مسائل اور ان کا حل

تحریر : مفتی محمد زبیر


تاحیات خود اور بیٹے کے مکان میں رہنے کی شرط کے ساتھ مکان وقف کرناسوال :کیاکہتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں مسمی شبیرشاہ ولدمختہ پیرشاہ اپنی زندگی میں بحالت صحت اپنا ذاتی مملوکہ مکان ایک مدرسہ کووقف کرناچاہتاہوں ،لیکن میری شرط یہ ہے کہ جب تک میں حیات ہوں میں اسی میں رہوں گا اوراسی طرح جب تک میراسب سے چھوٹا بیٹا جاوید شاہ حیات ہے وہ بھی اسی میں رہے گالیکن میرابیٹانہ اسے کرایہ پردے سکتا ہے نہ بیچ سکتاہے،پھرہم دونوں کے بعداس مکان کاقبضہ مدرسہ کو دیدیاجائے گا۔اب آپ حضرات سے گذارش ہے کہ شرعی طورپررہنمائی فرمائیں کہ اس طرح مکان کے وقف میں تاحیات اپنی اوراپنے بیٹے کی رہائش کی شرط لگانادرست ہے؟ اوراس شرط کے ساتھ شرعاً یہ مکان فی الحال وقف ہوجائے گا ؟ مستفتی:شبیرشاہ ولدمختہ پیرشاہ،سعیدآبادبلدیہ ٹاؤن کراچیجواب:صورت مسئولہ میں آپ کیلئے مذکورہ مکان وقف کرتے وقت اس میں تاحیات اپنی اوراپنے مذکورہ بیٹے کے رہنے کی شرط لگانا شرعاً جا ئز ہے ،اس سے وقف کی صحت پرکوئی اثرنہیں پڑے گا۔تاہم نفس وقف اس شرط کے ساتھ جائزہے کہ آپ کے ورثاء غنی ہوں اوروقف سے ان کومحروم کرنامقصودنہ ہوبلکہ ثواب کا ارادہ ہویااس مکان کے علاوہ آپ کی کوئی اورجائیدادبھی ہو ۔ (مزیدتفصیل کیلئے دیکھئے: احسن الفتاویٰ۶؍۴۱۲،۴۱۹)واضح رہے کہ آپ بحالت صحت مذکورہ شرط کے ساتھ جیسے ہی اپنامکان وقف کریں گے توزبانی یاتحریری وقف کرتے ہی یہ مکان مدرسہ کیلئے شرعاًوقف ہوجائیگاجس کے بعداسے فروخت کرنے یاکسی کوگفٹ کرنے کااختیارنہ آپ کواورنہ آپ کے مذکورہ بیٹے کوزندگی میں ہو گا اور نہ آپ دونوں کے بعدآپ کے ورثاء کوہوگا،تاہم حسب شرط آپ اورآپ کا مذکورہ بیٹااس میں تاحیات رہائش اختیارکرسکیں گے اورآپ دونوں کے بعد اس مکان کاعملی قبضہ مدرسے کو دیناآپ کے ورثاء پر شرعاً لازم ہوگا۔نیزاگرآئندہ وقف کے ضیاع کااندیشہ ہوتوقانونی توثیق کیلئے وقف نامہ سرکاری طور پر رجسٹرڈ کرا لیناچاہئے۔فی الدر المختار (4؍384) (وجازجعل غلۃ الوقف )

کار اور موٹرسائیکل پر زکوٰۃ دینے کا معاملہ

سوال: ہمارے گھرمیں ہمارے گھر کے استعمال کیلئے 4موٹر سائیکلیں اور کار بھی ہے۔ آپ سے یہ پوچھناچاہتاہوں کہ آیا ان چیزوں کی زکوٰۃ بھی دینی ہوتی ہے؟(محمد امین، ملتان )

جواب:چونکہ یہ چیزیں آپ نے اپنے استعمال کیلئے رکھی ہیں ۔ تجارتی نیت سے آگے فروخت کیلئے نہیں رکھیں اس لئے ان اشیا ء پر زکوٰۃ نہیں۔

لفظ حرام سے طلاق کا مسئلہ 

سوال :میری اپنی بیوی سے کسی بات پرلڑائی ہوئی میں نے لڑئی کے دوران اسے کہا کہ ’’ تم مجھ پرحرام ہو‘‘جسکے بعد میری بیوی نے اپنے میکے والوں کو بلا لیا اور ان کو کہا کہ اس نے مجھے طلاق دیدی ہے میرے سسر نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ جیسے تم سمجھو ۔اس صورت میں کیا ہو گا؟ شرعاً آگاہ فرمائیں ۔ (نصیر الدین ،چشتیاں )

