپؓ کا قرض ادا کیا گیا۔آپ ؓ راتوں کو اٹھ اٹھ کر پہرا دیتے اور لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے ۔ کہاکرتے تھے’’ اگر فرأت کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن مجھ سے اس بارے میں پوچھ ہو گی ۔‘‘
حضرت عمر فاروق ؓ نے دنیا کو ایسے ایسے نظام دئیے جو آج تک تک کسی نہ کسی شکل میں پوری دنیا میں رائج ہیں۔دینی فیصلوں میں آپؓ نے فجر کی اذان میں الصلوۃ خیر من النوم کا اضافہ فرمایا، آپؓ کے عہد میں با قاعدہ تراویح کا سلسلہ شروع ہوا، شراب نوشی کی سزا مقرر ہوئی اور سنہ ہجری کا آغاز ہوا، مؤذنوں کی تنخواہ مقرر کی اور تمام مسجدوں میں روشنی کا بندوبست فرمایا ۔دنیاوی فیصلوں میں آپؓ نے ایک مکمل عدالتی نظام تشکیل دیا اور جیل کا تصور دیا، آبپاشی کا نظام بنایا، فوجی چھائونیاں بنوائیں اور فوج کا باقاعدہ محکمہ قائم کیا۔آپؓ نے دنیا بھر میں پہلی مرتبہ دودھ پیتے بچوں، بیوائوں اور معذوروں کیلئے وظائف مقرر کیے ۔
ایک دفعہ آپؓ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد گھر آئے اور کسی کام میں لگ گئے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگاامیر المومنین آپؓ فلاں شخص سے میرا حق دلوا دیجئے آپؓ کو بہت غصہ آیا اور اس شخص کو ایک درا پیٹھ پر مارا اور کہا، جب میں دربار لگاتا ہوں تو اس وقت تم اپنے معاملات لے کر آتے نہیں اور جب میں گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتا ہو ں تو تم اپنی ضرورتوں کو لے کر آ جاتے ہو۔بعد میں آپؓ کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا تو بہت پریشان ہوئے اور اس شخص کو (جسے درا مارا تھا ) بلوایا اور اس کے ہاتھ میں درا دیا اور اپنی پیٹھ آگے کی کہ مجھے درا مارو میں نے تم سے زیادتی کی ہے ۔وقت کا بادشاہ ایک عام آدمی سے کہہ رہا ہے میں نے تم سے زیادتی کی مجھے ویسی ہی سزا دو ۔ اس شخص نے کہا میں نے آپ ؓکو معاف کیاآپ ؓ نے کہا نہیں نہیں کل قیامت کو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا تم مجھے ایک درا مارو تا کہ تمہارا بدلہ پورا ہو جائے۔
خلافت فاروق اعظمؓ پر ایک نظر
آپؓنے حضرت ابو بکرؓ کے بعد 10 سال 6 ماہ 10 دن تک22 لاکھ مربع میل زمین پر اسلامی خلافت قائم کی ۔ آپ ؓ کے دور میں 3600 علاقے فتح ہوئے ۔ قیصر و کسریٰ دنیا کی2 بڑی سلطنتوں کا خاتمہ آپ ؓکے دور میں ہوا۔ فتوحات عراق ، ایران ،روم ، ترکستان اور دیگر علاقوں پر اسلامی عدل کا پرچم لہرانا آپؓکا بے مثال کارنامہ ہے ۔آپؓ کے زریں اور درخشندہ عہد پر کئی غیر مسلم بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔حقیقت میں آنحضرت ﷺ کے آفاقی دین کو تعمیرو ترقی کے اوج ثریا پر پہنچانے اور دنیا بھر میں اسلام کی سطوت و شوکت کا سکہ بٹھانے کا سہرا حضرت فاروق اعظم ؓکے سر ہے ۔
یکم محرم الحرام کودس سال چھ ماہ اور چار دن مسلمانوں کی خلافت کے امور انجام دینے کے بعد آپؓ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپؓ کی تدفین ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓکی اجازت سے حضور اکرمﷺکے پہلو میں ہوئی آپؓ کی نمازجنازہ حضرت صُہیب ؓ نے پڑھائی۔