نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی کااجلاس آج 10بجےہوگا
  • بریکنگ :- عبدالقدوس بزنجوایوان میں اکثریت ثابت کرکےاعتمادکاووٹ لیں گے
  • بریکنگ :- عبدالقدوس بزنجوکو 65کےایوان میں 33ارکان کی حمایت درکارہے
  • بریکنگ :- عبدالقدوس بزنجواعتمادکاووٹ لینےکےبعدایوان سےخطاب کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ: 4بجےگورنرہاؤس میں تقریب حلف برداری ہوگی
  • بریکنگ :- گورنربلوچستان ظہورآغانومنتخب وزیراعلیٰ سےحلف لیں گے
Coronavirus Updates

لکڑہارے کی ایمانداری (آخری قسط)

خصوصی ایڈیشن

تحریر : عشاء مقبول


بیوی کوستے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ کیسی جڑی بوٹیاں اٹھا کر لے آئے ہو اور ان کا کیا کرو گے۔؟ لکڑہارے نے بیوی کی سنی ان سنی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو کھرل میں ڈال کر کوٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن صبح سویرے وہ دوائیں لے کر بازار کی طرف چلا گیا اور آوازیں لگانے لگا کہ اس کے پاس ہر قسم کے مرض کی دوا موجود ہے، ہر نئے پرانے مرض کا شرطیہ علاج ہے، اپنا مرض بتائیں مجھ سے دوا لیں اور شفایاب ہوجائیں۔ لوگ اس کی آوازیں سن کر ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے ۔ لکڑہارا بدستور آوازیں نکالتا رہا ۔اچانک ایک عورت روتی ہوئی اپنی بیٹی سمیت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی بیٹی پیٹ درد کی وجہ سے مرے جا رہی ہے اور اس کا درد کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوا۔

لکڑہارے نے اس بوڑھی خاتون سے کہا کہ میری دوا اپنی بیٹی کو کھلاؤ وہ صحتیاب ہو جائے گی۔ بوڑھی عورت نے کہا اس کا علاج تو بڑے بڑے حکماء بھی کرنے سے قاصر رہے، تمہاری دوا کیا خاک کام کرے گی۔ لیکن لکڑہارے نے بڑے پر اعتماد طریقے سے اس بچی کو پانی کے ساتھ دوا کھلا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے بچی کا درد غائب ہوگیا۔ یہ دیکھ کر وہ بڑھیا بہت خوش ہوئی اور بہت حیران بھی۔ یہ سارا ماجرا دیکھنے کچھ لوگ بھی اکٹھے ہوگئے تھے جس پر سب حیران ہوئے۔ بڑھیا نے لکڑہارے سے دوا کی قیمت پوچھی تو لکڑہارے نے کہا ’’صرف تین روپے۔‘‘

بڑھیا کو اور باقی تمام لوگوں کو اس دوا کی اتنی کم قیمت سن کر بہت تعجب ہوا۔ بڑھیا نے شکریہ کے ساتھ تین روپے ادا کردیئے۔

 لوگوں میں لکڑ ہارے کا بطور معالج چرچا ہو گیا۔ جوق در جوق مریض آتے اور سستا علاج کرواتے ۔جوں جوں لکڑہارے کی دوا مشہور ہوتی گئی لوگ زیادہ آنے لگے۔

 لکڑ ہارا روزانہ وقت نکال کر جنگل جاتا اور حسبِ ضرورت اسی درخت کے پتے اور دیگر جڑی بوٹیاں لاتا اور گھر میں پیس کر دوا تیار کرنے کے بعد مریضوں کا علاج کرتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے لکڑ ہارا امیر ہونے لگا ۔ اب تو غریب لوگوں کی مالی مدد بھی کرنے لگا۔

