فیض احمد فیض : امن کا پیامبر ، عظیم شاعر نے مظلوم انسانون کے حق کیلئے آواز بلند کی
فیض نے کلاسیکی شعری روایت سے رشتہ استوار رکھتے ہئے جدید دنیا کے انسان کو درپیش مسائل پر بھی آواز اٹھائی
محبت اور دردمندی کے جذبے کے بغیر انسانیت کی بقا ممکن نہیں، اس لئے بقائے باہمی ہی وہ نقطہ آغاز ہے جو کسی بھی معاشرے میں امن کے قیام، مصالحت کی نمو اور انصاف کی برتری کیلئے اہم ہے۔ ریاست کی ترقی اور استحکام کیلئے ضروری عنصر اس کے معاشرے میں بقائے باہمی اور برداشت کا ہونا ہے۔ مختلف گروہوں پر مشتمل لوگ ایک متحد قوم اسی صورت بن سکتے ہیں جب ان میں اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت ہو۔ مذہبی تکثیریت بھی ایک مضبوط معاشرے کے قیام میں مددگار ہو سکتی ہے۔ اس کے ذریعے مذہبی برداشت، ایک دوسرے کے مذہبی اعتقادات کو سمجھنے، باہمی احترام، اور سب گروہوں کو ترقی کے مساوی مواقع ملتے ہیں لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب بھی مذہب کو سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کیا گیا۔ اس کے نتائج خطرناک ثابت ہوئے۔ ’’تہذیبوں میں تصادم‘‘ کے نظریے کے بجائے ’’تہذیبوں کے درمیان مکالمے‘‘ کے نظریے کو اگر ترجیح دی جائے تو یقیناً آج ہماری دنیاکے حالات بہت مختلف ہوتے۔
ادبیات عالم پر اگر نظر ڈالیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کے تمام بڑے ادباء و شعرا نے فطرت سے محبت، زندگی کی اہمیت، امن و رواداری کا پیغام دیا ہے۔ شاعری کو زبانوں کی زبان بھی کہا گیا ہے، یہ ان معنوں کہ زبان کی باطنی کیفیات ان کی روحانی سرشت بول چال کی زبان کی حیثیت سے اپنے آپ کو شاعری میں ظاہر کرتی ہے اور شاعر ایسے فنکار ہیں جنھیں یہ ملکہ قدرت کی طرف سے ودیعت کیا گیا ہے کہ عام لوگوں کی بول چال سے دل کی زبان کشید کریں۔ ایک بڑا شاعر دل انسانی کی دھڑکنیں سنتاہے اور ان جذبوں کو زبان عطا کرتا ہے۔ فیض احمد فیض کا شمار بیسویں صدی کے ان چند بڑے شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے بلا تفریق پوری دنیاکے مظلوم انسانوں کے حق لیے آواز بلند کی۔
فیض اردو ادب کا وہ منفرد نام ہے جو اپنی شاعری میں انسانی جذبوں اور حقیقتوں کو نہ صرف اپنا موضوع بناتے ہیں بلکہ دنیا میں جہاں کہیں انسانیت کی تذلیل ہوئی انھوں نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ وہ دنیا کو ایسا دیکھنا چاہتے تھے جہاں مساوات ہو اور سب کو ترقی کے برابر مواقع میسر آئیں۔ وہ انسانی حقوق کی علمبردار تھے۔ فیض نے اپنے دھیمے مزاج، مشرقی تہذیبی رچاؤ اور کلاسیکی شعری روایت سے رشتہ استوار رکھتے ہوئے جدید دنیا کے انسان کو درپیش مسائل کا مقابلہ کرنے کے لئے آواز اْٹھائی۔ ان کے اسی انداز نے انہیں دنیا ادب کے بڑے شعرا کی صف میں لاکھڑاکیا۔ فیض کی شاعری کا مقام فیڈریکو گارسیا لورکا، پابلونرودا ، ناظم حکمت ، قاضی نذرالاسلام اور لوئی اراگان جیسے شعرا کے زمرے میں آتا ہے۔ وہ انسانیت کے مجموعی مسائل اور ضرورتوں کی طرف متوجہ رہے۔ فیض اپنی سوچ و فکر، پیغام جدوجہد کو کسی خاص خطے ، قوم، زبان یا مذہب کی سرحدروں میں قید نہیں کرتے بلکہ جہاں کہیں بنیادی انسانی حقوق سلب کیے گئے اور انسانیت کی تذلیل کی گئی فیض نے فوراً اس کے خلاف آواز بلند کی:۔
جب گھلی تیری راہوں میں شام ستم
ہم چلے آئے لائے جہاں تک قدم
لب پہ حرف غزل دل میں قندیل غم
دیکھ قائم رہے اس گوائی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہانگیر ہم
جاں گنوا کر تیری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
