کیا ہوم ورک ہو گیا؟

تحریر : عائشہ اکرم


زندگی میں ہر کام پر بچوں کی رہنمائی ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح سکول کا ہوم ورک مکمل کرنے کیلئے بھی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذیل میں ہم آپ کو چند تجاویز دے رہے ہیں تاکہ آپ بچوں کے ہوم ورک کو ان کیلئے پہلے سے زیادہ آسان دلچسپ اور نتیجہ خیز بنا سکیں۔

وقت اور جگہ کا انتخاب:گھر میں ایک صاف اور ہوا دار کمرہ مخصوص کیجئے، خواہ آپ کے کھانے کی میزاس کام کیلئے موزوں ہو، تاہم یہ تمام تر توجہ ہٹانے والی چیزوں سے مبرا ہے۔ اس وقت کھانے کی کوئی چیز میز پر نہ رکھی جائے۔ نہ موبائل، ٹیبلٹ یا پی سی وہاں رکھا جائے۔ ٹی وی اس کمرے میں ہو تو اسے بھی بند رکھیں۔ بچوں کا دھیان رکھیں کہ وہ بھرپور توجہ سے کام کر لیں۔ اگر آپ سہ پہر کا وقت مقرر کر لیں گی تو بچوں میں ڈسپلن پیدا ہوگا۔

دبائو یا ڈانٹنے سے گریز ضروری کیوں؟تاکہ آپ کے بچوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔ کوئی سوال یا مضمون مشکل ہو تو ذرا سی اور محنت کر لی جائے تو بچہ اپنی مدد آپ کے تحت ہوم ورک مکمل کر لے گا۔ کلاس میں اچھی پوزیشن کیلئے بچے کی مدد کی جائے اور اسے خود انحصاری کی عادت ڈالی جائے۔ ڈرائنگ بھی بچہ خود کرے، لکھنے کی مشق بھی خود کرے۔ رائٹنگ خراب ہونے کی صورت میں مائوں پر لازم ہے کہ بچے کو کسی خالی رجسٹر یا کاپی میں لکھنے کی مشق کرائیں پھر سکول کی کاپی پر لکھیں تاکہ لکھائی خراب نہ ہو۔ ابتدا میں بچے کو بال پین یا انک پین نہ استعمال کروائے جائیں صرف پنسل سے بار بار کی مشق کرنے سے لکھائی درست ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہوم ورک کے دوران مائوں یا بڑی بہنوں کو خود بھی پرسکون ہونا چاہئے۔ بچے پر غیر ضروری دبائو یادرشت لہجے میں ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے بچہ ہوم ورک سے متنفر ہو جائے گا۔ بچے کی شخصیت سنوارنے کیلئے اسے چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر نہ ڈانٹیے، ہر وقت کی روک ٹوک نہ کریں، سخت  لفظوں کے استعمال سے گریز کریں۔

بریک بھی ضروری ہے:پڑھائی کے دوران تازہ دم ہونے کیلئے بچوں کو تھوڑی دیر کا بریک دیں تاکہ اس پر سے کام کا دبائو کچھ کم ہو سکے۔ اس دوران اپنے بچے کو اسنیکس، جوس ، دودھ، چپس یا بسکٹس اور چاکلیٹس دیں۔ بہت چھوٹے بچے ہوں تو چھوٹا سا کھیل کھیلنے کی اجازت دے دیں کوئی کہانی سنائیں یا کارٹون فلم دکھا دیں مگر یہ بریک ایک گھنٹے پر محیط نہ ہو۔

والدین اور اساتذہ کی ملاقاتی تقریب میں ضرور جایا کریں: آپ محسوس کر رہی ہیں کہ اس ٹرم  میں کسی مضمون میں بچے کے خاطر خواہ نمبرز نہیں آئے، یا ہوم ورک زیادہ ہے یا بچے کو کوئی الجھن در پیش ہے تو آپ اپنے بچے کے اساتذہ سے ضروربات کریں۔ کئی سکول مڈٹرم سے پہلے یا فوراً بعد ایسی ملاقات کا باضابطہ اہتمام کرتے ہیں اور رپورٹ کارڈ کے ساتھ بچے کی رہنمائی اور والدین کے کردار پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو اس ضمن میں باہمی مشاورت کرنا بہت ضروری ہے۔

ہوم ٹیوٹر یا کوچنگ سینٹر؟ سائنس یا حساب کے مضامین کیلئے یا کسی اور مضمون میں رہنمائی کیلئے پروفیشنل اسٹاف سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ اگر والدین ان مضامین کا وافر علم نہ رکھتے ہوں تو ٹیوٹر ہی بچے کیلئے بہترین معاون اور مدد کار ثابت ہو سکتا ہے ۔

غرضیکہ بچوں کے اندر پڑھنے کی خواہش پیدا کرنا والدین اور اساتذہ دونوں کا کام ہے۔ کمزور تعلیمی کارکردگی بذات خود مسئلہ نہیں بلکہ متعدد عوامل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ان میں سے کچھ انفرادی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ذہانت، پڑھنے کی عادات اور تعلیمی کارکردگی میں اچھے اور برے نتائج میں ماحول اور رویوں کا بڑا کردار ہوا کرتا ہے۔

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید الاضحیٰ قربانی تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ

بارگاہ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ جد الانبیاء حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں حضرت آدم ؑ کے بیٹوں ہابیل و قابیل کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے کہ دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کی، ہابیل نے عمدہ دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار یعنی غلہ پیش کیا۔ قربانی کا عمل ہر اُمت میں مقرر کیا گیا،

قربانی صرف رسم نہیں، ایک عظیم عبادت

اپنی نفسانی خواہشات ذبح کرنے کے نکتۂ نظر سے جانور قربان کریں، نمائش کیلئے نہیں

عیدالاضحیٰ پر رسول اللہ ﷺ نے قربانی کیسے کی؟

حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ !یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے صحابہ کرامؓ ؓنے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ان قربانیوں کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟ فرمایا ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ عرض کیا اوراون (جن جانوروں میں بال کے بجائے اون ہوتی ہے۔ ان سے ثواب کس طرح ہوگا) آپﷺ نے فرمایا ! اون کے بھی ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ (ابن ماجہ)

فلسفہ قربانی تاریخی، اسلامی اور معاشی حیثیت

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قوم میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ ؑ کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام نے قربانی کا حقیقی مقصد اور صحیح فلسفہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔

حج:دین و اسلام کی عظمت و شوکت اور اتحادِ اُمت کا عظیم اجتماع

حج اسلام کے پانچ ارکان میں آخری رکن ہے، اس میں اللہ تعالیٰ سے محبت اور عظمت کی تکمیل اور عبدیت و فناعیت کی تصویر ہے

خطبہ حجۃ الوداع

احکامِ الٰہی اور حقوقِ انسانی کا جامع منشور:خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کی عظمت احترام اور حقوق پر مبنی ابدی تعلیمات اور اصول عطا کئے