مطایبات چراغ حسن حسرت

تحریر : ڈاکٹر طیب منیر


مولانا چراغ حسن حسرت ایک فرد نہیں ایک دبستان تھے۔ شاعر ہی نہیں، شاعر گر بھی تھے۔ ادب و صحافت میں ان کے کمالات اس وقت تک باقی رہیں گے، جب تک اردو زبان زندہ ہے، وہ شاعری اور نثر دونوں کے نباض تھے۔ عروض میں یگانہ اور بے عیب نثر نگاری میں منفرد۔ سیرت نگاری کا نیا اسلوب اور طرز نگارش کی بہترین خصوصیتیں لیے ہوئے ’’مردم دیدہ‘‘ حسرت کو خاکہ نگاری میں ایک بلند مقام اور صاحب طرز انشا پرواز ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔’’

جدید جغرافیہ‘‘ پنجاب ایک ایسا شہ پارہ ہے، جو طنزیات اور مطایبات میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اس پائے کی تحریریں اردو میں شاذ ہی لکھی گئی ہیں۔ مجازات کے استعمال سے حقیقت حال کا بیان اس ندرت اور شادابی و تازگی سے کسی نے کم ہی کیا ہے۔

’’آفتاب‘‘ (1926ء) اور ’’شیرازہ‘‘ (1936ء) حسرت کی ادبی فتح مندیوں اور رجحان سازیوں کے دو روشن منیار ہیں۔ آج بھی لکھنے والے ان سے کسب نور کر رہے ہیں۔ ’’آفتاب‘‘ مشرقی ہندوستان کا اکیلا ماہوار ادبی رسالہ تھا، جس نے ’’آفتاب آمد دلیل آفتاب‘‘ کے قول کو ادبی دنیا میں سچ کر دکھایا۔ ’’شیرازہ‘‘ نے لاہور کی ادبی فضائوں کو اپنی ہفت روزہ اشاعتوں سے بہجت اور احتراز کی کیفیت سے ایک زمانے کو متاثر کیا۔ احمد ندیم قاسمی نے اپنی پہلی کتاب ’’کیسر کیاری‘‘ میں لکھا تھا: ’’چراغ حسن حسرت نے ’’شیرازہ‘‘ جاری کیا اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے امائوس کی رات میں بدر منیر اچھل پڑا ہو‘‘۔

حسرت نے متفرق موضوعات پر ’’احسان‘‘ میں کالم لکھے۔ ادبی، لسانی، سیاسی، سماجی، مذہبی، عالمی غرض کہ وہ کوالم ہر قسم کے موضوعات کو محیط تھے۔ انگریز کے پرفتن دور میں اخبارات پر سنسر شپ کی تلوار جس بے رحمی سے چلائی گئی، حسرت نے اس کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ اس کالم کو پڑھ کر یہاں ساٹھ ستر سال پہلے کی سیاست و صحافت میں انگریز گردی کا علم ہوتا ہے وہاں مولانا چراغ حسن حسرت کی معجز نگاری اور مطایبات میں مہارت کاملہ کا بھی بخوبی ادراک ہو جاتا ہے۔

سنسر اور کرفیو

اُن دنوں لاہور پر دو بلائیں مسلط ہیں۔ ایک سنسر دوسرا کرفیو۔ آدھی بات حلق میں ہے، آدھی زبان پر کہ حلق کے داروغہ جناب سنسر نے جھپٹا مارا اور آدھی بات اڑالے گئے۔ باقی آدھی کو لے کر آپ ٹاپتے پھریئے۔ اچھے سے اچھا شعر کہا۔ سوا مصرع کو سنسر کی نظر کھا گئی۔ باقی رہا’’پون مصرع‘‘ اسے شہد لگا کر چاٹیے اور جھوم جھوم کر پڑھیے۔ افسوس کہ سنسر کی نظر کھا گئی اس کو۔

