باوقارشخصیت،دلکش آواز قوی خان۔۔۔
تعارف قوی خان 13نومبر 1942ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان پشاور سے تقریبا 6سال کی عمر میں بطور چائلڈ سٹار پروگرام ’’ننھے میاں‘‘ سے کیا۔ وہ کئی سال تک اس پروگرام کے ساتھ وابستہ رہے۔ دوران تعلیم کرکٹ سے بے پناہ لگائو تھا، ایک بار گیند چہرے پر لگی جس کے بعد کرکٹ سے توبہ کر لی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعدایک بینک سے وابستہ ہو گئے۔جب لاہور میں سرکاری ٹیلی
ویژن کا آغاز ہوا تو انہیں اس کے پہلے ڈرامے ’’نذرانہ‘‘ میں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہو۔ براہ راست نشر ہونے والے اس ڈرامہ میں ان کے مقابل کنول نصیر نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے لاتعداد سیریلز، سیریز اور انفرادی ڈراموں میں کام کیا۔ شوبز میں کامیابیوں کا دائرہ وسیع ہونے لگا تو فن کی محبت میں بینک کی پکی نوکری چھوڑ دی اور خود کو شوبز کیلئے وقف کر دیا۔ ایک طویل عرصہ تک وہ بیک وقت تھیٹر، ریڈیو، ٹی وی اور فلم کے مصروف ترین اداکار رہے۔ ان کے مقبول ڈراموںمیں ’’اندھیرا اجالا‘‘، ’’فشار‘‘، ’’لاہوری گیٹ‘‘، ’’دو قدم دور تھے‘‘، ’’مٹھی بھر مٹی‘‘، ’’من چلے کا سودا‘‘، ’’میرے قاتل مرے دلدار‘‘، ’’پھر چاند پہ دستک‘‘، ’’درِ شہوار‘‘، ’’بیٹیاں‘‘، ’’داستان‘‘، ’’ایک نئی سنڈریلا‘‘ اور دیگر کئی سرِفہرست ہیں۔60ء کی دہائی میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور فلم ’’رواج‘‘ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ 35سال تک فلموں میں کام کیا ان کے کریڈٹ پر 250فلمیں ہیں۔ انہوں نے بطور پروڈیوسر 13فلمیں بنائیں،کچھ فلمیں ڈائریکٹ بھی کیں جن میں پاسبان، اور روشنی وغیرہ شامل ہیں۔ قوی خان کے صاحبزادے مہران اور عدنان بھی ڈراموں میں جلوہ افروز ہو چکے ہیں۔ وہ فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ ان کے نام سے کچھ فلاحی ادارے غریبوں کیلئے کام کر رہے ہیں۔
باوقار شخصیت اور دلکش آواز کے مالک قوی خان ایک ورسٹائل اداکار تھے۔ ان کے بارے میں بلا شبہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک پیدائشی آرٹسٹ اور ہمارے ملک کا اثاثہ تھے۔ آپ وہ خوش قسمت اداکار تھے جنہوں نے سات دہائیوں تک نان سٹاپ کام کیا ۔80 سال سے زائد عمر کے ہونے کے باوجود وہ بہت فعال اور مضبوط تھے ۔اس کی وجہ ان کی ماڈل ٹاؤن پارک میں صبح کی سیر تھی۔
محمد قوی خان کی تاریخ پیدائش 13 نومبر 1942ء تھی۔ وہ شاہجہاں پور (غیرمنقسم ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ اس حوالے سے اکثر جگہ پشاور کو پیدائش لکھا اور بتایا جاتا ہے مگر درست جائے پیدائش کی تصدیق ان کے اپنے ایک انٹرویو سے ہوتی ہے جو کچھ عرصہ پہلے ہی انہوں نے اداکار ساجد حسن کو ایک ٹی وی شو کے دوران دیا تھا۔ اس کے مطابق پشاور ان کا مقام پیدائش نہیں ہے بلکہ وہ شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد نقی خان محکمہ پولیس سے وابستہ تھے۔ قیام پاکستان کے وقت انہوں نے ہجرت کی تو محمد قوی خان چند برس کے تھے لیکن پھر بھی ان کو ہجرت کے لہولہان مناظریاد تھے۔ ان کی یادداشت میں ہجرت کی صعوبتیں نقش رہیں۔ پاکستان میں ان کے والدین نے پشاور کو اپنا مسکن بنایا اور وہیں قوی خان نے گورنمنٹ ہائی اسکول سے اور پھر ایڈورڈ کالج سے تعلیمی سفر مکمل کیا اور اپنے اندر کے فنکار کا تعاقب بھی کرتے رہے۔
ان کے بڑے بھائی بھی ریڈیو پاکستان پشاور کے لیے لکھا کرتے تھے اور ایڈورڈ کالج پشاور میں انگریزی کے پروفیسر بھی تھے۔ ان کو گورنمنٹ کالج لاہور میں ملازمت ملی، تو وہ اہل خانہ کے ہمراہ پشاور سے لاہور منتقل ہوئے، جس کی وجہ سے محمد قوی خان کو بھی لاہور میں سکونت اختیار کرنا پڑی، جو اداکاری کے شوق کے لیے، ان کے حق میں فائدے مند ثابت ہوئی۔
