قیدیوں سے حسن سلوک کا حکم
دین اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کادوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیںبلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ اسلام نے جہاں اعلیٰ اخلاقیات کا حکم دیا ہے وہیں مجرموں اور قیدیوں کے حقوق بھی بیان کر دئیے ہیں تاکہ کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہ ہو سکے۔
دین اسلام نے انسان ہونے کے اعتبار سے قیدیوں کے ساتھ بھی حتی الامکان حسنِ سلوک روا رکھنے کا درس دیاکیونکہ قیدیوں سے انسانیت باطل نہیں ہو گی۔ایک انسان کو انسان ہونے کی حیثیت سے جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے، اسے بہرحال فراہم کی جائیں گی۔ جیسے کھانا، پیاس بجھا نے کیلئے پانی فراہم کرنا، تن ڈھانپنے کیلئے کپڑا مہیا کرنا وغیرہ۔ قیدیوں کو بھوکا، پیاسا رکھنا، یا بے لباس کرنا جائز نہیں۔ایسے لوگ جو جنت میں جائیں گے ان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ایک وصف یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ لوگ قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’اور وہ اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور قیدیوں کو کھاناکھلاتے ہیں‘‘(سورہ الدھر:8 )۔
قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی حرکت:رسولِ اکرم ﷺ نے بنی قریظہ کے قیدیوں کے بارے میں صحابہ کرامؓ کو ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: انھیں خوش اسلوبی سے اور حسن سلوک سے قید کرو، انہیں آرام کا موقع دو، کھلائو اور پلائو (الموسوعۃ الفقھیۃ، 4/198) ۔ جن دنوں میں بنو قریظہ کے لوگوں کو قید کیا گیا وہ گرمی کے ایام تھے، تپش زیادہ تھی، اس لیے آپ ﷺ نے بطور خاص دن میں قیلولہ کیلئے مواقع فراہم کرنے کی تاکید فرمائی ۔گرمی کے ایام میں قیدیوں کی گرمی کا خیال نہ رکھنا، دھوپ میں چھوڑ دینا، آرام کا موقع نہ دینا غیر انسانی عمل ہیں اور قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی عمل جائز نہیں ۔معلوم ہوا کہ قیدیوں کو الیکٹرک شاک لگانا، قیدیوں پر کتے چھوڑنا، قیدیوں کو سخت ٹھنڈک میں بر ف کی سلوں پر ڈال دینا، حدسے زیادہ مار پیٹ کرنا، مسلسل جاگنے پر مجبور کرنا، یا ان کی جائے رہائش میں تیز روشنی یا تیز آواز کا انتظام کر نا شرعاً درست نہیں ہے۔
غیرانسانی فعل : قتل وغارت گری، چور ی، زنا کاری، شراب نوشی، ظلم وزیادتی اور اس طرح کے دیگر جرائم یقیناً اسلام کی نظر میں بھی انتہائی قابل مذمت ہیں۔ ان کے مرتکبین سخت سے سخت سزا کے مستحق ہیں لیکن شریعت نے اس کے بھی حد ود متعین کیے ہیں اور ان میں اہم چیز انسانیت کا احترام ہے۔ ہر وہ سزا جس سے آدمیت کی تو ہین ہوتی ہو جائز نہیں ہے ۔
صحابہ کرام ؓ کاقیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک: اسلام میں حقوقِ انسانی اور بنیادی آزادی کے تحفظ کا مکمل لحاظ رکھا گیا ہے، غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک کی قطعا گنجائش نہیں۔مشہور سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی اسیرانِ بدر کے ساتھ صحابہ کرامؓ کے سلوک کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : صحابہ کرام ؓنے ان کے ساتھ یہ برتائو کیا کہ ان کو کھانا کھلاتے تھے او رخود کھجور کھاکر رہ جاتے تھے(سیرۃ النبی :1 330/)۔
