نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 10 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 777 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 42 ہزار 944 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 336 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 0.78 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates

27 اکتوبر : یوم سیاہ

خصوصی ایڈیشن

تحریر : طارق حبیب


وادی کشمیر سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک ، 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئی 74 سال سے خونریزی جاری

آج 27 اکتوبر ہے، اس دن کو مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں جہاں کشمیری اور پاکستانی بستے ہیں وہاں ’’یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 27 اکتوبر 1947ء انسانی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے، جب بھارتی فوج نے سری نگر پہنچ کر کشمیریوں پر ظلم ڈھانے، لوگوں کا قتل عام کرنے اور کشمیر پر زبردستی قبضہ کرنے کا آغاز کیا تھا اور یہ سلسلہ ابھی تک رکا نہیں ہے، کشمیریوں پر بھارتی فوج کا ظلم آج بھی جاری ہے۔

اُس دن سے لے کر آج تک بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں دہشت کی فضاء قائم کر رکھی  ہے۔ بھارتی مظالم کے خلاف وطن عزیز میں کشمیری بھائیوں اور حریت رہنمائوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیلئے پاکستانی عوام آج 27اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور منا رہے ہیں کیونکہ کشمیری عوام عرصہ دراز سے بھارتی ظلم و جبر کا سامنا کرتے ہوئے اپنے حق خودارادیت کیلئے بھرپور جدوجہد کررہے ہیں۔ کشمیریوں کی جدوجہد انشاء اللہ ایک دن ضرور رنگ لائے گی۔ گزشتہ برس پانچ اگست کو بھارت نے ریاستی دہشت گردی اور دھوکہ دہی سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا ظالمانہ اقدام کیا۔ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کے احتجاج کا مطلب یہ ہے کہ عالمی برادری کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ اپنے مادر وطن پر غیر قانونی بھارتی تسلط کو مسترد کرتے ہیں۔

اقوام عالم کی تاریخ میں کئی قومیں ایسی گزری ہیں جو تاریخ کی کتب میں صرف اپنے مظالم و خون ریزی کی وجہ سے پہچانی جانی جاتی ہیں۔ ان قوموں کے کریڈٹ پر کوئی تعمیری کام یا دنیا میں امن کے لیے کوئی مثبت قدم موجود نہیں ہے۔ تاتاریوں اور منگولوں کے مظالم ایک لمبے عرصے تک بطور حوالہ استعمال ہوتے رہے، عیسائی آرتھوڈوکس کے اپنے ہم مذہب اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر مظالم بھی دنیا کبھی بھول نہیں پائی، ہٹلرکی یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کو آج بھی ہولو کاسٹ کی اصطلاح سے یاد کیا جاتا ہے، اسی طرح اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم جو اپنی پوری شدت کے ساتھ آج بھی جاری ہیں اور کئی نسلیں ان انسانیت سوز ظلم و جبر کی تاریخ کی گواہ ہیں۔ مگر مقبوضہ کشمیر کا معاملہ ان سب سے الگ ہے، منگولوں کی درندگی، عیسائی آرتھوڈوکس کی حیوانیت، ہٹلر کی خونخواری اور اسرائیل کی شیطانیت کا اگر کہیں ملاپ دیکھنا ہو تو مقبوضہ کشمیر میں دیکھا جاسکتا ہے جو سات دہائیوں سے جاری ہے اور مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو ایک ایسے خطے میں بدل دیا ہے جہاں کوئی گھرانہ ایسا نہیں ہے جس نے بھارتی فوجیوں کی درندگی کا نشانہ بننے والے اپنے کسی پیارے کو دفن نہ کیا ہو۔ 

کشمیری دنیا کی وہ واحد قوم ہے جس نے عالمی تاریخ کا طویل ترین فوجی محاصرہ دیکھا ہے، آج بھی بدستور بھارتی فوج کے محاصرے میں ہے اور انتہائی ہمت و استقامت سے اس کا مقابلہ کررہی ہے۔ 

یوم سیاہ منانے کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس، میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم حریت فورم اور دیگر آزادی پسند تنظیموں نے دی۔ بھارت نے 27اکتوبر1947ء کو تقسیم برصغیر کے فارمولے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس جموںوکشمیرمیں اپنی فوجیں اتارکر اس پر ناجائز قبضہ کیا تھا۔ 27 اکتوبر 1947ء سے ا ب تک لاکھوں بھارتی فوجیوں نے جموںو کشمیر پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ 

