نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آئی جی اسلام آباد سے فائرنگ کے واقعہ کی رپورٹ طلب
  • بریکنگ :- وزیرداخلہ کافائرنگ سےپولیس اہلکارکی شہادت پراظہارافسوس
  • بریکنگ :- شہیدپولیس اہلکارکےخاندان سےاظہارتعزیت کرتاہوں، شیخ رشید
  • بریکنگ :- شیخ رشیدکااسلام آباد میں پولیس پرفائرنگ کےواقعہ کا نوٹس
Coronavirus Updates

اطاعت خداوندی، اللہ کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


اللہ نے انسان کے لئے بے شمار نعمتیں بنائی ہیں اگر ہم سوچیں تو ہمارے جسم کا ایک ایک بال اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہے تو کبھی ادا نہیں کر سکتا۔ اللہ خود فرماتا ہے کہ ’’اگر تم میری نعمتوں کا شمار کرو تو ان کا شمار نہیں کر سکتے‘‘ (سورۃ ابراہیم :34)۔انسان وہ ہے جو اپنے مالک کی دی ہوئی نعمتیں استعمال کر کے اس کا شکر بھی کرے اور جو لوگ اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت کا شکریہ ادا کرتے ہیں اللہ ان پر راضی ہو کر ان کو اور زیادہ عطا فرماتا ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اگر تم شکر ادا کروگے تو ہم تم کو مزید عطا کریں گے‘‘ (سورۃ الابراہیم:7) اور اس کے برعکس جو لوگ اس کا دیا ہوا بھی کھاتے ہیں اور اس کا شکر ادا نہیں کرتے، ان لوگوں پر اللہ کا شدید عذاب ہے۔

 ہمیں اللہ کی نعمتوں کو سوچنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اگر ہم میں فکر پیدا ہو گئی تو ہم دینے والے محسن کا شکریہ بھی ادا کیا کریں گے اور دل سے نعمتوں کی قدر بھی کریں گے۔ ان کے دینے والی ذات سے بھی پیار بڑھ جائے گا۔ ہم زبان سے بھی الحمدللہ کہیں گے، اعضاء سے بھی اس نعمتوں کا شکر اس کی عبادت کر کے کریں گے۔

جب انسان کو اللہ نعمتیں عطا فرماتا ہے تو وہ اللہ کا احسان مان کر اس ذات کا فرمانبردار بننے کے بجائے اس کی دی ہوئی نعمتوں کی بے قدری کرتا ہے۔ نافرمان کو اللہ ڈھیل دیتا ہے اور اس کو مختلف اشاروں سے سمجھایا جاتا ہے کہ یہ کفران نعمت مت کرے اور احسان مان کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا بن جائے۔ نافرمان بندہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر میرا یہ عمل برا ہوتا تو مجھے سزا ملتی جو نہیں ملی اور اس طرح اس کی جرأت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی نافرمانی کی حد نہیں رہتی اور بلاؤں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اگر اس پر بھی انسان نہ سمجھے تواسے آخرت کی نعمت یعنی مغفرت اجروثواب سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔

انسان کو بغیر مانگے اللہ تبارک وتعالیٰ نے بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں لیکن ان نعمتوں کے حصول کے باوجود انسانوں کی بڑی تعداد ظلم اورنا شکری کے راستے پر چلتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الرحمن میں انسانوں اور جنات کو تکرار کے ساتھ مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا :’’تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘۔

جب کوئی اللہ کا بندہ اللہ کی نعمتوں کو دیکھ کر الحمدللہ کہتا ہے تواس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، وہ جس دروازے سے چاہے اندر داخل ہو جائے۔ ایک مرتبہ الحمد للہ کہنے سے تیس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے ،اس کی برکت زمین و آسمان کے درمیانی خلا کو پر کر دیتی ہے۔ دوسری بار الحمدللہ کہنے سے انوار ساتویں طبق آسمان سے لے کر ساتویں طبق زمین تک بھر جاتے ہیں۔ تیسری مرتبہ الحمدللہ کہنے سے اللہ خود اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ 

انسان بڑا نا شکرا ہے اس کی حرص اس کو نعمت کی قدر نہیں کرنے دیتی جو تقدیر میں نہیں اس کو نعمت سمجھتا ہے اور اس کے لئے تدبیر کرتا پھرتا ہے ۔ نعمتیں ملنے سے قبل اور بعد قلب کی وہی حالت رہے جو پہلے تھی ، اگر اللہ کو چھوڑ کر نعمتوں میں مشغول رہے اور اس کو بھول جائے تو وہ نعمت چھین لی جاتی ہے۔ اسی طرح حسد اور ناشکری بھی نعمتوں اور نیکیوں کو برباد کر دینے والی ہیں جب بھی اللہ کوئی خدمت اپنے بندوں کو عطا فرمائے تو اس کا شکر یہ ہے کہ الحمد للہ کہے، یہی اصل شکر ہے ۔