قوی خان میں بچپن سے اخبار بینی کی عادت پختہ تھی۔ وہ جب تیسری جماعت میں تھے تو گھروالوں کو اخبار بلند آواز میں پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ وہ سکول اور کالج میں ہونے والے ڈراموں میں حصہ لیتے تھے جس کی وجہ سے ریڈیو سے رغبت ہوئی اور تھیٹر کی طرف بھی مائل ہوئے۔
ان کا آبائی گھر پشاور کی مشہور اور تاریخی مسجد مہابت خان کے قریب تھا۔ وہاں ان کے ایک پڑوسی اور اس وقت کے ریڈیو کے مشہور آرٹسٹ شیخ شریف رہا کرتے تھے۔ ان کے توسط سے آپ ریڈیو پشاور سے منسلک ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر 6 برس تھی۔ اس طرح پڑھائی اور ریڈیو کا کام ساتھ ساتھ جاری رہا تاوقتیکہ آپ لاہور منتقل نہ ہوگئے۔ یہاں پہنچ کر بھی ریڈیو سے تعلق برقرار رکھا اور اسٹیج تھیٹر سے بھی وابستہ ہو گئے۔ اداکاری کا سلسلہ دھیرے دھیرے بڑھتا گیا اور اس دوران ان کو فلم میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی۔ اس کے بعد تو ان کے لیے شہرت کے دروازے کھل گئے مگر حقیقی شہرت ان کو ٹیلی وژن سے ملی کیونکہ آپ سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے پہلے ڈرامے کے ہیرو تھے۔
محمد قوی خان کی شہرت کا پہلا زینہ ریڈیو تھا۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور چائلڈ ایکٹر اپنے کام کی ابتدا کی۔ انہوں نے وہاں اس وقت کی تمام بڑی شخصیات کو قریب سے دیکھا اور زبان و بیان، تلفظ، گفتگو کا طور طریقہ، صداکاری کا فن سیکھ کر کامل ہوئے۔ اپنے محلے کے مشہور ریڈیو فنکار شیخ شریف کے انتخاب کو درست ثابت کرتے ہوئے اپنے اندر کے فنکار کو دلجمعی سے دریافت کیا۔
اسٹیج ڈراموں اور تھیٹر پرانہوں نے حقیقی معنوں میں اپنے اندر کے اداکار سے کام لینا شروع کیا۔ اس زمانے میں ریڈیو کی تربیت بھی ان کے بہت کام آئی اور صرف یہی نہیں بلکہ اسٹیج پر حاضرین کے سامنے اداکاری کرنے سے ان کے اندر ایک ایسا اعتماد پیدا ہوا جس نے ان کو دیگر فنی میڈیم میں مضبوطی فراہم کی۔ ان کے خیال میں ریڈیو اور اسٹیج دو ایسی جگہیں ہیں جہاں کام کرنے والے اداکار کو کندن ہونے کا موقع ملتا ہے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ایک عمدہ فنکار کو یہ خبر ہونی چاہیے کہ ریڈیو کے ڈرامے، تھیٹر کے کردار، ٹیلی وژن کی کہانیوں اور فلم کے بڑے پردے پر اداکاری میں کب، کہاں، کس طور سے کام کرنا ہے۔ ان کو یہ فرق ان تمام فنی میڈیمز میں کام کرنے کے بعد معلوم ہوا لیکن اسٹیج کو کلیدی اہمیت حاصل رہی، کیونکہ یہیں سے ان کے لیے فلمی صنعت کا دروازہ کھلا اور ٹیلی وژن کی طرف جانے والی راہیں ہموار ہوئیں۔
انہوں نے اداکاری کے اسرارو رموز کسی سے سیکھے نہیں تھے، اداکاری میں وہ اپنے استاد خود ہی تھے۔وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ انسان اپنا استاد خود ہی ہوتا ہے۔ اپنے اندر کی جو خامیاں آپ جانتے ہیں وہ کوئی دوسرا نہیں جان سکتا۔ انسان اپنی خامیوں کو خود ہی بہتر انداز سے دور کرسکتا ہے لہٰذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس طرح انسان خود بہتر انداز میں سکھاتا ہے کوئی دوسرااُسے سکھا ہی نہیں سکتا۔
پاکستان میں 26 نومبر 1964ء وہ یادگار تاریخ ہے جب ٹیلی وژن کا قیام عمل میں آیا۔ اس تاریخ کے ٹھیک 2 دن بعد پاکستان ٹیلی وژن سے پہلا ڈرامہ نشر ہونا تھا جس کے ہیرو محمد قوی خان تھے۔ اس ڈرامے کا نام ’نذرانہ‘ تھا جس کے پروڈیوسر فضل کمال تھے جبکہ نجمہ فاروقی نے اسے لکھا تھا۔ قوی خان اس وقت سے لے کر تادمِ مرگ ٹیلی وژن سے وابستہ رہے، یہ عرصہ لگ بھگ 7 دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اس میڈیم میں ان کو سب سے زیادہ شہرت 1980ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے ڈرامے ’’اندھیرا اجالا‘‘ سے ملی۔اس ڈرامہ میں ان کا پولیس افسر کا کردار بے پناہ مقبول ہوا۔یہ ڈرامہ جس وقت نشر ہوتا تھا سڑکیں ویران ہو جایا کرتی تھیں۔ اس ڈرامہ نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ہمسایہ ملک میں بھی مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے۔