میاں سنسر سے یہ بھی تو نہیں کہہ سکتے کہ حضرت وزن غتر بود ہو گیا۔ پورا مصرع تو رہنے دیا ہوتا۔ یہ بھی نہ سہی۔ ایک رکن کی قطع و برید سے مثمن کو مسدس ہی بنا دیتے۔ جناب سنسر سرکاری آدمی۔ یہ بھی ڈر ہے کہ کہیں بیچارے سند باد جہازی کے ’’افاعیل‘‘ یا کم از کم ایک آدھ زند مقرون یا سبب ثقیل پر ہی آفت نہ آ جائے۔

سنسر کو الفاظ کے قطع و برید میں جو کمال حاصل ہے، اسے دیکھ کر ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ فخر اگلے وقتوں کے ایک بزرگ تھے، ان کی شان میں کسی نے یہ شعر کہا ہے:

کوٹھے سے برق ناز گری سر اڑا دیا

نیچے کھڑا تھا فخر اسے خر بنا دیا

سنسر کا یہی حال ہے۔ کبھی پیرے کے پیرے اڑا دیئے جاتے ہیں، کبھی سطروں پر ’’مقراض احتساب‘‘ چلتی ہے۔ کبھی جملوں پر آفت آتی ہے۔ کبھی الفاظ غتر بود ہو جاتے ہیں۔ کبھی حروف پر برق ناز گرتی ہے اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نقطے اور شوشے اڑ جاتے ہیں۔

ہمارا تو یہ حال ہے کہ دو جملے بھی لکھتے ہیں۔ تو ’’چشم سنسر دور‘‘ کا وظیفہ ورد زبان ہوتا ہے۔ اللہ سے دعائیں مانگی جاتی ہیں کہ ہمارے نتائج افکار کو جو بمنزلہ فرزندان کے ہیں۔ سنسر کی نظر سے بچائیو۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ مائیں بچوں کو بنا سنوار کے کپڑے پہناتی ہیں تو ماتھے پر تھوڑی سی کالک بھی لگا دیتی ہیں تاکہ وہ نظر بد سے بچے رہیں۔ ہم نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا ہے۔ یعنی اخبار کے جس حصے پر سنسر کی چشم عنایت پڑتی ہے، اسے کوچی لے کر سیاہ کر دیتے ہیں، تاکہ دوسرے مضامین سنسر کی نظر بد سے بچے رہیں۔ قارئین سے استدعا ہے کہ آپ بھی ہمارے ساتھ ’’چشم سنسر دور‘‘ کے نعرے لگایئے اور چشم بد سے بچنے کا کوئی ٹونا ٹوٹکا یاد ہو تو ہمیں بھی بتایئے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے گا۔

دوسرے صاحب جناب کرفیو آرڈر ہیں۔ دن بھر تو یہ خدا جانے کہاں رہتے ہیں۔ جہاں رات ہوئی آموجود ہوئے۔ سرکار کے اقبال سے ان کا ایسا رعب داب ہے کہ بڑے بڑے خدائی خوار ، جو کئی کئی راتیں گھر نہیں آتے تھے، اپنے کمرے سے قدم باہر نہیں نکالتے ۔

آج کل کرفیو آرڈر کی وجہ سے راتوں کو عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ شہر کے جن آباد اور بارونق حصوں میں آدھی رات تک وہ گہما گہمی رہتی تھی کہ خدا کی پناہ۔ وہ سر شام سنسان نظر آتے ہیں۔ ادھر ساڑھے آٹھ بجے اور آدھر دکانیں بند ہو گئیں ۔ نو بجتے بجتے تو شہر بالکل ویران ہو جاتا ہے۔ راتوں کو شہر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلے جائو راستے میں پولیس والوں کے سوا اور کوئی متنفس نظر نہیں آئے گا۔ ہاں وہ کتے، جو پہلے کہیں بارہ بجے ٹولیاں بنائے سڑکوں پر پہرہ دیتے نظر آتے تھے، اب نو بجے ہی شہر پر تسلط جما لیتے ہیں۔ جہاں کوئی راہ گیر نظر عف عف کرتے لپکے اور ٹیٹو ا دبایا۔ کوئی پولیس والا ہو تو پاس دکھانے سے نجات ہو جاتی ہے، لیکن یہ کم بخت کتے، جو خدا جانے سڑکوں پر جمع ہو کر کیا مسکوٹ کرتے رہتے ہیں، پاس کا بھی احترام نہیں کرتے۔