ایک روز ایک خوبرونو جوان لکڑہارے کے پاس دوا لینے آیا۔ لکڑ ہارے نے حسبِ معمول بہت کم قیمت پر اُسے دوا دی تو وہ آدمی بہت خوش ہوا اور پوچھنے لگا کہ کیا تم نے مجھے پہچانا؟ لکڑہارا اسے تجسس سے دیکھنے لگا لیکن پہچان نہیں پایا ۔ کہنے لگا ’’نہیں میں نہیں جانتا ،آپ کون ہو۔‘‘ اس آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں وہی آدمی ہوں جس نے تمہیں اُس درخت سے متعارف کروایا تھا جس کی تم آج دوا بنا کر بیچتے ہو۔  میں بہت خوش ہوں کہ تم نے ایمانداری سے یہ کام  شروع کیا  اور لوگوں سے پیسے بھی بہت کم لیتے ہو۔ لکڑہارا حیران تھا کہ اس کی تو عجیب و غریب، ڈراؤنی اور پراسرار شکل تھی اور آج عام انسان جیسا خوبصورت نوجوان ہے۔ لکڑہارے نے دریافت کیا کہ پہلی ملاقات میں آپ کی شکل ڈراؤنی کیوں تھی؟ وہ آدمی ہنسنے لگا اور بتانے لگا کہ وہ دراصل ہیون نگر کا شہزادہ ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ اور اس کا بھائی گیندسے کھیل رہے تھے کہ ان کی گیند جھاڑیوں میں گر گئی اور جب وہ اُسے لینے گئے تو وہاں ایک بزرگ بیٹھے نظر آئے جو عبادت میں مصرف تھے۔ دراصل ہماری گیند غلطی سے ان کو جا لگی تھی جس سے ان کی عبادت میں خلل پڑگیا تھا۔ میں تو بچہ تھا اور بہت شرارتی بھی تھا۔ گیند لینے گیا تو ان بزرگ کی ناگواری پہ میں بد تمیزی سے پیش آیا اور ساتھ ہی انھیں ٹھوکر بھی مار دی۔ اِس وجہ سے انہوں نے مجھے بد دعا دی اور میری شکل بگڑ گئی۔

شکل بگڑنے کے بعد میں انتہائی پریشانی کے عالم میں ان سے معافی طلب کرنے لگا لیکن بزرگ  نے ایک شرط رکھی کہ یہ تب ہی ممکن ہے کہ تم اچھائی بانٹتے رہو اور مخلوقِ خدا تم سے خائف نہ ہو ۔ کوئی ایسا کام کرو جس سے مخلوق مستفید ہو۔ مجھے اِس درخت کے بارے میں اپنے اجداد کے تحقیقی مواد سے معلوم ہوا تھا کہ اس میں ہر بیماری کی  شفا ہے۔میری بدصورتی کی وجہ سے کوئی انسان میرے قریب ہی نہیں 

 آ تاتھا کہ میں یہ اچھا کام کر کے اپنی سزا کا مداوا کر سکوں۔ جو بھی مجھے دیکھتا ڈر کے بھاگ کھڑا ہوتا۔ میں نے اس سزا کی قید میں برسوں گزار دیئے ۔تب جا کر تم سے میری ملاقات ہوئی ، یوں تمہاری ایمانداری کی وجہ سے اس بد دعا کا اثر ختم ہوا اور دوبارہ میری انسانی شکل بحال ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اجازت طلب کی اور رخصت ہوگیا۔

بعد میں لکڑہارا اپنی ایمانداری کی وجہ سے امیر سے امیر تر ہوتا گیا اور لوگوں کا بہت قلیل رقم سے علاج کرتا رہا اور عیش و عشرت اس کے قدم چومنے لگی۔ تب سے لکڑہارے کی بیوی بھی اس کے ساتھ خوش رہنے لگی اور اس کو عزت سے پکارنے لگی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کے وفاق پر اثرات

