رہنمائے گھر داری

تحریر : روزنامہ دنیا


یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ استری کا کام آپ کے کپڑوں کی سلوٹیں دور کرنا ہے۔ ایک تکون سطح کی کلاتھ آئرن جسے فلیٹ آئرن بھی کہا جاتا ہے اسے گرم کرکے استری کرنا آسان ہو جاتاہے۔ اس پلیٹ کی مدد سے ہمارے کپڑوں کی سلوٹیں جاتی رہتی ہیں اور جب یہ کپڑے ٹھنڈے ہوں تو نئی اور تازہ شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے کپڑے شاندار طریقے سے استری ہوں تو تھوڑا سا گرم پانی چھینٹوں کیلئے علیحدہ رکھ لیں۔ جہاں محسوس  کریں ابلے ہوئے پانی سے چھینٹا دیں۔ شکنیں جلد اور بہت اچھی طرح دور ہوں گی۔

اگر آپ گہرے اور تیز رنگوں کے کپڑے استری کر رہی ہوں تو انہیں الٹا کرکے استری کریں۔ کپڑوں کا رنگ متاثر نہیں ہوگا۔

استری کرتے وقت کف کالر کی کریزپر پہلے استری کر لی جائے تو باآسانی تہہ بیٹھ جاتی ہے۔اگر آپ کا کپڑا ڈیزائن والا ہے یا کڑھائی والا ہے تو اس پر براہ راست استری نہ کریں بلکہ کپڑا رکھ کر استری کریں۔بعض دفعہ کپڑے کی سلائی میں دھاگے کا کھنچائو محسوس ہوتا ہے ایسے کپڑوں کو پانی میں کاٹن کے کے ٹکڑے کو بھگو کر کھنچائو والی پٹی یا سلائی پر لگا کر یعنی گیلا کرکے استری کی جائے، تمام سلائی کپڑے پر آسانی سے بیٹھ جائے گی اور کپڑا کھنچا ہوا نہیں رہے گا۔

بہت زیادہ گرم ہو جانے پر یا نشان آ جانے کی صورت میں پہلے تو استری ٹھنڈی کر لی جائے اس کے بعد پانی میں بیکنگ سوڈے کی کچھ مقدار ملا کر نرم کاٹن سے استری کی صفائی کی جائے۔ تمام نشانات جاتے رہیں گے۔ 

کپڑوں کی پلیٹوں پر استری کرنے کیلئے پیپر کلپ لگا کر استری کی جائے۔ اگر کپڑوں کے درمیان کارڈ بورڈ رکھ کر استری کی جائے تو وہ بھی باآسانی ہو جاتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

گولڈ میک اپ

میک اپ ٹرینڈ کی سب سے اچھی خوبی یہ ہوتی ہے کہ جلدی آتے ہیں اور جلدی چلے جاتے ہیں اور کسی ایک انداز کو ہمیشہ کیلئے اپنا لینے کی بیزاری سے بچت ہو جاتی ہے۔ ویسے نئے انداز اور فیشن کا تقاضا یہی ہے کہ آپ بھی ٹرینڈ کے ساتھ ساتھ میک اپ تکنیک بدلنے کی کوشش کرتی رہیں۔ اس طرح آپ کو تازگی کا احساس بھی ہوگا اور آپ ایک جیسے انداز اور میک اپ لک سے بیزار بھی نہ ہوں گی۔

گھر گرہستی، کم سامان جیون آسان

آپ نے وہ مشہور محاورہ ’’تھوڑا ہی بہت ہے‘‘ سنا ہو گا۔ پچھلے چند برسوں میں یہ محاورہ ایک اصول جیسی اہمیت اختیار کر گیاہے اور زندگی کے کئی اہم شعبوں میں اسے اپنایا جا رہا ہے۔ اس اصول کے تحت کوشش کی جاتی ہے کہ ضرورت زندگی کو محدود کیا جائے اور ہر چیز کے استعمال میں معتدل انداز اپنایا جائے۔ ہوم آرگنائزنگ کے مضمون پر مہارت رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ گھر سنوارنے اور اسے اضافی سامان سے بچائے رکھنے کا سنہری اصول ایک ہی ہے ’’جب بھی کچھ نیا خریدا جائے، گھر میں موجود اس جیسا پرانا سامان ضرور نکال دیا جائے‘‘۔یعنی اگر ایک نیا گلاس سیٹ خریدا ہے تو اس کے بدلے گھر میں موجود کوئی پرانا گلاس سیٹ نکال باہر کریں۔ اس طرح گھر میں سامان کا رش نہیں لگے گا۔

رہنمائے گھرداری

بازوئوں کی سانولی رنگت گھر سے باہر جا کر کام کرنے والی اکثر خواتین یہ شکوہ کرتی پائی جاتی ہیں کہ ان کے بازوئوں کی رنگت سانولی ہو جاتی ہے۔ ایسی خواتین کو سب سے پہلے تو یہ مشورہ دوں گی کہ اگر آپ کے بازو دھوپ کی وجہ سے کالے ہو رہے ہیں تو آپ باہر نکلتے وقت دستانے پہنا کریں۔ کوئی اچھا سن بلاک استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ میں آپ کو ایک ابٹن بنانا بتا رہی ہوں، آپ وہ استعمال کریں، اللہ نے چاہا تو فرق پڑے گا۔

آج کا پکوان،چاکلیٹ سپیشل

کھیر، مٹھائی، زردہ اور رس ملائی پرانی ہوئی، آج کا زمانہ چاکلیٹ کا ہے، اس کی مدد سے لذیذ میٹھی سوغات تیار کی جاتی ہیں اور ہر قسم کی تقریب، موسم اور موقع پر انہیں پیش کیا جاتا ہے۔ یوں تو زیادہ میٹھا کھانا اچھا نہیں لیکن ’’چاکلیٹ‘‘ مفید غذا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ صحت بخش چاکلیٹ وہ ہوتی ہے جس میں 70فیصد کوکو پائوڈر اور چینی کی تعداد کم سے کم ہو۔ چاکلیٹ میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے۔ بچے اوربڑے اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت آج یہاں چاکلیٹ کی آسان ترکیب پیش کی جا رہی ہیں، امید ہے آپ ان کو آزمائیں گی۔

یادرفتگان: صوفی غلام مصطفیٰ تبسم عظیم شاعر، مفکر اور استاد

اردو ادب کی ہمہ جہت شخصیت صوفی غلام مصطفی تبسم اردو کے نامور شاعر اور ادیب تھے۔ ان کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ وہ بیک وقت استاد، اداکار، ڈرامہ نگار، غزل گو، نظم گو، بچوں کے شاعر، ملی نغمہ نگار، مترجم، مدیر، صداکار، فارسی کے عالم، خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے پہلے چیئرمین بھی تھے۔

شوکت واسطی: لفظوں کے جادوگر

شوکت واسطی ایک نابغہ روزگار شخصیت اور مرنجان مرنج شخص تھے۔ ان کا اصل نام سید صلاح الدین تھا مگر ان کا ستارہ ان کے قلمی نام شوکت واسطی کی شکل میں آسمان ادب پر روشن رہا۔ آپ اردو کے قادرالکلام شاعر تھے۔ اس کے ساتھ جب ان کی نثری تحریر کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہر لفظ ان کے سامنے زانوئے ادب تہ کئے حاضر ہو جاتا تھا۔