ادھر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے تہیہ کررکھا ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلواکر رہیں گے اور مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے جدوجہد آزادی میں ہرقدم پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں، عوام کشمیری بھائیوں، بہنوں کو ان کی جدوجہد اور قربانیوں پر سلام پیش کرتے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر اٹھاکر یہ واضح کردیا کہ ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، کشمیریوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے کشمیر کا مقدمہ پوری جرات کے سا تھ عالمی برادری کے سامنے رکھا ہے، بھارت اپنی ہٹ دھرمیوں سے باز رہے کشمیریوں کو اپنی امنگوں کے مطابق فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔

مقبوضہ کشمیر میں محصور کشمیری دو سال سے  زائد عرصہ سے سخت لاک ڈائون سے گزر رہے ہیں ۔ بھارت نے اس خطے میں بلیک آئوٹ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے دنیا کشمیر کی اصل صورتحال سے آگاہ نہیں ہو پا رہی۔ صرف ایک سال میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیکڑوں نوجوانوں کو شہیدا ور ہزاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قلت کے باعث بھوک اور فاقوں کے حالات پیدا ہوچکے ہیں۔ کشمیری یہ سب کچھ برداشت کرتے ہوئے عالمی برادری کو جگانے کے لیے اپنی مزاحمت سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ بھارت کی جانب سے کشمیری اراضی پر قبضہ اور ہندتواکے پیروکاروں کی کشمیری علاقوں میں منتقلی کے خلاف عوام بدستور مزاحمت کررہے ہیں۔   

ویسے تو بھارت کے جمہوریت کا علمبردار ہونے کا ڈھول پہلے ہی پھٹ چکا تھا اور دنیا متعدد مواقع پر بھارت کااصل چہرہ دیکھ چکی تھی۔ پہلے 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے کشمیر میں فوج اتار کر اس پر قبضہ کیا اور پھر  5اگست 2019 ء وہ سیاہ ترین دن تھا جب بھارت نے آرٹیکل370 اور  35اے،کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا۔ جس کے تحت کشمیریوں کا اپنا علیحدہ آئین، علیحدہ پرچم اور تمام قانونی و آئینی معاملات میں علیحدہ نقطہ نظر رکھنے کی کم از کم آئینی طور پر ہی سہی، آزادی تھی۔ اس آرٹیکل کے خاتمے کے ساتھ کشمیریوں کے بنیادی حقوق جو بھارت ایک طویل عرصے سے سلب کیے ہوئے ہے، قانونی و آئینی طور پر بھی ختم کردیئے گئے۔ بھارت نے یہ قدم اچانک نہیں اٹھایا بلکہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت اس کی طویل عرصے سے منصوبہ بندی کررہا تھا۔ اس عمل کے پیچھے ہندتوا کا انتہا پسندانہ نظریہ موجود تھا۔ اس نظریے کے تحت ایک جانب تو بھارت کے اندر مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں سے بنیادی حقوق بھی چھین لیے گئے اور پھر عالمی برادری نے دیکھا کہ اس انتہاپسندانہ نظریے کے منفی اثرات سے بین الاقوامی سرحدیں بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔ جب مودی کو دوبارہ حکومت ملی تو اس نے سب سے پہلے کشمیریوں پر وار کیا اور ان سے ان کی علیحدہ و خصوصی شناخت چھین لی۔ یہ عمل ہندتوا نظریے کا پرچار کرنے والی بی جے پی کے ایجنڈے میں شامل تھا۔ بھارت جانتا تھا کہ کشمیر میں اس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آئے گا ۔اس لیے آرٹیکل 370 کی منسوخی سے قبل ہی 25جولائی 2019ء کو خصوصی دستے مقبوضہ کشمیر پہنچا دیئے گئے تھے جس کے بعد یہاں موجود بھارتی فوج کی تعداد 9 لاکھ سے بڑھ گئی تھی۔ 

یہ امر حقیقی ہے کہ اقوام عالم کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، عوام کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی سے لاکھوں کشمیری بچے یتیم ہورہے ہیں، عالمی برادری سمیت تمام عالمی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے شرمناک بھارتی منصوبے کا نوٹس لیں۔ پاکستان کے کونے کونے سے آج کے دن کشمیریوں کو ان کی جدوجہد آزادی پر سلام پیش کیا جا رہا ہے اور مر تے دم تک ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا تہیہ کیا جا رہا ہے۔

 بھارت نے لاکھوں کشمیریوں کے انسانی حقوق غصب کرکے ان کو محصورکررکھا ہے،لہٰذا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت مظلوم کشمیریوں کا بنیادی حق ہے۔ اقوام عالم کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو رکوانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کرنے والے بھارت کا سفاک چہرہ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔ معصوم کشمیری کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے تحت حق رائے دہی کے حصول کے لئے بھارتی ظلم و جبر کے خلاف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں تاکہ عالمی برادری کی توجہ تصفیہ طلب تنازع کشمیر اورمقبوضہ کشمیر میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات کی طرف دلائی جاسکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)