ا ے حمید:کہانی ،ناول اور ڈرامے کی پہچان، قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کا دُکھ محسوس کرتے ہوئے پہلا ناول لکھا

تحریر : ایم آر شاہد


انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے بہت سی کہانیاں اور ناول تحریر کیے ان کا مقبول ترین سلسلہ ’عینک والا جن‘90 ء کی دہائی میں ٹیلی ویژن پر پیش کیا گیا۔، ان کا حافظہ کمال کا تھا، آخری عمر تک اپنی یادداشت پر عبور حاصل رہا

امرتسر کی سر زمین نے بہت سی ایسی صاحب ِکمال شخصیات کو پیدا کیا ہے کہ جن میں علماء کرام ، حکماء ،ڈاکٹرز ، پہلوان ، کھلاڑی ،صحافی ، ادیب شاعر ،سیاستدان اور ماہرین تعلیم قابل ذکر ہیں ۔ ان میں اے حمید سر فہرست ہیں۔

تقسیمِ ہند کے بعد اے حمید پاکستان چلے آئے اور ریڈیو پاکستان میں سٹاف آرٹسٹ کے طور پر ملازم ہوگئے جہاں ان کے فرائض میں ریڈیو فیچر، تمثیل اور نشری تقاریر لکھنا شامل تھا۔رومانوی طرزِتحریر میں وہ کرشن چندر سے متاثر تھے اور ابتدائی کہانیوں کے موضوعات بھی اس اثر سے محفوظ نہیں۔1960 ء کی دہائی میں وہ نوجوانوں کے مقبول کہانی کار اور ناول نگار کا درجہ اختیار کر چکے تھے۔1980ء میں وہ ملازمت سے استعفیٰ دے کر امریکہ چکے گئے جہاں انہوں نے وائس آف امریکہ میں پروڈیوسر کی نوکری اختیار کرلی۔ لیکن ان کی سکون پسند طبیعت کو امریکی شور و غل راس نہ آیا اور وہ ڈیڑھ برس میں ہی لاہور لوٹ آئے۔تیس برس تک وہ ایک فری لانس رائٹر کے طور پر زندگی بسر کرتے رہے۔اس دوران انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے بہت سی کہانیاں اور ناول تحریر کیے لیکن ان کا مقبول ترین سلسلہ 90 ء کی دہائی میں ٹیلی ویژن پر پیش کیا گیا۔بچوں کے اس سلسلہ وار ڈرامے کا نام ’عینک والا جن‘ تھا۔ اس ڈرامے کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ابھی سیزن ختم نہ ہو پاتا تھا کہ دوسرے سیزن کی ڈیمانڈ آنی شروع ہوجاتی تھی۔کہانی، ناول اور ڈرامے کے علاوہ اے حمید نے اردو شاعری اور اردونثر کی تاریخ بھی مرتب کی تھی جس سے ادب کے طالب علم آج تک استفادہ کرتے ہیں۔نوجوانی کے ایام میں انہیں سری لنکا اور برما وغیرہ کی سیاحت کا جو موقع ہاتھ آیا وہ بعد میں ساری عمران کے تخیل کو مہمیز دیتا رہا اور ان علاقوں کے رومانوی ماحول ان کی بہت سی کہانیوں کا موضوع بنا۔اے حمید کی کچھ مقبول عام کتابوں میں پازیب، تتلی، بہرام، بگولے، دیکھوشہر لاہور، جنوبی ہند کے جنگلوں میں، گنگا کے پجاری ناگ، پہلی محبت کے آنسو، اہرام کے دیوتا، ویران حویلی کا آسیب، اداس جنگل کی خوشبو، بلیدان، چاند چہرے اور گلستان ادب کی سنہری یادیں شامل ہیں۔