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے استعفے کے ساتھ ہی ملک میں سیاسی چہ مگوئیوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ خاص طور پر اس حوالے سے اسلام آباد میں ہر طرف اب ایک ہی موضوع زیر بحث ہے اور وہ یہ کہ کیا بلوچستان میں اس تبدیلی کی ہوا کا وفاق پر بھی کچھ اثر پڑے گا ؟ کیا اب حزب اختلاف کی جماعتیں خاص طور پرن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی تبدیلی کی ہوا سے کچھ فائدہ اٹھانے کیلئے کسی متفقہ لائحہ عمل کا سوچ سکتی ہیں؟پیپلزپارٹی تو شروع سے ہی ن لیگ کو تجویز دیتی رہی ہے کہ وہ پنجاب میں سردار عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائیں۔ اگر پنجاب میں کامیابی ملتی ہے تو اس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھی ایسی ہی تحریک لائی جا سکتی ہے۔ اگر پنجاب تحریک انصاف کے ہاتھوں سے جاتا ہے تو وفاق کا ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا۔ اگر پنجاب اور وفاق میں بلوچستان والی صورتحال نہیں بھی بنتی تو کیا جام کمال کے جانے کا کچھ اثر اسلام آباد پر پڑ سکتا ہے؟

شہباز شریف کی پر اسرار ملاقاتیں۔۔حقیقت کیا ہے؟

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایشوز کے حوالے سے وہی پہلی سی کیفیت، وہی ڈیڈ لاک کی کیفیت طاری ہے۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیاں جن کے وجود کا مقصد قومی و عوامی مسائل کے حوالے سے سفارشات اور حکومت کیلئے ان پر عملدرآمد کا موقع ہوتا ہے لیکن اس حوالے سے بھی کوئی سنجیدگی اور یکسوئی نظر نہیں آتی ہے ۔ عام تاثر یہ ہے کہ اگر ایوانوں کے اندر قوم و ملک کو در پیش مسائل اور دیگر خارجی اور داخلی ایشوز پر سیر حاصل بحث ہو تو یقینا مسائل کے حل میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔ سیاسی اتار چڑھائو اور جمہوری امور پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر جمہوریت اور جمہوری عمل کو چلنا ہے تو سیاسی قوتوں کو ہر مسئلہ پر پارلیمنٹ کو بروئے کار لانا ہوگا اور خود اپوزیشن کو بھی پارلیمنٹ کا رخ کرنا پڑے گا۔

حکومت کے خلاف اپوزیشن کی احتجاجی تحریک میں تیزی ۔۔۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تین سال میں اپوزیشن سرتوڑ کوشش کے باوجود جو نہ کرسکی، وہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں نے حالیہ چند روز میں کر دیاہے۔ لگتا ہے اپوزیشن سے زیادہ حکومت اپنے لئے پریشانیاں کھڑی کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اوگرا کی بھیجی جانے والی پانچ روپے فی لیٹر اضافے کی سمری کے برخلاف یکدم 10 روپے49 پیسے اضافے پر عوام حکومت سے شدید ناراض ہے۔ صرف پٹرولیم مصنوعات کی بات نہیں کراچی سے خیبر تک ہوش ربا مہنگائی نے عام آدمی کی مشکلات بے انتہا بڑھا دی ہیں۔ چینی 113 روپے، چکی کا آٹا80 روپے کلو فروخت ہورہا ہے،تین برسوں میں مہنگائی نے 70سال کے ریکارڈ توڑ دیئے، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں۔تین برس میں بجلی کے نرخ میں 57 فیصد اضافہ ہوا، پٹرول کی قیمت میں تین سال میں 49 فیصد اضافہ ہوا، گھی کی فی کلو قیمت 108 فیصد اضافے سے 356 روپے تک پہنچ گئی ہے۔خوردنی تیل کا پانچ لیٹر کا کین 87 فیصد اضافے سے 1783 روپے کا ہو گیا ہے۔ دودھ کی قیمت 130 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ مہنگائی صرف پاکستان کا نہیں عالمی مسئلہ ہے، ساتھ ہی یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ساری ذمہ داری صرف وفاق کی نہیں صوبائی حکومتیں بھی اس کے تدارک کیلئے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کررہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں ہو ں یا گراں فروشی کے خلاف قوانین ،عملدرآمد کہیں بھی نہیں ہورہا اور خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

