عوام کے حقوق و فرائض ،سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں

تحریر : ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان


پچھلے مضمون میں ہم نے سیرت نبویﷺ کی روشنی میں حکمرانوں کے حقوق وفرائض کو بیان کیا تھا۔ یہ مضمون اسی کا تسلسل ہے کیونکہ حکمران اور رعایا لازم و ملزوم ہیں اس لیے اب رعایا(عوام) کے حقوق و فرائض کو بیان کیا جا رہا ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا ’’انبیائؑ میں سے ایک نبی نے جہاد کاارادہ کیا تو اپنی قوم سے کہا کہ وہ شخص میرے ساتھ نہ چلے، جس نے حال ہی میں نکاح کیا ہو اور ابھی تک اس نے بیوی کے ساتھ رات نہ گذاری ہو۔ اسی طرح وہ بھی میرے ساتھ نہ چلے، جس نے گھر بنانا شروع کیا ہوا اور ابھی اس کی چھت نہ ڈالی گئی ہوں۔ نہ وہ شخص میرے ساتھ چلے جس نے مویشی اور گابھن اونٹنیاں خریدی ہوں اور ان کے ہاں بچوں کی پیدائش کا منتظر ہو۔ (ان باتوں میں مشغولیت کی وجہ سے ذہن انہیں میں اٹکا رہتا ہے اور جہاد کیلئے جس یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ناپید ہوتی ہے)۔ پھر جنگ کے لیے روانہ ہوئے اور اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔ فتح کے بعد انہوں نے مالِ غنیمت جمع کیا اور انہیں حسبِ روایت آگ میں ڈال دیا لیکن آگ نے مال نہیں کھایا۔ اس پرانہوں نے ارشاد فرمایاکہ ’’ہمارے درمیان کوئی خائن شخص ہے‘‘ (جس کی خیانت کی وجہ سے مال غنیمت کو آگ قبول نہیں کررہی)۔لہٰذا ہرقبیلہ میں سے ایک فرد میرے ہاتھ پر بیعت کرے، پھر(جب بیعت ہوئی توجس قبیلہ کے آدمی نے خیانت کی تھی) اس قبیلے کے آدمی کا ہاتھ نبی کے ہاتھ سے چپک گیا۔ تو نبی نے فرمایا کہ تمہارے اندرہی خیانت ہے، لہٰذا تمہارا پورا قبیلہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے، پھر دو یا تین آدمیوں سے ہی ہاتھ ملایا تھا کہ فرمایا تمہارے اندر ہی خیانت ہے۔ چنانچہ وہ لوگ گائے کے سرکے برابر سونا لے کرآئے (جوانہوں نے چھپا لیا تھا)۔ جب اُسے رکھ دیا پھر آسمان سے ایک آگ آئی اور اس نے سارامال غنیمت کھا لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے (امت محمدیہ) لئے مالِ غنیمت حلال فرمایا۔ (بخاری،کتاب فرض الخمس، رقم 3124)، (نوٹ: یہ نبی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام تھے)۔

اس قصہ سے رعایاکے لیے یہ باتیں مترشح ہوتی ہیں۔اگر حکومت اچھائی، عوامی بھلائی یاقومی مفاد کے لیے کوئی کام کرے یا کرنے کا کہے تو تمام مسلمانوں کو اس کی تائید کرنی چاہیے۔ ہمارے ہاں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ حکومت اگر اچھے کام بھی کرے تو اپوزیشن اس کی تائید کرنے کے بجائے مخالفت برائے مخالفت کی بناء پر خامیاں نکالتی ہے۔ یہ امر انتشار کاباعث بنتا ہے،اس رویے سے احتراز ضروری ہے۔

حضرت یوشع بن نونؑ نے خائن کوتلاش کرنے کیلئے جو طریقہ اپنایا اس پر کسی قبیلے، کسی فرد نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ بھرپور تعاون کیا۔اس میں ہمارے لیے یہ بات نمونۂ تقلید ہے کہ ملک وقوم کو لوٹنے والے اور بد دیانتی کرنے والے افراد کا بھرپور محاسبہ ہوناچاہیے، اس میں پوری قوم کو حکومت کاساتھ دینا چاہیے۔ ہمارے ہاںایک مصیبت یہ بھی ہے کہ جب کسی فرد کے خلاف حکومت یاعدالت کارروائی کرتی ہے تو اس فردکے متعلقہ لوگ طاقت کامظاہرہ کرتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’کریم  ؑ بن یوسفؑ بن یعقوبؑ بن اسحاقؑ بن ابراہیمؑ ہیں، پھر آپﷺ نے فرمایا: جتنی مدت یوسفؑ قید میں رہے اگرمیں رہتا تو قاصد کے آنے پر بادشاہ کی دعوت قبول کر لیتا، پھر آپؐ نے یہ آیت تلاوت کی  (’’پھرجب اس کے پاس قاصد آیا تو حضرت یوسف ؑ نے کہا کہ اپنے آقا کے ہاں واپس جا اور اس سے پوچھ ! ان عورتوں کا کیاحال ہے، جنہوں نے ہاتھ کاٹے تھے؟ بے شک میرا رب ان کے فریب سے خوب واقف ہے‘‘)۔ پھر آپﷺ نے فرمایا حضرت لوط ؑ پر اللہ کی رحمت ہو، وہ تمنا کرتے تھے کہ کسی مضبوط قلعے میں پناہ حاصل کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہر قوم کی طرف انہی میں سے نبی بنا کر بھیجا۔ (بخاری: 3273 )۔