اے حمید 25 اگست 1928 ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد کا نام عبد العزیز پہلوان تھا اور ان کا تعلق کشمیری برادری سے تھا ۔قیام پاکستان کے وقت 1947 ء میں انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ ٹرین کے ڈبے کی چھت پر بیٹھ کر سفر کیا اور ان حالات سے متاثر ہو کر پہلا ناول 1950 ء میں’’ ڈربے ‘‘ لکھا جو بہت مشہور ہوا ۔ وہ امرتسر کی چلتی پھرتی تاریخ تھے ۔ پیدائش سے بچپن اور بچپن سے جوانی امرتسر کی گلیوں ،محلوں اور بازاروں اور تاریخی آثاروں سے متصل رہے ۔اس لئے ان کی تصانیف اور مضامین میں امرتسر کا عکس نظر آتا ہے ۔انہوں نے بچوں کے لئے سینکڑوں ناول لکھے اور قلم کو ذریعہ معاش کے طور پر اپنایا ۔افسانہ نگاری کی صف میں انہیں اہم مقام حاصل رہا۔ انہوں نے اُردو شعر کی داستان امیر حمزہ ، مرزا غالب لاہور میں ،سنگ دوست شخصیات جیسی کتابیں لکھیں ۔ٹی وی کے لئے کئی مقبول پلے تحریر کئے ۔جن میں عینک والا جن ، عمبر ناگ ماریا بہت پسند کئے گئے۔ وہ کہتے کہ جن دنوں میں امریکہ میں تھا میری رہائش واشنگٹن میں تھی۔ چنانچہ صبح دفتر جاتے اور شام کے وقت آفس سے واپسی پر بس میں یا میٹرو ٹرین میں اکثر پاکستانی جوانوں سے ملاقات ہو تی تھی جو امریکہ میں مقیم تھے اور مختلف نوکریاں کر رہے تھے۔ ان سے گفتگو بھی ہو جاتی تھی۔ امریکہ کا گلیمر انہیں کھینچ لایا تھا وہ کسی گیس اسٹیشن ، آٹو سٹور یا کسی ورکشاپ میں چھوٹی موٹی نوکریاں کرتے تھے اور ایک ایک کمرے میں چار چار جوان رہتے تھے۔ ان میں کچھ قانونی اور اکثر غیر قانونی طور پر رہتے تھے ۔

وہ اکثرمہنگائی کا رونا روتے اور پوچھتے کہ کیا بنے گا پاکستان کا ؟ میں بھی ان کے ساتھ سوچوں میں گم نفی میں سر ہلا دیتا کہ اللہ بہتر کرے گا ۔اے حمید صاحب سے جب بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوتا ،میں مختلف سوالات کی بوچھاڑ کرتا اور وہ تیز بارش کی طرح ان کے جوابات دیتے اور ساتھ ساتھ چائے کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ لیتے اور آپا ریحانہ سے کہتے آج سردی زیادہ ہے ۔’’شاہد نوں اک کپ ہور لیا دے‘‘ ۔آپا لے آتیں اور میں ان کی خوبصورت باتیں ذہن نشین کرتا چلا جاتا ۔

اے حمید کہنے لگے یہ میں 1950-52 ء کی بات کر رہا ہوں مجھے کنئیرڈ کالج لاہور کی وہ شام یاد ہے جس شام کو کانووکیشن کی تقریب تھی اور ریحانہ کو بی اے کی ڈگری ملنے والی تھی ۔ہر طالبہ کو اجازت تھی کہ وہ کانووکیشن میں شرکت کیلئے اپنے کسی ایک رشتہ دار کو بلا سکتی ہے ۔ریحانہ نے بڑی دلیری سے میرا نام دیا تھا حالانکہ ہماری شادی نہیں ہوئی تھی۔ میرے خیال میں اللہ پاک نے اس لئے میری عزت رکھی کہ میں نے محبت کے معاملے میں ہمیشہ دوسروں کی عزت کا خیال رکھا ۔بی اے کرنے کے بعد ریحانہ نے لیڈی میکلیگن کالج میں پی ٹی میں داخلہ لے لیا ۔وہ زمانہ حیاء اور بزرگوں کے ادب کا زمانہ تھا۔ میں نے نہ صرف ریحانہ سے شادی کا ارادہ کر رکھا تھا بلکہ ہماری شادی کی بات چیت بھی جناب احمد ندیم قاسمی صاحب کی وساطت سے چل رہی تھی ۔کیونکہ ہم دونوں مختلف برادریوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ریحانہ کا تعلق مغلیہ خاندان سے ہے اور میرا کشمیری برادری سے ۔ان کے والدین مان نہیں رہے تھے ۔اس سلسلہ میں قاسمی صاحب نے ہماری پوری پوری مدد کی اور ریحانہ کے والدین کو رضامند کیا ۔چنانچہ جیسے بھی حالات ہوئے میں نے اپنی بیوی کو نوکری نہیں کرنے دی ۔ہماری شادی 1956 ء میں ہوئی۔ میری بیگم ایک دور میں افسانے اور مختلف تحریریں لکھتی رہیں ہیں اور بہت سے ایوارڈ بھی حاصل کئے۔