ان دنوں یہ غلغلہ بلند ہے کہ سنسر صاحب کی ’’مقراض احتساب‘‘ سے کوئی اخبار نہیں بچا۔

جدھر دیکھے لولی لنگڑی  خبریں۔ اندھے کانے شذرات اور لنجے مراسلے نظر آتے ہیں۔ مقالہ افتتاحیہ اخبار کی ناک سمجھا جاتا ہے ، لیکن جہاں سنسر کا وار بھرپور پڑ گیا، ناک  صاف اڑ گئی ہے۔ نکٹا جئے برے احوال۔

آخر آپ ہی انصاف کیجئے کہ کب تک کوئی ’’نکٹا سلامت اور کان کٹا مبارک کے نعرے لگائے اور سنسر کے گن گائے۔ ہم نے تو یہی مناسب سمجھا کہ سنسر سے ناک کٹانے کے بجائے خود ہی اس کم بخت کا صفایا کر دیجئے۔ چنانچہ آج سے مقالہ افتتاحیہ نہیں لکھا جائے گا اور شہید گنج کا تذکرہ زبان قلم پر نہیں آئے گا۔

برسات کا زمانہ ہے، ہلکا ہلکا ترشح ہو رہا ہے اور خنک خنک ہوا چل رہی ہے۔ ایک تازہ وارد آغا جو غالباً جلال آباد سے آ گئے ہیں۔ جامن کے ایک پیڑ پر چڑھے پکی پکی جامنیں توڑ توڑ کر کھا رہے ہیں۔ اتنے میں شامت کا مارا بھونرا بھن بھناتا ہوا آ نکلتا ہے۔ آغا صاحب اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں ’’خوہ! بِن بِن کیا کرتا ہے۔ ہم کالا کالا نہیں چھوڑے گا‘‘۔سنسر صاحب کی اس سے زیادہ اور کیا مدح کی جا سکتی ہے کہ جب سے انہیں اخبار نویسوں پر مسلط کیا گیا ہے۔ خالص افغانہ انداز میں ’’کالا کالا ایک نہ چھوڑے گا‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں جہاں حروف کی سیاہی نظر آئی ’’مقراض احتساب بکف‘‘ دوڑ پڑے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وطن کی عزت ہمارے ہاتھ!

ہم پاکستانی ہر معاملہ میں اپنا ثانی آپ ہیں، ہونا بھی چاہئے کیونکہ دل ہے پاکستانی۔ ہمارے تمام تر معاملات عجیب بھی ہوتے ہیں اور بھرپور بھی۔ ہر معاملے میں ہمارا رویہ منفرد بھی ہوتا ہے اور نرالا بھی۔

پرندوں کا دوست ببلو

ایک سرسبز جنگل کے پاس گاؤں میں بَبلو نام کا ایک خوش مزاج اور ذہین بچہ رہتا تھا۔

انمول باتیں

بچے معاشرے کا قیمتی سرمایہ

گاؤں سے جب آئے گائے

گاؤں سے جب آئے گائے

سنہری باتیں

٭…صبر کا دامن تھام لو اور صرف اللہ تعالیٰ کے طلبگار بن جاؤ۔

ذرا مسکرائیے

گاہک (دکاندار سے) :بھائی صاحب! آپ کے پاس چینی ہے؟۔