اس واقعہ کے تین پہلو بطور رعایا ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، اس کا ایک منفی پہلو ہے، جس سے بچنا ہر کسی کیلئے ضروری ہے اور دو پہلو مثبت ہیں، جن کوہم سب کو اپنانا چاہیے۔

منفی پہلو:عزیز مصر اورعورتوں کاغلط پروپیگنڈہ منفی پہلو ہے، اس لیے ہمیں کسی کے خلاف غلط پروپیگنڈہ اور جھوٹی شہادت سے ہرحال میں بچنا چاہیے تاکہ کسی بے گناہ کوہماری وجہ سے سزانہ ہو یا اسے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

مثبت پہلو: اس واقعہ کے دو کردار مثبت پہلو ہیں۔ (الف)بادشاہ کا ساقی، بادشاہ کے ساقی نے حضرت یوسفؑ کی رہائی  میں اہم کردار ادا کیا۔ اس لیے جو لوگ حکومتی عہدیداروں کے قریب ہوتے ہیں یا خود اعلیٰ عہدوں پر ہوتے ہیں، انہیں چاہیے کہ بے گناہ لوگوں کو رہائی دلوانے اوران کی داد رسی کے لیے حکومت وقت کوقائل کریں۔ (ب)حضرت یوسف ؑ، آپ کا کردار رہتی دنیا تک عملی نمونہ ہے،اس سے موجودہ دور میں درج ذیل رہنمائی ملتی ہے۔(۱) برائی کے کام سے ہرحال میں بچنا چاہیے، چاہے اس کے بدلے کتنی ہی بڑی آزمائش ہو،لیکن بالآخر سرخروئی نصیب ہو گی۔ (۲)بادشاہ وقت یاقاضی،یاجج کا فیصلہ غلط بھی ہو تو نافذ العمل ہوتاہے،اسے تسلیم کرناچاہیے،البتہ مزید اپیل کرتے رہنا چاہیے۔ (۳) : حکومت وقت کو مشکل میں اچھے مشورے دینے چاہئیں۔(۴)حضرت یوسف ؑ نے ساقی کواتنی دیر بھولنے سے ملامت نہیں کی، اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے دوست، رشتہ داروں یاجاننے والوںکی غلطیوں پر انہیں ملامت نہ کریں بلکہ جب موقع ملے صلہ رحمی ہی کریں۔ (۵)حضرت یوسف ؑ نے تہمت کے الزام سے برات کے بغیر رہا ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ اس لیے ہربندۂ مومن کیلئے ضروری ہے کہ اگراس پرالزام لگاہے تواس سے برات کاسامان ضرورکرے۔

حضرت ابووائلؓ قبیلہ ربیعہ کے ایک شخص سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ’’میں مدینہ آیا تونبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہاں قوم عاد کے قاصد کاذکرہوا، تو میں نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ نبی کریمﷺ نے پوچھا قوم عاد کاقاصد کیسا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ جب قوم عاد پر قحط پڑا تو قاصد کوبھیجا گیا جو بکربن معاویہ کے پاس ٹھہرا۔ اس نے اسے شراب پلائی اور دو خوش آواز گانے والیوں نے اسے گانا سنایا۔ پھراس کیلئے کئی بدلیاں آئیں، جن میں سے اس نے کالی بدلی پسند کر لی، پھرکہاگیا کہ جلی ہوئی راکھ لے لوجوقوم عاد کے کسی فرد کونہ چھوڑے گی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قوم عاد پرصرف اس انگوٹھی کے حلقے کے برابر ہوا چھوڑی گئی۔ پھر آپﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی’’اور قوم عاد میں بھی(نشانِ عبرت ہے) جب ہم نے ان پر سخت آندھی بھیجی، جو کسی چیز کو نہ چھوڑتی، جس پر گذرتی اسے بوسیدہ ہڈیوں کی طرح کردیتی‘‘(الذاریات:41-42)، (ترمذی، ج6،ص 342)