 اے حمید سے جڑی یادیں جو اکٹھی کرنے بیٹھا ہوں تو سوچتا ہوں کیا کمال کے آدمی تھے جنہوں نے خود یادوں کے ذخیرے اکٹھا کر کے ہمیں بے شمار تصانیف دیں ۔ ان کا حافظہ کمال کا تھا، آخری عمر تک اپنی یادداشت پر عبور حاصل رہا ۔ اپریل 2008ء کے آخری ہفتہ کو اپنے بھتیجے کی شادی کا دعوت نامہ دینے گیا۔ اس دوران میں نے انہیں نئی کتاب’’ لاہور لاہور اے ‘‘کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی کہنے لگے کتاب تو  بہت اچھی چھاپی ہے ،کاغذ بھی اچھا ہے ٹائٹل بھی میری پسند کا ہے مگر ٹائٹل کی دوسری سائیڈ پر عذرا بٹ کے تاثرات بہت مدہم ہیں اس کا مجھے اعتراض ہے ۔یہ کتاب بھی اے حمید کی لاہو رکے بارے میں یادوں پر مشتمل ہے۔اس کتاب کے نام پر میری رائے بھی شامل تھی کہ واقعی اس کا نام لاہور لاہور اے ہونا چاہئے تھا ۔ورنہ یوں تو لاہور پر بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی ۔

میں جب بھی ان سے ملنے جاتا تو ان سے دلچسپ واقعات سننے کو ملتے ۔ کہنے لگے کہ مجھے بڑھاپے میں بھی لڑکیوں کے فون آتے ہیں ۔اور ان میں سے بہت سوں کے خط اب بھی میرے پاس ہیں۔ان بے خبر دوشیزاؤں کو کیا خبر کہ میری محبوبہ تو میرے اپنے گھر میں موجود ہے ۔اور وہ میری اکلوتی بیوی ریحانہ ہے جس کی تصویر ہمیشہ میرے پاس کتابوں کے قریب پڑی رہتی ہے۔ اس پر میں نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ آپ ان خطوط پر مشتمل کتاب ترتیب دیں تاکہ یہ قیمتی خط ضائع نہ ہونے پائیں ۔کہنے لگے مشورہ تو ٹھیک ہے اگر ان لڑکیوں کے خط چھپ گئے تو ان کے گھروں میں ایک تہلکہ مچ جائے گا ۔ فرمانے لگے کہ ہاں یوں ہو سکتا ہے خط کا عکس نہ دیا جائے اور نام بھی فرضی رکھے جائیں اور میں نے پھر کہا کہ خدارا ۔۔۔۔ کام مکمل کر کے سب سے پہلے اپنی آپ بیتی کے لکھنے کی طرف توجہ دیں۔جس کی آپ کو کم اور پڑھنے والوں کو زیادہ ضرورت ہے ، فرمانے لگے کہ بس اب یہی میرا ارادہ ہے ۔