بلدیاتی انتخابات: سیاسی جوڑ توڑ عروج پر

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مہنگائی میں کمی لانے کیلئے کئی بار اعلان کرچکے ہیں لیکن صوبے کی موجودہ معاشی صورتحال میں ان اعلانات پر عملدرآمد مشکل ہے ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی معاشی ٹیم کی کارکردگی بھی اس حوالے سے کچھ خاص نہیں ۔موجودہ حکومت میں کئی پالیسیاں تو بنائی گئی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ ایک قانون ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کیلئے بھی پاس کیاگیاتھا جس کی بڑی شدومد سے تشہیر بھی کی گئی تھی لیکن اس قانون کے تحت ابھی تک کوئی بڑی کارروائی نہیں کی جاسکی۔ موجودہ حالات میں ذخیرہ اندوزوں کے بھی وارے نیارے ہیں۔ مہنگائی کے باعث نہ صرف وفاقی بلکہ صوبائی حکومت کی بھی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔

عبدالقدوس بزنجو ان۔۔۔جام کمال آوٹ!،آئندہ کیا صورتحال ہوگی!

بلوچستان کا سیاسی بحران آخر کار حل ہو گیا ہے۔جام کمال خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے 13 گھنٹے قبل ہی مستعفی ہو گئے ۔وہی جام کمال خان جو خود اور انکے حامی وزراء و ترجمان بارہا یہ کہتے رہے کہ جام کمال خان کسی صورت عدم اعتماد سے قبل مستعفی نہیں ہونگے اور اس تحریک کاجم کر مقابلہ کرینگے ۔اگر ہم جام کمال خان کے خلاف اس تحریک کی تاریخ پر نظر ڈالیں توبلوچستان میں جاری سیاسی بحران کے آثار سب سے پہلے رواں سال جون میں نمایاں ہوئے تھے۔ جب اپوزیشن اراکین نے صوبائی اسمبلی کی عمارت کے باہر کئی دنوں تک جام کمال خان کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام تھا کہ صوبائی حکومت نے بجٹ میں ان کے حلقوں کیلئے ترقیاتی فنڈز مختص نہیں کئے ۔جس کے بعد یہ احتجاج بحرانی شکل اختیار کر گیا اور بعد میں پولیس نے احتجاج کرنے والے حزب اختلاف کے 17اراکین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

آزاد کشمیر: پی ٹی آئی اندرونی بحران کا شکار!

آزاد جموں و کشمیر میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف میں تقسیم واضح ہوگئی ہے ۔ حکومت پر وزیر اعظم سردار عبدا لقیوم خان نیازی تاحال اپنی گرفت مضبوط نہیں کر سکے۔ کابینہ تقسیم نظر آرہی ہے ۔ سینئر وزیر سردار تنویر الیاس جو کہ پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں وکشمیر کے صد ر بھی ہیں پارلیمانی جماعت میں خاموش اکثریت اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری انوار الحق کو مہاجرین کے ارکان اسمبلی کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے بعض ممبران کی بھی خاموش حمایت حاصل ہے ۔ وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر سردار عبدا لقیوم نیازی میر پور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئر مین کی تعیناتی میں صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے تحفظات کو دور کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ میر پور ،صدر آزاد جموں وکشمیر کا آبائی حلقہ ہے اور اس شہر کے اہم ادارے میں چیئر مین کی تقرری پر ان کو اعتماد میں نہ لینے سے پارٹی کے اندر تقسیم مزید واضح ہو گئی ہے۔