کیا ہوم ورک ہو گیا؟
زندگی میں ہر کام پر بچوں کی رہنمائی ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح سکول کا ہوم ورک مکمل کرنے کیلئے بھی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذیل میں ہم آپ کو چند تجاویز دے رہے ہیں تاکہ آپ بچوں کے ہوم ورک کو ان کیلئے پہلے سے زیادہ آسان دلچسپ اور نتیجہ خیز بنا سکیں۔
وقت اور جگہ کا انتخاب:گھر میں ایک صاف اور ہوا دار کمرہ مخصوص کیجئے، خواہ آپ کے کھانے کی میزاس کام کیلئے موزوں ہو، تاہم یہ تمام تر توجہ ہٹانے والی چیزوں سے مبرا ہے۔ اس وقت کھانے کی کوئی چیز میز پر نہ رکھی جائے۔ نہ موبائل، ٹیبلٹ یا پی سی وہاں رکھا جائے۔ ٹی وی اس کمرے میں ہو تو اسے بھی بند رکھیں۔ بچوں کا دھیان رکھیں کہ وہ بھرپور توجہ سے کام کر لیں۔ اگر آپ سہ پہر کا وقت مقرر کر لیں گی تو بچوں میں ڈسپلن پیدا ہوگا۔
دبائو یا ڈانٹنے سے گریز ضروری کیوں؟تاکہ آپ کے بچوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔ کوئی سوال یا مضمون مشکل ہو تو ذرا سی اور محنت کر لی جائے تو بچہ اپنی مدد آپ کے تحت ہوم ورک مکمل کر لے گا۔ کلاس میں اچھی پوزیشن کیلئے بچے کی مدد کی جائے اور اسے خود انحصاری کی عادت ڈالی جائے۔ ڈرائنگ بھی بچہ خود کرے، لکھنے کی مشق بھی خود کرے۔ رائٹنگ خراب ہونے کی صورت میں مائوں پر لازم ہے کہ بچے کو کسی خالی رجسٹر یا کاپی میں لکھنے کی مشق کرائیں پھر سکول کی کاپی پر لکھیں تاکہ لکھائی خراب نہ ہو۔ ابتدا میں بچے کو بال پین یا انک پین نہ استعمال کروائے جائیں صرف پنسل سے بار بار کی مشق کرنے سے لکھائی درست ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہوم ورک کے دوران مائوں یا بڑی بہنوں کو خود بھی پرسکون ہونا چاہئے۔ بچے پر غیر ضروری دبائو یادرشت لہجے میں ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے بچہ ہوم ورک سے متنفر ہو جائے گا۔ بچے کی شخصیت سنوارنے کیلئے اسے چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر نہ ڈانٹیے، ہر وقت کی روک ٹوک نہ کریں، سخت لفظوں کے استعمال سے گریز کریں۔
بریک بھی ضروری ہے:پڑھائی کے دوران تازہ دم ہونے کیلئے بچوں کو تھوڑی دیر کا بریک دیں تاکہ اس پر سے کام کا دبائو کچھ کم ہو سکے۔ اس دوران اپنے بچے کو اسنیکس، جوس ، دودھ، چپس یا بسکٹس اور چاکلیٹس دیں۔ بہت چھوٹے بچے ہوں تو چھوٹا سا کھیل کھیلنے کی اجازت دے دیں کوئی کہانی سنائیں یا کارٹون فلم دکھا دیں مگر یہ بریک ایک گھنٹے پر محیط نہ ہو۔
والدین اور اساتذہ کی ملاقاتی تقریب میں ضرور جایا کریں: آپ محسوس کر رہی ہیں کہ اس ٹرم میں کسی مضمون میں بچے کے خاطر خواہ نمبرز نہیں آئے، یا ہوم ورک زیادہ ہے یا بچے کو کوئی الجھن در پیش ہے تو آپ اپنے بچے کے اساتذہ سے ضروربات کریں۔ کئی سکول مڈٹرم سے پہلے یا فوراً بعد ایسی ملاقات کا باضابطہ اہتمام کرتے ہیں اور رپورٹ کارڈ کے ساتھ بچے کی رہنمائی اور والدین کے کردار پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو اس ضمن میں باہمی مشاورت کرنا بہت ضروری ہے۔
ہوم ٹیوٹر یا کوچنگ سینٹر؟ سائنس یا حساب کے مضامین کیلئے یا کسی اور مضمون میں رہنمائی کیلئے پروفیشنل اسٹاف سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ اگر والدین ان مضامین کا وافر علم نہ رکھتے ہوں تو ٹیوٹر ہی بچے کیلئے بہترین معاون اور مدد کار ثابت ہو سکتا ہے ۔
غرضیکہ بچوں کے اندر پڑھنے کی خواہش پیدا کرنا والدین اور اساتذہ دونوں کا کام ہے۔ کمزور تعلیمی کارکردگی بذات خود مسئلہ نہیں بلکہ متعدد عوامل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ان میں سے کچھ انفرادی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ذہانت، پڑھنے کی عادات اور تعلیمی کارکردگی میں اچھے اور برے نتائج میں ماحول اور رویوں کا بڑا کردار ہوا کرتا ہے۔