بندہ بہت سی چیزوں کو برا خیال کرتا ہے حالانکہ اس میں ہی اس کا فائد ہ ہوتا ہے۔ انسان کو شریعت کی پابندی کرنی چاہیے اور ہر لمحہ اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے اس سے دنیا میں تو عزت و کامیابی عطا ہو گی ہی، آخرت میں بھی اس کا بہت اجر وثواب ملے گا۔ اللہ کا شکر یہ ہے کہ اہل دنیا سے اچھا برتاؤ رکھا جائے اور دل سے اللہ اللہ کیا جائے۔ اللہ کی نعمتوں کی دل سے قدر کر کے اس کی نعمتوں کو اس کی فرماں برداری میں صرف کرنا چاہیے ۔اس کی مخلوق کی خدمت کو اپنا شعار بنانا چاہیے ۔جب بندہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کرکے ان پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو اس کا صلہ یہ ملتا ہے کہ نعمت کو بڑھا دیا جاتا ہے۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا ’’ پیٹ بھر کے شکر ادا کرنے والے شاکر کا مقام روزہ رکھنے والے صابر کے برابر ہے ‘‘۔

 حضرت کعب ؒ کا قول ہے کہ اللہ دنیا میں بندے کو جو نعمت دیتا ہے اور وہ اس کا  شکر گزار ہوتا ہے تو اللہ اس کا نفع دنیا اور آخرت میں دیتا ہے اور جو شکر گزاری نہ کرے تو دنیامیں ہی اس سے وہ نعمت چھین لی جاتی ہے اور آخرت میں اس کے لئے جہنم کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ حضرت سری سقطی ؒفرماتے ہیں کہ جو شخص نعمت کی قدر نہیں کرتا اس سے نعمت اس طرح سلب کی جاتی ہے کہ اس کی خبر تک نہیں ہوتی ۔

یہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ہی ہے جس سے انسان کے رزق اور اعمال اولاد میں برکت پڑتی ہے اور ناشکرے کو کچھ نہیں ملتا۔ ہمارے ہاں یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ جب بھی کوئی نعمت ملتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ہماری محنت کا ثمرہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جوا سے نعمت خداوندی سمجھ کر اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔

 اگر کوئی نعمت واپس لی جاتی ہے تو انسان فوراً اس کی ناشکری کرتا ہے ،یہ حرکت عتاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا اہل ایمان اور مومن کا شیوہ ہے۔ اللہ ہمیں اپنی سب نعمتیں ادا فرمائے اور ان نعمتوں کا شکر کرنے والا شاکر بندہ صابر مسلمان بنا دے۔ آمین  

(صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی معروف عالم دین ہیں، 25 سال سے مختلف جرائد کیلئے اسلامی موضوعات پر انتہائی پر اثر اور تحقیقی مضامین لکھ رہے ہیں)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

چار ملکی کرکٹ سیریز کی پاکستانی تجویز، ایشیا کپ اور چمئینز ٹرافی کا میزبان پاکستان، بھارت پریشان

کیا مودی حکومت میں پاک بھارت کرکٹ ممکن ہے؟،آئی سی سی کے آئندہ اجلاس میں پی سی بی پاکستان ، بھارت ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کی تجویز پیش کرے گا

73ویں پنجاب گیمز:نئے ٹیلنٹ کی تلاش

منتخب کھلاڑی لاہور میں ہونیوالے کھیلوں میں حصہ لیں گے،سپورٹس ڈیپارٹمنٹ اور ایسوسی ایشنز شفاف ٹرائلز کے ذریعے کھلاڑیوں اور ٹیموں کاانتخاب کرنے میں مصروف

پیاز کی کہانی ڈاکٹر بینگن کی زبانی

دورکسی جگہ ایک سر سبز اور زرخیز میدان میں مختلف سبزیوں کی حکمرانی تھی یہاں کسی انسان کا گزر نہیں تھا۔ وہ آزادی سے کھیلتی کودتی تھیں۔ سب میں بڑا اتحاد تھا صرف ایک پیاز ہی تھی جس سے سب دور رہتے تھے۔

اور اعتبار ٹوٹ گیا

اسد علی کو اللہ تعالیٰ نے دولت، جائیداد، اولاد، صحت غرض سب نعمتیں عطا کی ہوئی تھیں۔ وہ بہت خوش حال زندگی گزار رہے تھے۔ گائوں کا نمبردار وڈیرہ ہونے کے باوجود اس میں غرور و تکبر نام کی کوئی چیز نہ تھی۔

بچوں کا انسائیکلو پیڈیا

برف پر پھسلنابرف کی سطح بہت چکنی ہوتی ہے جب آپ کے جوتے کا چکنا تلا اس پر لگتا ہے تو آپ کو آسانی سے پھسلنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔ برفانی کھڑائوں (skates)سے پھسلنا اور زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ آپ کا وزن کھڑائوں کے نیچے برف کو پگھلا کر پانی کی تہہ بنا دیتا ہے۔ اس لئے کھڑائوں کے تلے پر لگے بلیڈ بہت پھسلواں ہو جاتے ہیں۔

ذرا مسکرائیے

استاد کلاس میں ایک ڈبہ لے کر آئے۔ لڑکوں نے پوچھا ،’’ استاد جی ! اس ڈبے میں کیا ہے ؟‘‘استاد نے کہا ، ’’ جو درست بتائے گا ، اسے اس ڈبے سے دو پنسلیں ملیں گی۔‘‘٭٭٭