ذرا مسکرائیے

تحریر : روزنامہ دنیا


گاہک (دکاندار سے) :بھائی صاحب! آپ کے پاس چینی ہے؟۔

دکاندار: ہاں جناب! بالکل ہے۔

گاہک : اور صابن؟۔

 دکاندار:جناب! وہ بھی ہے۔

 گاہک:اچھا تو پھر ہاتھ دھو کر آدھا کلو چینی دے دیں۔

٭٭٭

بچپن میں مجھے لڈو بہت پسند تھے۔ ایک دن میں اپنی خالہ کے ساتھ ان کے رشتے داروں کے گھر گیا۔ تھوڑی دیر بعد خالہ کے رشتے دار نے اپنے بڑے بیٹے سے پوچھا: بیٹے لڈو کہاں ہے۔

 لڈو کا نام سنتے ہی میرے منہ میں پانی بھر آیا اور بے چینی سے لڈووں کا انتظار کرنے لگا۔ اتنے میں ایک گول مٹول سا لڑکا کمرے میں داخل ہوا تو خالہ کی دور کی بہن نے کہا: ارے بیٹے لڈو! تم کہاں تھے؟ تمہیں بھائی جان بلا رہے ہیں۔

٭٭٭

استاد نے شاگرد سے پوچھا: ارشد! پی ڈبلیو آر سے کیا مراد ہے؟

 جواب ملا:پکوڑوں والی ریڑھی۔

٭٭٭

باپ مٹھائی تکیے کے نیچے رکھ کر گیا تو بچے نے مٹھائی نکال کر کھائی اور تکیہ اپنے پیٹ پر رکھ لیا۔

 کچھ دیر بعد باپ آیا تو اس نے پوچھا: بیٹا! مٹھائی کہاں ہے؟۔ 

بچے نے معصومیت سے جواب دیا:ابا جان! تکیے کے نیچے۔

٭٭٭

ایک بڑھیا گدھے کو ہانکے لیے جا رہی تھی ایک لڑکے نے مذاق سے کہا گدھے کو اماں سلام۔

بڑھیا نے کہا:جیتے رہو بیٹا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وطن کی عزت ہمارے ہاتھ!

ہم پاکستانی ہر معاملہ میں اپنا ثانی آپ ہیں، ہونا بھی چاہئے کیونکہ دل ہے پاکستانی۔ ہمارے تمام تر معاملات عجیب بھی ہوتے ہیں اور بھرپور بھی۔ ہر معاملے میں ہمارا رویہ منفرد بھی ہوتا ہے اور نرالا بھی۔

پرندوں کا دوست ببلو

ایک سرسبز جنگل کے پاس گاؤں میں بَبلو نام کا ایک خوش مزاج اور ذہین بچہ رہتا تھا۔

انمول باتیں

بچے معاشرے کا قیمتی سرمایہ

گاؤں سے جب آئے گائے

گاؤں سے جب آئے گائے

سنہری باتیں

٭…صبر کا دامن تھام لو اور صرف اللہ تعالیٰ کے طلبگار بن جاؤ۔

پہیلیاں

دیکھی اک نازک سی بیٹی،باندھ کے اک دھاگے کی پیٹی