کلام

تحریر : روزنامہ دنیا


ملے کیسے صدیوں کی پیاس اور پانی، ذرا پھر سے کہنابڑی دلربا ہے یہ ساری کہانی، ذرا پھر سے کہناکہاں سے چلا تھا جدائی کا سایا، نہیں دیکھ پایاکہ رستے میں تھی آنسوئوں کی روانی، ذرا پھر سے کہناہوا یہ خبر تو سناتی رہے اور میں سنتا رہوں

بدلنے کو ہے اب یہ موسم خزانی، ذرا پھر سے کہنا

مکر جانے والا کبھی زندگی میں، خوشی پھر نہ پائے!

یونہی ختم کر لیں، چلو یہ کہانی، ذرا پھر سے کہنا

…………

گزرے ہیں ترے بعد بھی کچھ لوگ اِدھر سے

لیکن تری خوشبو نہ گئی، راہ گزر سے

کیوں ڈوبتی، بجھتی ہوئی آنکھوں میں ہے روشن

راتوں کو شکایت ہے تو اتنی ہے سحر سے!

لرزا تھا بدن اس کا مرے ہاتھ سے چھو کر

دیکھا تھا مجھے اس نے عجب مست نظر سے

کیا ٹھان کے نکلا تھا، کہاں آکے پڑا ہے!

پوچھے تو کوئی اس دلِ شرمندہ سفر سے

امجدؔ نہ قدم روک کہ وہ دور کی منزل

نکلے گی کسی روز اسی گردِ سفر سے

………

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا 

وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا 

وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں 

دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا 

کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں غم زندگی کے فشار میں 

وہ جو درد تھا ترے بخت میں سو وہ ہو گیا اسے بھول جا 

تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو 

وہ تھا ایک دریا وصال کا سو اتر گیا اسے بھول جا 

…………

سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں 

آئنے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں 

سب کے سب ہیں اپنے اپنے دائرے کی قید میں 

دائروں کی حد سے باہر سوچتا کوئی نہیں 

صرف ماتم اور زاری سے ہی جس کا حل ملے 

اس طرح کا تو کہیں بھی مسئلہ کوئی نہیں 

یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد 

چھو کے ان کو دیکھیے تو واہمہ کوئی نہیں 

جو ہوا یہ درج تھا پہلے ہی اپنے بخت میں 

اس کا مطلب تو ہوا کہ بے وفا کوئی نہیں 

……………

جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے

وہی جلتے بجھتے سے مہر و ماہ میرے بام و در کو سجا گئے

یہ عجیب کھیل ہے عشق کا میں نے آپ دیکھا یہ معجزہ

وہ جو لفظ میرے گماں میں تھے وہ تیری زبان پر آگئے

وہ جو گیت تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھا

میرے درد کی تھی داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے

وہ چراغ ِجاں کبھی جس کی لو نہ کسی ہوا سے نگوں ہوئی

تیری بیوفائی کے وسوسے اسے چپکے چپکے بجھا گئے

……………

دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے

اتنا بے سمت نہ چل، لوٹ کے گھر جانا ہے

اُس تک آتی ہے تو ہر چیز ٹھہر جاتی ہے

جیسے پانا ہی اسے، اصل میں مر جانا ہے

بول اے شامِ سفر، رنگِ رہائی کیا ہے؟

دل کو رکنا ہے کہ تاروں کو ٹھہر جانا ہے

کون ابھرتے ہوئے مہتاب کا رستہ روکے

اس کو ہر طور سوئے دشت سحر جانا ہے

میں کھلا ہوں تو اسی خاک میں ملنا ہے مجھے

وہ تو خوشبو ہے، اسے اگلے نگر جانا ہے

……………

کسی  کی آنکھ جو پرُ نم نہیں ہے

نہ سمجھو یہ کہ اس کو غم نہیں ہے

سوادِ درد میں تنہا کھڑا ہوں

پلٹ جائوں مگر موسم نہیں ہے

سمجھ میں کچھ نہیں آتا کسی کی!

اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے

سلگتا کیوں نہیں تاریک جنگل

طلب کی لو اگر مدھم نہیں ہے

جو کوئی سن سکے امجدؔ تو دنیا

بجز اک باز گشتِ غم نہیں ہے

……………

چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے

کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے

فصل گل آئی، پھر اک بار اسیران وفا

اپنے ہی خون کے دریا میں نہانے نکلے

ہجر کی چوٹ عجب سنگ شکن ہوتی ہے

دل کی بے فیض زمینوں سے خزانے نکلے

عمر گزری ہے شبِ تار میں آنکھیں ملتے

کسی اُفق سے مرا خورشید نہ جانے نکلے

میں نے امجدؔ اسے بے واسطہ دیکھا ہی نہیں

وہ تو خوشبو میں بھی آہٹ کے بہانے نکلے

……………

یہی بہت ہے کہ دل اس کو ڈھونڈ لایا ہے

کسی کے ساتھ سہی، وہ نظر تو آیا ہے

کروں شکایتیں، تکتا رہوں کہ پیار کروں

گئی بہار کی صورت وہ لوٹ آیا ہے

وہ سامنے تھا مگر یہ یقیں نہ آتا تھا

وہ آپ ہے کہ میری خواہشوں کا سایا ہے

عذاب دھوپ کے کیسے ہیں، بارشیں کیا ہیں!

فصیل جسم گری جب تو ہوش آیا ہے

میں کیا کروں گا اگر وہ نہ مل سکا امجدؔ

ابھی ابھی مرے دل میں خیال آیا ہے

…………

فاصلے

اب وہ آنکھوں کے شگوفے ہیں نہ چہروں کے گلاب 

ایک منحوس اداسی ہے کہ مٹتی ہی نہیں 

اتنی بے رنگ ہیں اب رنگ کی خوگر آنکھیں 

جیسے اس شہر تمنا سے کوئی ربط نہ تھا 

جیسے دیکھا تھا سراب 

دیکھ لیتا ہوں اگر کوئی شناسا چہرہ 

ایک لمحے کو اسے دیکھ کے رک جاتا ہوں 

سوچتا ہوں کہ بڑھوں اور کوئی بات کروں 

اس سے تجدید ملاقات کروں 

لیکن اس شخص کی مانوس گریزاں نظریں 

مجھ کو احساس دلاتی ہیں کہ اب اس کے لیے 

میں بھی انجان ہوں، اک عام تماشائی ہوں 

راہ چلتے ہوئے ان دوسرے لوگوں کی طرح 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

یومِ مزدوراور اسلامی تعلیمات

’’اپنے ہاتھ سے روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے‘‘(طبرانی) کسی نے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھایا (صحیح بخاری) آپ ﷺ نے فرمایا تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن میں خود جھگڑوں گا، ان میں سے ایک وہ ہو گا جس نے کسی سے کام کروایا، کام تو اس سے پورا لیا مگر اسے مزدوری پوری ادا نہ کی (صحیح بخاری)

توکل علی اللہ: ایمان کی اصل روح

’’مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے‘‘ (آلِ عمران: 160) ’’پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیا کریں، بیشک اللہ توکّل والوں سے محبت کرتا ہے‘‘(آل عمران )

حلال کمائی :دنیا و آخرت کی کامیابی

’’حلال مال کا طلب کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی: 8610) اپنے کھانے کو پاک کرو! جب کوئی شخص حرام کا لقمہ پیٹ میں ڈالتا ہے تو 40 دن تک اللہ تعالیٰ اُس کا عمل قبول نہیں کرتا‘‘ (حدیث مبارکہ)

مسائل اور ان کا حل

سوتیلی دادی کے بیٹوں سے پردہ سوال:ایک آدمی نے بیوہ عورت سے نکاح کیا جس کے پہلے شوہر سے بیٹے ہیں۔ اس شخص کی پوتی سوال کرتی ہے کہ کیا میرا سوتیلی دادی کے بیٹوں سے پردہ ضروری ہے؟

آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا

امریکہ اور ایران میں سیز فائر تو جاری ہے مگر غیر یقینی صورتحال دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے جنگ بندی کے اثرات عالمی مارکیٹس تک پہنچنے نہیں دیئے۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخاب، تاخیر کیوں ؟

سلگتے عوامی مسائل اور مہنگائی کے رجحان پر جوابدہ کون؟