شام کی دہلیز پر آخری مکالمہ

تحریر : آدم شیر


رشید امجد اپنے افسانوں میں مرکزی کرداروں کو کوئی نام نہیں دیتے ’’ میں‘‘، ’’وہ‘‘، ’’آپ‘‘ اور ’’اس‘‘ ہی ان کے مرکزی کردار ہوتے ہیں۔ وہ اس علم کے بجائے اسم ضمائر استعمال کرتے ہیں’’وہ‘‘، ’’اس‘‘ وغیرہ اسم ضمائر ہیں۔ اس افسانے کے تین حصے ہیں۔ یہاں ’’اس‘‘ اور ’’وہ‘‘ مرکزی کردار ہیں۔

ایک شام’’ وہ‘‘ اس کے پاس آیا اور کہا وہ زندہ نہیں ہے۔’’اس‘‘ نے بتایا کہ اسے اس کی اس بات پر یقین ہے کہ وہ زندہ نہیں مگر جب اس نے اپنی موت کا اصرار کیا تو باقی لوگوں کا ردعمل بہت مختلف تھا۔ وہ اس کو ذہنی مریض سمجھنے لگ گئے۔ حتیٰ کہ اس کے بھائی اور بیوی بھی اس کی کیفیت کو پاگل پن سمجھتے ہیں۔ وہ سب سے لاتعلق ہو گیا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اب اس کا زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔’’ وہ‘‘ کے دفتر کے ساتھی اس کی خاموشی سے پریشان ہیں ’’اس‘‘ اپنے دوست’’وہ‘‘ کی لاتعلقی کو ختم کرنے کیلئے اس سے مکالمہ کرتا ہے۔’’وہ‘‘ بتاتا ہے کہ وہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کی کلکاریوں سے محظوظ ہوتا ہے اور خود کو اکٹھا کرنے لگتا ہے۔ مگر پھر بکھر جاتا ہے۔ اسے نہیں معلوم اکٹھا ہو کر بکھرنے میں اذیت ہے یالذت صرف ایک لمحہ زندگی میںفیصلے کا ہوتا ہے۔ دوسرے حصے میں ’’میں‘‘ تشکیک کا شکار ہے کہ وہ موجود ہے یا نہیں۔

اس کو اپنے ہونے پر شبہ ہے ۔ اس کیلئے ہر شے اجنبی ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ یہ اجنبیت کی دیواریں کب ان کے بیچ اپنا رستہ بنا گئیں۔ وہ سب پر شک کرتا ہے۔ اپنی بیوی کی وفا پر یقین نہیں کرتا ہاں مگر اس کے بچے کی آواز اس کو اس اجنبیت سے لمحہ بھر کو نکالتی ہے مگر وہ خود کو پھر اسی میں ضم کر لیتا ہے۔ یہ زندگی ایک پھول ہے جو تیرتا رہے تو زندگی اور ڈوب جائے تو موت ۔ ہر ڈوبنے اور تیرنے کا درمیانی وقفہ ایک خواب ہے۔ تیسرے حصے میں ’’وہ‘‘ کی کیفیت پہلے سے دو چند ہے۔ اس کی بیوی کو لگتا ہے کہ اس پر آسیب کا سایہ ہو گیا ہے۔ وہ اس دن جلدی گھر چلا گیا۔ اس گھر آیا تو اس کی بیوی نے بتایا کہ وہ (انو بھائی) نے خود کشی کر لی ہے۔ میں جب ہسپتال پہنچا تو ’’وہ‘‘ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں خود کو پا لینے کی چمک دیکھی تھی مگر وہ سمجھ نہ پایا کہ اس نے نہ تو اس کو موت پر پرسا دیا اور نہ اب زندگی بچ جانے پر ہی مبارکباد دے سکا اور چپ چاپ وہاں سے نکل آیا۔

 رشید امجد کا یہ افسانہ بیگانگیت کے تاثر سے بھرپور افسانہ ہے۔ فرد کو اپنے ہونے کا دکھ ہے اور کو ہوکر نہ ہونے کا بھی دکھ ہے۔ اس کی شناخت نہیں ہے۔ رشید امجد کے ہاں شناخت کا مسئلہ تین سطحوں پر ملتاہے۔ خود ایک انٹرویو میں رشید کہتے ہیں کہ’’ شناخت کا مسئلہ میرے یہاں تین سطحوں پر آیا ہے۔ ابتداء میں سیاسی، سماجی مسائل اور طبقاتی معاشرے میں فرد کی پہچان، دوم اپنی ذات کے حوالے سے باطنی خواصی کرتے ہوئے فرد کی پہچان اور سوم کائنات کے وسیع تر تناظر میں فرد کی اہمیت اور شناخت۔ یہ سارے سائل کسی حد تک تصوف کی فکری روایت سے منسلک ہیں۔ اس لئے اس میں بیان کرنے کی سطحیں بھی مختلف ہیں۔

آدم شیر ایک نوجوان ادیب اور صحافی ہیں، ان کا ایک افسانوی مجموعہ

 ’’ایک چپ سو دکھ‘‘ کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وطن کی عزت ہمارے ہاتھ!

ہم پاکستانی ہر معاملہ میں اپنا ثانی آپ ہیں، ہونا بھی چاہئے کیونکہ دل ہے پاکستانی۔ ہمارے تمام تر معاملات عجیب بھی ہوتے ہیں اور بھرپور بھی۔ ہر معاملے میں ہمارا رویہ منفرد بھی ہوتا ہے اور نرالا بھی۔

پرندوں کا دوست ببلو

ایک سرسبز جنگل کے پاس گاؤں میں بَبلو نام کا ایک خوش مزاج اور ذہین بچہ رہتا تھا۔

انمول باتیں

بچے معاشرے کا قیمتی سرمایہ

گاؤں سے جب آئے گائے

گاؤں سے جب آئے گائے

سنہری باتیں

٭…صبر کا دامن تھام لو اور صرف اللہ تعالیٰ کے طلبگار بن جاؤ۔

ذرا مسکرائیے

گاہک (دکاندار سے) :بھائی صاحب! آپ کے پاس چینی ہے؟۔