خوشامد کا وبال ’’خوشامد کرنے والوں سے ملو تو اُن کے منہ میں خاک جھونک دیا کرو!‘‘(مسلم :7505)
خوشامد و چاپلوسی یعنی کسی کے منہ پر اُس کی جھوٹی تعریف بیان کرنا اخلاقی پستی، گراوٹ اور ذلت کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ جھوٹ کی بھی ایک قسم ہے۔ جس شخص کی جھوٹی تعریف کی جاتی ہے اُس کے لئے تو ہلاکت وتباہی کا سامان ہو ہی جاتا ہے، لیکن چاپلوسی کرنے والا شخص خود تین بڑے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ ایسی تعریف کرتا ہے جو واقع کے مطابق نہیں ہوتی، یہ جھوٹ ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ منہ سے جو تعریف کرتا ہے اُس کو اپنے دل میں خود درُست نہیں سمجھتا، یہ نفاق ہے۔ تیسرے یہ کہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر کسی کی خوشامد کر کے اُس کو فخر و غرور میں مبتلا کرتا ہے۔ یہ امر بالمعروف کے خلاف ہے۔ چناں چہ خوشامد و چاپلوسی اور جھوٹی تعریف سے دوسرے شخص کے لئے تباہی و بربادی کا سامان ہو جاتا ہے اور اُس میں دو برائیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ایک غرور و تکبر اور دوسرے اپنی نسبت غلط فہمی۔ اپنی تعریف و توصیف سن کر غلط فہمی سے وہ خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے جس سے آگے چل کر فخر و غرور اور ناز و تکبر جیسی برائیاں اُس میں جنم لیتی ہیں اور وہ تمام لوگوں کو حقارت و نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اپنے آپ کو سب سے بالا و برتر تصور کرتا ہے۔
زمانۂ قدیم سے دُنیا کے بادشاہوں، حکمرانوں اور اربابِ اقتدار کی یہ عادت اور رسم چلی آرہی ہے کہ اُن کے منہ پر اگر کسی نے ہلکی اور ذرّہ سی بھی سچی اور حق بات اپنے منہ سے اگل دی تو فوراً اُس کی گردن اُڑا کر اسے موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا تھا۔ اگر کسی نے ذرّہ سی بھی اُن کی خوشامد و چاپلوسی اور جھوٹی تعریف کردی تو بادشاہ نے اسے موت کی آغوش میں پہنچا دیا۔
قرآنِ مجید و احادیث نبویؐ میں خوشامد و چاپلوسی اور جھوٹی تعریف کرنے کی بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جو شخص اپنے کئے پر بڑے خوش ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اُن کی تعریف اُن کاموں پر بھی کی جائے جو اُنہوں نے کئے ہی نہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ نہ سمجھنا کہ وہ عذاب سے بچنے میں کامیاب ہوجائیں گے! اُن کے لئے دردناک سزا (تیار) ہے۔‘‘ (آلِ عمران : 188)
ان آیات کا شانِ نزول اگر چہ خاص ہے جس میں یہودیوں اور منافقوں کے ایک مخصوص گروہ کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور اُن کے انجام بد کی اُن کو خبر دی گئی ہے، لیکن ان آیات کے عموم میں اُن تمام لوگوں کو مراد لیا گیا ہے جو اپنے بارے میں کسی کے منہ سے خوشامد و چاپلوسی اور جھوٹی تعریف سن کر عجب و خودپسندی کا شکار ہو کر تکبر و شیخی اور غرور وناز میں مبتلا ہوجائیں ۔اپنے کئے ہوئے کاموں پر اترانے لگیں اور نہ کئے ہوئے کاموں پر ایک مدح و تعریف کو چاہنے لگیں کہ یہ ایسے گناہ ہیں جن کی سزا اور عذاب سے بغیر توبہ و استغفار کے بچنا انسان کے لئے بڑا مشکل ہے۔ پھر اِس کا وبال صرف اِس شخص کی حد تک نہیں رہتا بلکہ جس شخص نے خوشامد و چاپلوسی اور جھوٹی تعریف کر کے اِس کو عُجب و خود پسندی کا شکار بناکر تکبر و غرور اور فخر وناز میں مبتلا کیا ہے اُس پر بھی اِس کا وبال پڑتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو دوسرے کی مبالغہ آمیز تعریف کرتے ہوئے سنا تو آپؐ نے فرمایا کہ تم نے اِس کو برباد کردیا۔ (صحیح بخاری 2663:)۔اسی طرح ایک اور موقع پر ایک شخص نے دوسرے کی حد سے زیادہ تعریف کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے اپنے ساتھی کی گردن ماردی۔ اگر تم کو کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں کہو کہ میں یہ گمان کرتا ہوں، بشرط یہ کہ اُس کے علم میں وہ واقعی ایسا ہی ہو۔ (بخاری: 2662، مسلم:502، ابوداؤد4805: )۔
ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت عثمان بن عفانؓ کے منہ پر اُن کی تعریف بیان کی تو حضرت مقدادؓ نے اُس کے منہ میں خاک جھونک دی اور فرمایا کہ رسولِ اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ خوشامد کرنے والوں سے ملو تو اُن کے منہ میں خاک جھونک دیا کرو (مسلم :7505)۔
لہٰذا ہر مسلمان کو اِس بات کا خاص اہتمام کرنا چاہیے کہ وہ کسی کی خوشامد و چاپلوسی اور منہ پر اُس کی جھوٹی تعریف بیان نہ کیا کرے کہ اِس سے خود تو یہ متعدد گناہوں کے ارتکاب کا سبب بنے گا ہی، ساتھ میں جس کی خوشامد و چاپلوسی کی ہے اُس کے گناہوں کی نحوست اور بوجھ بھی اِس پر آکر پڑے گا اور خود اُس شخص کو بھی جس کی خوشامد و چاپلوسی کی گئی ہے، اِس عمل بد سے جنم لینے والے گناہوں کا عذاب بھگتنا پڑے گا۔