جواب :صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی پرایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے نکاح ختم ہو گیا اب رجوع جائزنہیں ۔ تاہم اگر آپ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا چاہیں تو2گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر پر نیا نکاح کرکے اکٹھے رہ سکتے ہیں نیزآئندہ آپ کوصرف 2 طلاقوں کا اختیار ہو گااس لئے احتیاط کی جائے ۔فی ردالمحتار (3؍302) فالکنایات لاتطلق بھاقضاء الابنیۃ اودلالۃ الحال۔۔۔وفی قول اخرجی واذھبی تلزم النیۃ۔ فی الھندیۃ (1؍472) اذاکان الطلاق بائناً دون الثلاث فلہ ان یتزوجھافی العدۃوبعدانقضائھا۔

 واضح رہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ آپ نے مذکورہ الفاظ سے قبل یابعد کبھی کوئی زبانی یاتحریری الفاظ طلاق کے استعمال نہ کئے ہوں بصورت دیگریہ حکم نہیں ہوگاایسی صورت میں تفصیل لکھ کرمسئلہ دوبارہ معلوم کرلیاجائے۔

زندگی میں علیٰحدہ ہوجانے والے بیٹے کی میراث کا معاملہ

سوال :زیدکے8بیٹے اور4بیٹیاں ہیں جبکہ زیدکی متروکہ زمین 80مرلے ہے ،ان 8بھائیوں میں سے ایک بھائی زیدکی زندگی میں ہی گاؤں سے کراچی آگیاتھا،اب زید کا انتقال ہو چکا ہے ۔ دیگر بھائیوں نے زمین 7حصوں میں تقسیم کردی اور کراچی والے بھائی سے کہاکہ آپ کاحصہ اس زمین میں نہیں بنتا،کیونکہ آپ والدکی موجودگی میں مستقل طورپرکراچی چلے گئے تھے۔توکیازیدکے کراچی والے بیٹے کاحصہ اس جائیدادمیں بنتاہے یا نہیں؟جبکہ جرگے نے بھی حصہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جواب عنایت فرمائیں ۔ (محمداسحٰق بن محمدشاہ) 

جواب :صورت مسئولہ میں مرحوم والدکی وراثت میں ان کے تمام بیٹے بیٹیاں شرعی طورپروراثت کے حقدارہیں،کسی کوبھی محروم کرنا شرعاً جائز نہیں۔محروم کرنے پرحدیث شریف میں سخت وعیدآئی ہے ،لہٰذاکراچی والے بھائی کا بھی اتناہی حق ہے جتنادوسرے بھائیوں کاہے۔( فی مشکوٰۃ المصابیح)

حضرت سعیدبن زیدؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جوشخص کسی کی بالشت بھرزمین بھی ازراہ ظلم لے گاقیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طورپرڈالی جائے گی ۔‘‘

فی تکملۃ ردالمحتار(7؍505)الارث جبری لایسقط بالاسقاط۔وفی ردالمحتار(6؍773)اولیھم بالمیراث جزء المیت ای البنون۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

یومِ مزدوراور اسلامی تعلیمات

’’اپنے ہاتھ سے روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے‘‘(طبرانی) کسی نے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھایا (صحیح بخاری) آپ ﷺ نے فرمایا تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن میں خود جھگڑوں گا، ان میں سے ایک وہ ہو گا جس نے کسی سے کام کروایا، کام تو اس سے پورا لیا مگر اسے مزدوری پوری ادا نہ کی (صحیح بخاری)

توکل علی اللہ: ایمان کی اصل روح

’’مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے‘‘ (آلِ عمران: 160) ’’پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیا کریں، بیشک اللہ توکّل والوں سے محبت کرتا ہے‘‘(آل عمران )

حلال کمائی :دنیا و آخرت کی کامیابی

’’حلال مال کا طلب کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی: 8610) اپنے کھانے کو پاک کرو! جب کوئی شخص حرام کا لقمہ پیٹ میں ڈالتا ہے تو 40 دن تک اللہ تعالیٰ اُس کا عمل قبول نہیں کرتا‘‘ (حدیث مبارکہ)

مسائل اور ان کا حل

سوتیلی دادی کے بیٹوں سے پردہ سوال:ایک آدمی نے بیوہ عورت سے نکاح کیا جس کے پہلے شوہر سے بیٹے ہیں۔ اس شخص کی پوتی سوال کرتی ہے کہ کیا میرا سوتیلی دادی کے بیٹوں سے پردہ ضروری ہے؟

آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا

امریکہ اور ایران میں سیز فائر تو جاری ہے مگر غیر یقینی صورتحال دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے جنگ بندی کے اثرات عالمی مارکیٹس تک پہنچنے نہیں دیئے۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخاب، تاخیر کیوں ؟

سلگتے عوامی مسائل اور مہنگائی کے رجحان پر جوابدہ کون؟