’’مکار بھیڑیا‘‘

تحریر : انور سلطانہ


کسی جنگل میں ایک بھیڑیا رہتا تھا۔ ایک دن گوشت کھاتے ہوئے اس کے گلے میں ہڈی پھنس گئی۔ بھیڑیابہت پریشان ہوا کہ وہ ہڈی کو کیسے نکالے،اس نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح وہ ہڈی نکال سکے لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔

اس نے سوچا کہ وہ ہڈی خود سے نہیں نکال پائے گا لہٰذااس کو کسی کی مدد لینی ہوگی۔بھیڑیا مدد کی تلاش میں جنگل سے چل پڑااور اِدھر اُدھر دیکھنے لگا کہ شاید اسے کوئی مل جائے جو اس کی ہڈی کو نکال سکے۔تب ہی اس کو سامنے ایک خرگوش نظر آیا۔وہ اس خرگوش کے پاس گیااور کہا۔’’خرگوش بھائی مجھے تھوڑی مدد کی ضرورت ہے دراصل میرے گلے میں ہڈی پھنس گئی ہے ،مہربانی کرکے اس کو نکال دو‘‘۔خرگوش بولا۔’’میں اور تمہاری مدد!بھول گئے اس دن تم مجھے کھانے والے تھے ،میں تم پر کیسے یقین کرلوں ؟مجھے تو لگتا ہے کہ یہ بھی تمہاری کوئی چال ہے،نا بھائی نا میں تمہاری کسی چال میں آنے والا نہیں ۔تم جائو یہاں سے‘‘۔

بھیڑیا مایوس ہو کر وہاں سے چلا گیا۔تھوڑا آگے چلنے کے بعد اس کو ایک بندر دکھائی دیاجو کہ درخت پر لٹک کر کیلا کھا رہا تھا۔اس نے بندر سے بھی وہی سوال کیا۔’’بندر بھائی تھوڑی مدد کردو ،تم تو میرے اچھے دوست ہو‘‘۔بندر نے بھیڑیے سے سوال کیا۔’’کیا ہوا بھیڑیا بھائی؟تم اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو؟‘‘بھیڑیے نے جواب دیا۔’’بھائی میرے گلے میں ہڈی پھنس گئی ہے ،نکل نہیں رہی اور بہت درد ہورہا ہے ۔تمہارے ہاتھ تو بہت لمبے ہیں مہربانی کرکے اس کو نکال دو،میں ساری زندگی تمہارا احسان مند رہوں گا۔‘‘بند ر نے اس کو انکار کرتے ہو ئے کہا۔

’’آگے بڑھو ! آگے بڑھو! میں تو کیلا کھا رہا ہوں،مجھے پریشان مت کرو،میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا‘‘۔بھیڑیا ایک بار پھر انکار سن کر مزید دکھی ہو گیا مگر اس نے ہار نہ مانی اورسوچنے لگا کہ اس بار جو بھی مل گیا اس کو کسی بھی طرح منانا ہی ہوگا۔ چلتے چلتے وہ ندی کنارے آپہنچا۔اس نے دیکھا کہ ندی میں ایک سارس کھانا کھا رہا تھاجیسے ہی بھیڑیے کی نظر سارس کی چونچ پر پڑی تو وہ بہت خوش ہوا۔بھیڑیا سارس کے پاس گیا اور بولا۔’’آج کتنا اچھا دن ہے ،اس ندی میں بہت ساری مچھلیاں ہیں ۔ویسے میرے دوست تم اتنی ساری مچھلیاں اکیلے نہیں ڈھونڈ پائوگے۔اگر تم چاہو تو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں لیکن اگر تم چاہو تو؟‘‘سارس نے جواب دیا۔’’تم میری مدد کرو گے؟‘‘بھیڑیے نے کہا،ہاں ہاں!ضرور کیوں نہیں‘‘ سارس نے بھیڑیے سے کہا۔’’تم بہت چالاک ہو تو میں تم پر کیسے اعتبار کرلوں کہ تم بغیر مطلب کے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟‘‘بھیڑیے نے خوشامد کے انداز میں کہا۔

’’ارے نہیں نہیں! تم بہت اچھے ہوتمہاری چونچ بھی بہت لمبی ہے۔دراصل ایک پریشانی ہے میرے گلے میں ہڈی پھنس گئی ہے تو کیا تم اس کو نکالنے میں میری مدد کر سکتے ہو؟‘‘

سارس نے جواب دیا۔’’ارے اتنی سی بات !رکو میں نکال دیتا ہوں ‘‘سار س اپنی چونچ کی مددسے بھیڑیے کے گلے سے ہڈی نکال دیتا ہے اور بھیڑیے سے کہتا ہے۔’’چلو اب ندی سے مچھلی نکالنے میں میری مدد کرو‘‘بھیڑیے نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’تم نے میرے گلے میں چونچ ڈال کر ہڈی نکال دی اور اس کے بعد تم ابھی بھی زندہ ہو ،میں نے تمہاری جان بخش دی یہی بہت ہے ۔اگر اب ایک بھی بات بولے تو مار ڈالوں گاچلو بھاگ  جاؤیہاں سے ـ‘‘سارس ڈر کے مارے وہاں سے فوراً بھاگ گیا۔

دیکھابچو!’’چالاک لوگوں کی باتوں میں کبھی نہیں آنا چاہیے وہ ہمیشہ آپ کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘‘

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید الاضحیٰ قربانی تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ

بارگاہ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ جد الانبیاء حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں حضرت آدم ؑ کے بیٹوں ہابیل و قابیل کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے کہ دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کی، ہابیل نے عمدہ دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار یعنی غلہ پیش کیا۔ قربانی کا عمل ہر اُمت میں مقرر کیا گیا،

قربانی صرف رسم نہیں، ایک عظیم عبادت

اپنی نفسانی خواہشات ذبح کرنے کے نکتۂ نظر سے جانور قربان کریں، نمائش کیلئے نہیں

عیدالاضحیٰ پر رسول اللہ ﷺ نے قربانی کیسے کی؟

حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ !یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے صحابہ کرامؓ ؓنے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ان قربانیوں کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟ فرمایا ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ عرض کیا اوراون (جن جانوروں میں بال کے بجائے اون ہوتی ہے۔ ان سے ثواب کس طرح ہوگا) آپﷺ نے فرمایا ! اون کے بھی ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ (ابن ماجہ)

فلسفہ قربانی تاریخی، اسلامی اور معاشی حیثیت

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قوم میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ ؑ کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام نے قربانی کا حقیقی مقصد اور صحیح فلسفہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔

حج:دین و اسلام کی عظمت و شوکت اور اتحادِ اُمت کا عظیم اجتماع

حج اسلام کے پانچ ارکان میں آخری رکن ہے، اس میں اللہ تعالیٰ سے محبت اور عظمت کی تکمیل اور عبدیت و فناعیت کی تصویر ہے

خطبہ حجۃ الوداع

احکامِ الٰہی اور حقوقِ انسانی کا جامع منشور:خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کی عظمت احترام اور حقوق پر مبنی ابدی تعلیمات اور اصول عطا کئے