قیدیوں کو ہتھکڑیاں ،بیڑیاں لگانااور زنجیروں سے جکڑنا :قرآن واحادیث سے قیدیوں کو زنجیروں سے جکڑ نے، ہتھکڑیاں لگانے اور پائوں میں بیڑیاں لگانے کی اجازت معلوم ہوتی ہے کہ مجر م کی شوکت ختم ہو جائے اور اس کے شر سے لوگ محفوظ رہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’ ’سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مار چلو، جب ان کی خوب خونریزی کر چکو تو خوب مضبوط باند ھ لو‘‘(سورہ محمد: 4)۔
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فوج کا ایک دستہ قبیلہ نجد کی طرف روانہ فرمایاجویمامہ کے رئیس ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر کے مدینہ لے کر آیا اوراسے مسجدِ نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ تیسرے دن آپ ﷺ نے اسے چھوڑ نے کی ہدایت دی۔ دل میں آپ ﷺکی محبت اور ایما ن کی الفت گھر کر چکی تھی، غسل کے بعد ایمان قبول کر لیا(سنن ابی دائود: 2331)۔ اس زمانے میں باضابطہ کوئی قید خانہ نہیں تھا، قیدیوں کو اسی طرح باندھ کربے بس کیا کرتے تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیدیوں کو باندھنا، ہتھکڑیاں اور بیٹریاں ڈالنا جائز ہے ۔
قیدیوں کو جسمانی اذیت دینا: سرکش قیدیوں کو معمولی جسمانی اذیت بھی دی جا سکتی ہے، اس کے جواز پر عہد نبوی ﷺ کے اس واقعے سے روشنی پڑتی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے غزوہ بدر کے موقع پرقریش کے حالات معلوم کر نے کیلئے بعض صحابہ کرامؓ کو مامور کیاجنہوں نے ابو سفیان کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کی غرض سے ایک غلام کو گرفتار کر لیا اور اس کی پٹائی بھی کرتے رہے۔ آپ ﷺ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، جب نماز سے فارغ ہوے تو غلام کی پٹائی پر کسی ناراضی کا اظہار نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ غلام صحیح کہتا ہے، اس کو ابو سفیان کا علم نہیں‘‘(ابو دائود: 2332)۔ یاد رہے کہ کوئی بات اقرار کرانے یا کسی جانکاری کے حصول کیلئے صرف معمولی ضرب ہی لگا ئی جا سکتی ہے۔ غیر انسانی مارکسی بھی صورت میں جائز نہیں۔
قیدیوں کے بنیادی حقوق: اسلام انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کے تحفظ کا پا بند کرتا ہے اور کسی ایسے عمل کی اجازت نہیں دیتا جو حقوق انسانی اور بنیادی آزادی کو متاثر کرتا ہو، جیسے انسان کے زندہ رہنے کیلئے مناسب غذا، صاف پانی کی ضرورت ہے، قیدیوں کو اس سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔ اسی طرح علاج ومعالجہ، حفظانِ صحت کیلئے ورزش وتفریح،ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کی انہیں مکمل اجازت ہو گی۔ بنیادی حقوق میں اخبار ات پڑھنا، ریڈیو سننا، احباب و اقارب سے ملنا، دوسرے قیدیوں سے ملاقات، تعلیم اور ہنر سیکھنا بھی داخل ہے، ان حقوق سے انہیںمحروم نہیں کیا جائے گا۔
انسان کو آزادی جیسی عظیم نعمت سے محروم رکھنا ہی ایک سخت سزا ہے۔ قید فی نفسہ بہت سے حقوق سے بے انتہا محرومی کا نام ہے، اس لئے شریعت نے مخصوص حالات ہی میں قید وبند کی سزا کی اجازت دی ہے۔ جب یہ سزا دے دی گئی تو قید یوں کیلئے یہی سزا کافی ہے، اب مزید حقوقِ انسانی یا بنیادی آزادی سے محروم رکھنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی یہ عمل شرعا جائز ہے ۔لہٰذا ارباب اقتدار کو چاہیے کہ وہ قیدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہ رکھیں ۔