پھر ایک دن کیا ہوا۔ اتوار کا دن تھا ۔5 تاریخ تھی اور مارچ کا مہینہ تھا اور سال 2011 ء کی دوپہر کو موبائل کی گھنٹی بجی اوکے کا بٹن دبایا ۔اے حمید کے اکلوتے صاحبزادے مسعود حمید کی آواز تھی ۔شاہد بھائی اسلام و علیکم ! یہ لیجئے امی سے بات کیجئے ۔آپا ریحانہ کی گھبرائی ہوئی آواز تھی کہ رات حمید صاحب کی زیادہ طبیعت خراب ہوگئی تھی ہم یہاں شیخ زید ہسپتال لائے ہیں ۔انہیں بتایا بھی ہے مگر انہوں نے پرائیوٹ روم دینے سے انکار کر دیا ہے اور تیس ہزار روپے جمع کروانے کا کہاہے جو ہم نہیں کر سکے اور ہمیں یہاں ایک جنرل وارڈ میں ڈال دیا ہے جہاں ان کا برا حال ہے ۔تم ہسپتال پہنچنے کی کوشش کرو ۔میں ایک دوست کے ساتھ موٹر سائیکل پر ہسپتال پہنچا او ر پوری بات سُن کر میں نے اسلام آباد جناب فخر زمان کو فون پر ساری صورت حال بتائی۔ انہوں نے کہا میں آج ہی ان کے پرائیوٹ روم اور فری علاج معالجہ کا انتظام کرتا ہوں ۔اس کے ساتھ ساتھ میں نے ٹی وی چینلز پر اپنے دوستوں کو ان کی بیماری کی اطلاع دی اور یہ خبر ٹکرز کی صورت میں چلائی ۔میں شام کو پھر آنے کا کہہ کرنکلا ہی تھا کہ راستے میں فون پر فخر زمان نے اطلاع دی کہ شاہد میں نے سارا انتظام کرا دیا ہے ۔ایم ایس سے بات ہوگئی ہے ۔شام تک وہ پرائیوٹ روم میں شفٹ ہو جائیں گے مگر ان کی فیملی اور اے حمید کی بھی مرضی تھی کہ ان سب سہولتوں کے ساتھ یہاں سے جناح ہسپتال ریفر کر دیا جائے ۔وہاں زیادہ آرام دہ کمرے ہیں اور دیکھ بھال بھی اچھی ہے ۔خیر اس طرح وہ  شام کو وہاں شفٹ ہو گئے ۔ پھر وہ وہاں تقریباً وہ دو ماہ زیر ِ علا ج رہے ۔

دوران علالت ہسپتال میں ان کی عیادت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔29 اپریل2011 جمعہ کوعلی الصبح وہ انتقال کر گئے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عالمتاب تشنہ حسبِ حال کے شعور سے ہم آہنگ

ان کی شاعری کا خمیرکشمکشِ حیات اور کرب سے اٹھا:تشنہ ؔکے یہاں بکھرنے کا نہیں بلکہ سمٹ کر ایک اکائی بن جانے کا احساس ہوتا ہے‘ وہ ایک طرف روایت سے وابستہ نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اسے جدید شعور میں ڈھالنے کی قوت بھی رکھتے ہیں:احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں کہ عالمتاب تشنہ نے ہجوم ِجمال میں شاعری کا آغاز کیا تھا‘ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ آغاز بہت مبارک ثابت ہوا کیونکہ ان کی شاعری پر اسی جمال کا پر تو ہے

مجید امجد کی شاعری، پنجاب کے ثقافتی تناظرمیں

مجیدامجد نے پنجابی زبان کے الفاظ کو اُردو نظم کے تخلیقی پیرائے میں اس طرح برتا ہے کہ جو پنجابی زبان سے نا واقف ہیں وہ پنجابی زبان کے مذکورہ الفاظ کو اُردو ہی کے کھاتے میں شمار کریں گے۔

خواتین کرکٹ کانیا عالمی ریکارڈ قائم

آئی سی سی ویمنز ٹی 20ورلڈ کپ 2026 ء:ٹکٹوں کی فروخت نے ایونٹ کو اب تک کا سب سے بڑا خواتین کا ورلڈ کپ ثابت کر دیا:ٹورنامنٹ کا باضابطہ آغاز 12جون کوبرمنگھم میں انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے مقابلے سے ہوگا: پاکستان اپنے سفر کا آغاز 14 جون کو بھارت کے خلاف ایجبسٹن، برمنگھم میں ہونے والے مقابلے سے کرے گا

شاہینوں کا ہوم گرائونڈ پرنیا امتحان

آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان:کینگروز23مئی کو اسلام آباد پہنچیں گے، 3ایک روز میچ کھیلے جائیں گے:٭…پاکستان اور آسٹریلیا اب تک 111 ایک روزہ میچ کھیل چکے ہیں۔٭… 71 میچوں میں فتح کینگروز کا مقدر بنی، شاہینوں نے 36 جیتے۔ ٭…4 میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔

چھوٹی سی کوشش

سومی ہرنی اپنی پسندیدہ کتاب تھامے لالی بکری کے ساتھ جیسے ہی گھنے جنگل میں داخل ہوئی تو اسے دور سے مومو چڑا مٹی کھودتا ہوا دکھائی دیا۔

شکرادا کرنا!

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنا انسان کا فرض ہی نہیں انسان کی عبادت میں بھی شامل ہے۔