آٹو گراف: مجید امجد کی ایک نظم اس معرکہ آرانظم پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


اس نظم کا موضوع مجید امجد کی طرح اتنا حساس ہے جسے کوئی بھی صاحب دل پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا

ویسے تو مجید امجد کو نظم کا بہترین شاعر تسلیم کیا جاتاہے لیکن ان کی غزل کے بارے میں اتنی خاموشی کیوں؟۔ انہوں نے غزل میں بھی جس انداز بیاں کا انتخاب کیا اسے فکر کی چادر میں لپیٹ کر انہوں نے خود کو غزل کا بھی بے بدل شاعر ثابت کیا۔ ان کی غزلوں میں اداسیوں کی وہ مہک محسوس ہوتی ہے جس کا کوئی نام نہیں۔ خودکو حقیر اور بے نشان سمجھے جانے کا درد مجید امجد کو اُس بستی میں لے جاتا ہے جہاں حسرتوں اور مایوسیوں کی گھنگھور گھٹائیں چھائی رہتی ہیں۔

اس مضمون میں ہم ان کی ایک شہرہ آفاق نظم ’’آٹو گراف‘‘ کے بارے میں اپنے معزز قارئین کو کچھ بتاناچاہتے ہیں۔ بسا اوقات کسی شاعر کی غزل یا نظم کے دو حروف معنی کا ایسا جہاں کھول دیتے ہیں کہ ان پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر ہم قتیل شفائی کی ایک نظم کا ذکر کرتے ہیں جو صرف دو الفاظ پر مشتمل ہے لیکن یہ الفاظ کس تناظر میں کہے گئے ہیں تو بات بہت دور تک جا پہنچتی ہے۔ یہ نظم کچھ یوں ہے۔

پیسے،کیسے؟

ایک نقاد کا کام ہے کہ وہ اپنے وسیع المطالعہ ہونے کا ثبوت دے اور کسی بھی ادبی فن پارے کی ان جہتوں کو ڈھونڈ لے جن کا خود اس فنکار کو بھی ادراک نہ ہو۔ کئی دہائیاں پیشتر میں نے لاہور کے ایک مشہور ادبی جریدے میں سید احتشام حسین کا ایک مضمون پڑھا تھا ’’غالب اور مارکسزم‘‘۔ مضمون کا عنوان پڑھ کر میں حیرت کا مجسمہ بن گیا۔ کہاں غالب اور کہاں مارکسزم؟ اس وقت تک مجھے بھی مارکسزم کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہ تھیں۔ لہٰذامیں نے فیصلہ کیا کہ احتشام حسین جیسے ترقی پسند نقاد کا یہ مضمون پڑھنے سے پہلے مجھے مارکسزم کا تفصیلی مطالعہ کرنا چاہئے۔ پھر میں نے کارل مارکس کو پڑھنا شروع کیا اور پھر پڑھتا ہی چلا گیا۔ جہاں کہیں سمجھنے میں مشکل پیش آتی تو میں انیس ناگی مرحوم سے رابطہ کر لیتا۔ اگرچہ وہ موجودیت پسند تھے لیکن ہر موجودیت پسند پہلے مارکسٹ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے جو دوسرے صاحب میری رہنمائی کرتے تھے وہ ہیں قاضی جاوید۔

جب میں نے یہ محسوس کیا کہ میں اب کارل مارکس کے فلسفے کو سمجھ گیا ہوں تو پھر میں نے احتشام حسین کا مضمون پڑھنا شروع کیا۔ سمیع آہوجا نے مجھے بتایا کہ احتشام حسین مارکسی تنقید پر یقین رکھتے ہیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے یہ ان کا نکتہ نظر ہے۔ میں تو صرف یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ غالب کی شاعری کے اندر مارکسزم کہاں سے آگیا؟ لیکن جب مضمون پڑھنا شروع کیا تو صاحب مضمون نے اس میں سے تاریخی مادیت (Historical Materialism) اور مادی جدلیات (Dialectical Materialism) کو بغیر کسی مشکل اور پیچیدگی کے قارئین کے سامنے بیان کر دیا۔ ان کے دلائل بڑے موثر تھے اور پھر انہوں نے غالب کے بہت سے اشعار کا حوالہ بھی دیا۔ اسی طرح انیس ناگی نے اپنی کتاب ’’سعادت حسن منٹو‘‘ میں مارکسزم کو تلاش کیا اور ان کا ایک مضمون ’’منٹو اور مارکسزم‘‘ بھی تھا۔ یہ مضمون بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ جب انیس ناگی یہ کہتے ہیں کہ منٹو نے کبھی اپنے آپ کو ترقی پسند نہیں کہا لیکن ان کے فلسفے کی بنیاد اس ایک فقرے پر ہے ’’انسان اور انسانی صورتحال‘‘ تو پھر بات مارکسزم کی طرف تو جائے گی۔ پھر اس میں سماجی اور معاشی ناانصافی اور طبقاتی کشمکش کا ذکر بھی ہوگا۔ یوں جب گاڑی چل پڑے گی تو رکے گی کہاں؟