انسانی دکھ ورنج، خوشی اور مسرت کو فیض اجتماعی نقطہ نظرسے دیکھتے ہیں۔ فیض امن کو دنیا کی بقا اور انسان کے بہتر مستقبل کے لئے ضرور سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طور عالمی امن کی تحریک سے ہمیشہ وابستہ رہے۔ افسردگی مایوسی اور ناامید کا گزر فیض کی تحریروں میں شاذہی ملتا ہے کیوں کہ زندگی سے متعلق ان کا نظریہ تھا کہ زندگی خواہ کچھ بھی دکھائے بالاخر بہت خوب شے بھی ہے اور بہت حسین بھی ہے:
ملکہء شہر زندگی تیرا
شکر کس طور سے ادا کیجئے
دولت دل کا کچھ شمار نہیں
تنگ دستی کا کیا گلہ کیجئے
فیض کی شاعری انسان اور انسان دوستی کے گرد گھومتی ہے وہ اپنے اولین مجموعہ کلام’’نقش فریادی‘‘ میں اس احساس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:
کیوں نہ جہاں کا غم اپنالیں
بعد میں سب تدبیریں سوچیں
بعد میں سکھ کے سپنے دیکھیں
سپنوں کی تعبیریں سوچیں
وہ استحصالی اور طبقاتی نظام کے خاتمے اور ارتقائی عمل کے ذریعے آنے والی تبدیلی کے خواہش مند تھے۔ ان کی نظموں کا انقلابی آہنگ ان کے جذبہ انسانیت کا گواہ ہے:
حلقہ کیے بیٹھے رہواک شمع کو یارو
کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے
فیض کی اسی امن پسندی اور بقائے باہمی نے انہیں زندگی میں ہی شہرت کی ان بلندیوں پر پہنچادیا جو اْن کے معاصرین اور ان کے بعد آنے والوں کو کم ہی حاصل ہوئی۔ دوسر ی جنگ عظیم کے دوران ایٹمی ہتھیاروں سے ہونے والی تباہ کاریوں ، سرد جنگ میں ہتھیاروں کی نہ ختم ہونے والی دوڑ کو فیض انسانی بقا کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔اس لیے وہ دنیا کو ہتھیاروں سے پاک اور امن کا گہوارہ دیکھنے کے خواہش مند تھے:
کوئی طاقت نہیں اس میں زور آزما
کوئی بیڑا نہیں ہے کسی ملک کا
اس کی تہ میں کوئی آبدوز نہیں
کوئی راکٹ نہیں، کوئی توپیں نہیں
یوں تو سارے عناصر ہیں یاں زور میں
امن کتنا ہے اس بحر پر شور میں
فیض وطن دوستی اور انسان دوستی کی جن راہوں پر گامزن ہوئے ان میں ہزار رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ فیض ان رکاوٹوں کا سامنا کرنے سے نہ ہچکچائے، اور کبھی حرفِ حق لکھنے سے گریزاں نہ ہوئے۔ یہی حرف حق ان کی انسان دوستی، وطن دوستی کی دلیل ہے، فیض کی شاعری اور افکار نے ہمیں آمریت کی مختلف صورت سے جو آگہی عطا کی ہے وہ آج بھی ان قوتوں کے خلاف موثر ہتھیار ہے۔ موجودہ دور میں کسی بھی قوم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی بقا کے لئے اپنی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرے۔ کیونکہ آج دنیا کو ثقافتی جنگ کا سامنا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس عہد میں میڈیا کے مختلف ذرائع کو ثقافتی یلغار کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ فیض کی رائے میں اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے دوباتیں بہت ضروری ہیں اول یہ کہ ہم اپنی تہذیب پر فخر کرنا سیکھیں اور دوم یہ کہ تاریخ سے جو کچھ ملا ہے اور ہماری تہذیب میں رچ بس چکا ہے اْسے قبول کریں۔ فیض کا یہ ماننا تھا کہ معاشرہ ٹھوس ثقافتی بنیادوں پر قائم رہ سکتا ہے۔ اس لئے انہوں نے جابجا اس کی اہمیت پر زور دیا۔ان کی شاعری میں مشرقی تہذیبی روایت کاتسلسل ، غنایت، اور سلاست موجود ہے جو شاعری کو پیکر زندگی عطا کرتی ہے۔فیض کی زندگی میں حقیقت پسند سماجی شعور سے وابستگی کا جو سلسلہ برصغیر پاک و ہند کی آزادی کی تحریک سے شروع ہوا تھا فلسطین کی تحریک آزادی کی قلمی معاونت پر ختم ہو ا۔ ان کی بنیادی فکر میں انصاف پسندی کا مطالبہ درحقیقت ان کے مزاج کا ایک جزو تھا۔ ان کے احساسات کا رخ جمہور کی طرف ہے اور وہ اس احساس و جذبے کو فراست اور فنی مہارت سے ایسی لفظیات میں سمیٹتے ہیں جس کا بدل نہیں ہو سکتا:
لو وصل کی ساعت آپہنچی پھر حکم حضور پر ہم نے
آنکھوں کے دریچے بند کیے اور سنیے کا در باز کیا