KALEسپرفوڈ کیوں کہلاتی ہے؟

تحریر : تحریم نیازی


پاکستان میں بند گوبھی کی یہ قسم ہر جگہ دستیاب نہیں ہے جو ذائقے میں ترش بھی ہے اور کسی قدر کڑواہٹ بھی لئے ہوئے ہے۔ گہرے سبز پتوں کی باریک باریک جھریوں بھری شکل کی یہ سبزی دنیا بھر میں صحت کے اعتبار سے ’’سپر فوڈ‘‘ کہی جاتی ہے۔

یہ مخصوص گوبھی آپ کو اپنے سبزی والے سے نہیں ملے گی لہٰذا اپنے شہر کی کسی بڑی سپر مارکیٹ میں جایئے کیونکہ بروکلی ہو یا Kale یہ سبزیاں عام طور پر گلی کوچوں میں پکنے کیلئے نہیں آتی۔ عام لوگوں کو اس سبزی کے طبی خواص کا علم بھی نہیں ہے، اس لئے وہ اسے پاکستانی سبزی نہیں سمجھتے۔

 فولادی قوت کا سرچشمہ

بند گوبھی، بروکلی، پھول گوبھی اور یہ تمام ایک ہی خاندان کی سبزیاں ہیں چنانچہ ان کے طبی خواص میں بھی حد درجہ مماثلت پائی جاتی ہے۔

Kaleمیں سرخ گوشت کی نسبت زیادہ آئرن اور اسی طرح کیلشیئم کی مقدار بھی پائی جاتی ہے۔ تاہم بنیادی طور پر یہ سبزی ’’وٹامن کے‘‘ پر مشتمل ہے۔ ’’وٹامن کے‘‘ انسانی جسم میں فاسد مادوں کا ذخیرہ نہیں ہونے دیتا۔ یہ مختلف سرطانوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کرتا ہے چنانچہ Kale کھانے والوں کی شریانوں میں خون رواں دواں رہتا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر کو بڑھنے سے روکنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ اس میں موجود کیلشیئم کی وجہ سے ہڈیوں کے امراض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ سبزی جوڑوں کے درد، گھٹنے اور ٹخنے سوجنے کی بیماری میں افاقہ دیتی ہے۔

Kaleوٹامن اے اور سی سے بھرپور 

یہ بلڈپریشر کو نارمل رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ کولیسٹرول کی سطح میں کمی اور اسے ہموار سطح پر رکھتی ہے۔ وٹامن اے کی مدد سے استعمال کرنے والوں کو بصارت سے متعلق عارضوں میں آرام ملتا ہے۔ یہ وٹامن ہماری جلد کے کولا جن کی سطح بہتر رکھتا ہے۔ کولا جن ایسی پروٹین ہے جو عضلات اور پٹھوں میں پائی جاتی ہے لیکن بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ یہ اپنی نمی کھونے لگتی ہے۔ وٹامن سی کے ساتھ مل کر یہ قوت مدافعت کو بہتر کرتی ہے۔ یعنی Kaleمیں ان دونوں وٹامنز کی وجہ سے ہمارے مدافعتی نظام کو تحریک ملتی ہے۔

پاور فل اینٹی آکسیڈنٹس 

اس سبزی  میں اومیگا 3فیٹی ایسڈز ہماری جلد، بالوں اور ناخنوں کے لئے کارآمد ہیں۔ اس کے علاوہ آرتھرائٹس کے علاوہ مختلف اینٹی بایوٹیکس کے مضر اثرات دور کرنے اور مختلف اقسام کے کینسرز سے بچائو کیلئے Kale کھانا بے حد مفید ہے۔

Kale خوش ذائقہ نہیں،کیسے کھائی جائے؟

عام طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس سبزی کو کیسے استعمال کیا جائے۔ اگر آپ اسے سادہ انداز میں نہیں کھا سکتے تو سیب اور لیموں کے جوس، تربوز کے شربت کے ساتھ ادرک کا عرق ملا کر اس سبزی کو Blendکیا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ مشروب ذائقے اور غذائیت دونوں میں بہتر رہے گا۔

اگر آپ Kaleکو بھاپ میں پکالیں۔ اس پر ہلکا سا نمک، ایک چائے کے چمچ کے برابر زیتون کا تیل چھڑک کر سلاد بنائی جا سکتی ہے یعنی اس ایک سبزی کے ساتھ مختلف شکلوں میں کئی چیزیں تیار کی جا سکتی ہیں۔ جن کے طبی و غذائی خواص بھی برقرار رہیں اور غذائیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ بھی نہ ہو۔ تجرباتی بنیادوں پر کچھ بھی بنائیں اسے صحت بخش انداز میں استعمال کریں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید الاضحیٰ قربانی تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ

بارگاہ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ جد الانبیاء حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں حضرت آدم ؑ کے بیٹوں ہابیل و قابیل کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے کہ دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کی، ہابیل نے عمدہ دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار یعنی غلہ پیش کیا۔ قربانی کا عمل ہر اُمت میں مقرر کیا گیا،

قربانی صرف رسم نہیں، ایک عظیم عبادت

اپنی نفسانی خواہشات ذبح کرنے کے نکتۂ نظر سے جانور قربان کریں، نمائش کیلئے نہیں

عیدالاضحیٰ پر رسول اللہ ﷺ نے قربانی کیسے کی؟

حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ !یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے صحابہ کرامؓ ؓنے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ان قربانیوں کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟ فرمایا ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ عرض کیا اوراون (جن جانوروں میں بال کے بجائے اون ہوتی ہے۔ ان سے ثواب کس طرح ہوگا) آپﷺ نے فرمایا ! اون کے بھی ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ (ابن ماجہ)

فلسفہ قربانی تاریخی، اسلامی اور معاشی حیثیت

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قوم میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ ؑ کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام نے قربانی کا حقیقی مقصد اور صحیح فلسفہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔

حج:دین و اسلام کی عظمت و شوکت اور اتحادِ اُمت کا عظیم اجتماع

حج اسلام کے پانچ ارکان میں آخری رکن ہے، اس میں اللہ تعالیٰ سے محبت اور عظمت کی تکمیل اور عبدیت و فناعیت کی تصویر ہے

خطبہ حجۃ الوداع

احکامِ الٰہی اور حقوقِ انسانی کا جامع منشور:خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کی عظمت احترام اور حقوق پر مبنی ابدی تعلیمات اور اصول عطا کئے