مجید امجد کی معرکہ آرا نظم ’’آٹو گراف‘‘ کا تجزیہ کرتے وقت میرا ہرگز ارادہ نہیں کہ میں اس میں سے کوئی ’’ازم‘‘ تلاش کر لوں۔ اس نظم کا موضوع مجید امجد کی طرح اتنا حساس ہے جسے کوئی بھی صاحب دل پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا بلکہ میں تویہ کہوں گا کہ شاعری سے شغف رکھنے والا اگر اس نظم کو جان بوجھ کر نظرانداز کرتا ہے تو جرم کرتا ہے۔ مجید امجد نے بتایا ہے کہ احساس محرومی ہوتا کیا ہے؟ کچھ لوگ مجید امجد کو صوفی اور کچھ درویش بھی کہتے ہیں۔ یاد رکھیئے کہ مجید امجد ایک انسان تھے اور ان کے سینے میں بھی دل تھا۔ ان کے بھی ارمان تھے جو مکمل نہ ہونے کی صورت میں حسرتوں میں بدل گئے۔ یہ نظم یاسیت اور شدید احساس محرومی کا استعارہ ہے۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا سیاسی اور معاشی نظام ہے یا فطرت کا جبر ہے اس کا فیصلہ قاری نے خود کرنا ہے۔ امجد صاحب نے اپنی محرومی کے بدن کو جس خوبصورتی سے شعری طرز احساس کا لباس پہنایا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس نظم میں جن تراکیب کا استعمال کیا ہے ان کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔

دیکھئے امجد صاحب نے کس مہارت اور جذبے کی شدت کی آمیزش سے کیسی تراکیب (Linguistic formulations) استعمال کی ہیں۔ یہ تراکیب ملاحظہ کیجئے۔

’’بیاض آرزو بکف، کمان ابرواں، حروف کج تراش، کلک گوہریں‘‘، کیا اتنی دلفریب تراکیب پہلے کسی آزاد نظم میں استعمال ہوئی ہیں؟ پھر یہ نظم جس بحر میں کہی گئی ہے اس میں دریا کی سی روانی ہے۔ علم عروض کے حوالے سے یہ بحر یوں ہے۔

’’مفا علن، مفا علن، مفا علن۔۔۔‘‘

ایسا لگتا ہے کہ احساس محرومی ہے جو کسی آبشار کے پانی کی طرح بہتا چلاجا رہا ہے اور یہ مصرعہ تو بڑے سے بڑے سنگدل کی بے حسی کا پتھر بھی توڑ دیتا ہے۔

نہ رفعت مقام ہے نہ شہرت دوام ہے

پوری نظم میں کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ مجید امجد اپنی نامکمل حسرتوں پہ ماتم کناں ہیں یا گریہ زاری کر رہے ہیں۔ بس ایک شکوہ ہے، ایک شکایت ہے، دبی آرزوئوں کی چنگاری ہے جو شعلہ نہیں بن سکتی۔ شدید احساس محرومی چھوٹی چھوٹی خواہشیں ختم کر دیتا ہے لیکن مجید امجد نے اپنی شکایت کے پردے میں ایسی کسی آرزو کا اظہار نہیں کیا جس کی تکمیل ناممکن ہو۔ مجید امجد نے واقعی بہاروں کے سوگ میں عمر گزاری ہے لیکن ان کی لحد پر جاوداں گلاب کے پھول کھل رہے ہیں۔ شاید ان کی طمانیت کی یہی دلیل ہے۔

اب ہم اپنے قارئین کیلئے ذیل میں مجید امجد کی نظم ’’آٹوگراف‘‘ تحریر کر رہے ہیں۔

کھلاڑیوں کے خودنوشت دستخط کے واسطے

کتابچے لیے ہوئے

کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں

ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں

مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے

ابل پڑے الجھتے بازوئوں چٹختی پسلیوں کے

پر ہراس قافلے

گرے، بڑھے، مڑے بھنور ہجوم کے

کھڑی ہیں یہ بھی راستے پہ اک طرف

بیاض آرزو بکف

نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں

لرز رہا ہے دم بدم

کمان ابرواں کا خم

کوئی جب ایک ناز بے نیاز سے

حروف کج تراش کی لکیر سی

تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی

کسی عظیم شخصیت کی تمکنت

حنائی انگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی

تو زرنگار پلوئوں سے جھانکتی کلائیوں کی

تیز نبض رک گئی

وہ بائولر ایک مہ وشوں کے جمگٹھوں

میں گھر گیا

وہ صفحۂ بیاض پر بصد غرور کلک گوہریں

پھری

حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری

میں اجنبی میں بے نشاں

میں پابہ گل!

نہ رفعت مقام ہے‘ نہ شہرت دوام ہے

یہ لوح دل۔۔۔یہ لوح دل!

نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

چھوٹی سی کوشش

سومی ہرنی اپنی پسندیدہ کتاب تھامے لالی بکری کے ساتھ جیسے ہی گھنے جنگل میں داخل ہوئی تو اسے دور سے مومو چڑا مٹی کھودتا ہوا دکھائی دیا۔

شکرادا کرنا!

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنا انسان کا فرض ہی نہیں انسان کی عبادت میں بھی شامل ہے۔

افلاطون:جس کے مکالمات نے سقراط کو زندہ کر دیا

اگرچہ عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ افلاطون دنیا کا سب سے بڑا فلسفی تھا، لیکن اس نے جو مکالمات لکھے ہیں، ان میں وہ دوسروں کے اقوال نقل کرتا ہے۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

پولیس کاروں پر فلیش لائٹ کیوں ہوتی ہے؟

محنت ہی سے راحت ملتی ہے

محنت ہی سے راحت ملتی ہے،محنت ہی سے عظمت ملتی ہے

سنہری باتیں

٭:اپنے تھوڑے کو دوسرے کے زیادہ سے بہتر جانو، سکون میں رہو گے۔