موجودہ دور کے تناظر میں عوام کے لیے اس قصہ سے تین اصول مترشح ہوتے ہیں :

(۱)۔عوام کواپنے نمائندے صالح ،متقی ،خوف خدا رکھنے والے، قوم کی مشکلات کوسمجھنے والے اوران کوحقیقی معنوں میں حل کرنے والے چننے چاہئیں ۔آج ہمارے ہاں بھی یہی صورتحال پیداہوچکی ہے کہ قوم جن نمائندوں کو منتخب کرتی ہے، وہی قوم کی مشکلات میں اضافہ کاسبب بن رہے ہیں۔

(۲)۔مصیبت سے نکلنے کے لیے اجتماعی توبہ و استغفار کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ پوری دنیا میں دیکھنے میں آرہاہے کہ سیلاب، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات و بلیات کے بعد، ان سے عہدہ برآ ہونے یا نقصانات کے ازالہ کے لیے میوزیکل شو اورکھیل کود کوذریعہ بنایا جاتا ہے۔ یہ بالکل قوم عاد والی صورتحال ہے اوراس سے اللہ تعالیٰ کے غضب وقہر میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان بے ہودہ طریقوں سے بچناضروری ہے۔

(۳)۔شراب اور گانے قوم عاد پرفوری عذاب کاسبب بنے۔ آج بھی لوگ انہیں دوبنیادی خرابیوں میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں، شایدہماری قومی وملکی مشکلات کاسبب بھی یہی دوچیزیں ہیں۔اس لیے ہمیں بحیثیت مسلمان ان دوچیزوں سے پرہیز کرناچاہیے۔

رعایا کے لیے اصول وضوابط 

مذکورہ بالا قرآنی آیات، احادیث طیبات اور تصریحات آئمہ سے عوام الناس کے لیے حسب ذیل اصول وضوابط مترشح ہوتے ہیں۔ ٭حکومت کے اچھائی والے کاموں میں رعایا کو معاونت کرنی چاہیے۔ ٭اگرکوئی غلطی کے بعد اصلاح کرے تو اسے دوبارہ طعن وتشنیع نہ کیاجائے۔ ٭حکام، عدالت، قاضی کے فیصلوں کو ماننا چاہیے ۔ ٭رعایا کواسلام اور ملک وقوم کیلئے ہرقربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ٭مثبت کردارہرکسی کو ادا کرنا چاہیے اورمنفی کردار و پروپیگنڈہ سے بچنا چاہیے۔ ٭شراب، گانے، زنا، بددیانتی، فراڈ، جھوٹ، تہمت، قوانین کی خلاف ورزی، عصبیت، تکبر، دوسروں کا تمسخر اڑانا، اہل علم کی ناقدری، علماء سے بیزاری، یہ تمام امور قوم و ملک کے لیے نقصان دہ ہیں اورکوئی معاشرہ ان برائیوں کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس لیے ان سے بچنا ہر کسی پر لازم ہے۔ ٭ملکی اور قومی معاملات میں جب حکمران مشورہ طلب کریں یامدد مانگیں تو تمام رعایا کے لیے حکومت کی مدد کرنا لازم ہے۔

(مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان صدر اسلامک ریسرچ کونسل ہیں، 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں، ان کے ایچ ای سی سے منظور شدہ25 آرٹیکلز بھی شائع ہو چکے ہیں)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وطن کی عزت ہمارے ہاتھ!

ہم پاکستانی ہر معاملہ میں اپنا ثانی آپ ہیں، ہونا بھی چاہئے کیونکہ دل ہے پاکستانی۔ ہمارے تمام تر معاملات عجیب بھی ہوتے ہیں اور بھرپور بھی۔ ہر معاملے میں ہمارا رویہ منفرد بھی ہوتا ہے اور نرالا بھی۔

پرندوں کا دوست ببلو

ایک سرسبز جنگل کے پاس گاؤں میں بَبلو نام کا ایک خوش مزاج اور ذہین بچہ رہتا تھا۔

انمول باتیں

بچے معاشرے کا قیمتی سرمایہ

گاؤں سے جب آئے گائے

گاؤں سے جب آئے گائے

سنہری باتیں

٭…صبر کا دامن تھام لو اور صرف اللہ تعالیٰ کے طلبگار بن جاؤ۔

ذرا مسکرائیے

گاہک (دکاندار سے) :بھائی صاحب! آپ کے پاس چینی ہے؟۔