قوی خان نے ’’ اندھیر اجالا‘‘ میں اپنے لازوال کردار کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن اداکار کمال اور گلوکار عنایت حسین بھٹی کی طرح کامیاب نہیں ہوئے تھے۔
اشفاق احمد کا ایک ڈرامہ تھا ’’کوئی نہ آدھا سچ ملا‘‘، اس میں قوی خان کو معروف شاعر مرزا غالب کا کردار نبھانے کو دیا گیا۔ اس کردار کو وہ اپنے کریئر کا یادگار کردارقرار دیا کرتے تھے۔ اپنے ایک انٹرویو میں اپنے اس کردار کے حوالے سے کہنا تھا کہ دراصل جب مجھے وہ کردار آفر کیا گیا تو میں پریشانی میں ڈوب گیا کہ اتنا بڑا کردار میں کر بھی پائوں گا یا نہیں، مجھ سے پہلے نصیر الدین شاہ نے بھارت میں غالب کا کردار ادا کیا تھا، پاکستان میں مجھ سے پہلے ایک اور فنکار بھی اِس کردار کو پیش کرچکے تھے۔ میں نے سوچا کہ اگر میں ’’غالب‘‘ کا کردار ٹھیک طریقے سے ادا نہیں کرسکا تو پھر لوگ کیا کہیں گے ؟۔ مگر جب اللہ پر آپ کا یقین ہو اور محنت کرنا آپ کی گھٹی میں ہو تو کامیابیاں قدم چومتی ہیں۔ بہرحال بہت سوچ بچار کے بعد میں نے اپنے رب العزت کا نام لیا اور اِس کردار کیلئے حامی بھر لی۔ اس کے بعد جو میرے رب نے مجھے اس کردار میں ایسا نوازا کہ چاروں جانب اس کے چرچے ہونے لگے۔
ان کی شادی 1968ء میں ناہید قوی سے ہوئی تھی۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، سب بیرون ملک مقیم ہیں۔ ان کے دونوں بیٹوں عدنان قوی اور مہران قوی نے بھی شوبز میں قسمت آزمائی کی لیکن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ وہ دونوں کینیڈا میں ہی مقیم ہیں جہاں محمد قوی خان کی رحلت ہوئی۔
قوی خان کا فلمی کریئر
پاکستانی فلمی صنعت کے حوالے سے ڈائریکٹری کی حیثیت رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق ہدایتکار دلجیت مرزا کی فلم ’’رواج‘‘ جو 1965ء میں سینما گھروں کی زینت بنی، قوی صاحب کی پہلی فلم تھی۔ طویل فلمی کریئر میں ڈھائی سو کے قریب فلموں میں کام کرنے کے باوجود انہیں وہ جائز مقام کبھی نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے۔ زیادہ تر معاون کرداروں میں نظر آئے ، مثبت اور منفی کرداروں میںجلوہ گر ہوئے، اولڈ ، ولن اور کامیڈین کے طور پر بھی کردار نبھائے لیکن کبھی سولو ہیرو نہیں آئے۔ چند فلموں میں سیکنڈ ہیرو کے طور پر موقع ملاجن میں فلم ’’مسٹربدھو‘‘ میں دیبا ، فلم ’’اجنبی‘‘میں بابرہ شریف اور فلم ’’چوری چوری‘‘ میں زیبا کے ساتھ ان کی جوڑیاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
قوی بطور فلمساز
قوی نے بطور فلمساز ، درجن بھر فلمیں بنائی تھیں جن میں سے پہلی فلم ان کی مادری زبان پشتو میں ’’مہ جبینے‘‘ تھی ،1972ء میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں وہ آصف خان کے مقابل سیکنڈہیرو تھے۔ بطور فلمساز ان کی دیگر فلموں میں ’’مسٹربدھو‘‘ ، ’’بے ایمان‘‘ (1973ء)، ’’منجی کتھے ڈاہواں‘‘، ’’نیلام‘‘ (1974ء)، ’’روشنی‘‘ (1975ء) ، ’’جوانی دیوانی‘‘ (1977ء)، ’’چوری چوری‘‘ (1979ء)، ’’پاسبان‘‘ (1982ء)، ’’گرفتاری‘‘ (1986ء) اور ’’ماں بنی دلہن‘‘ (1988ء) شامل ہیں۔ یہ ان کی بدقسمتی کہیے کہ ٹی وی پر کامیابیاں سمیٹنے والے قوی خان فلم پروڈکشن کے میدان میں بری طرح ناکام رہے اور ان کی بنائی ہوئی ایک بھی فلم کامیابی حاسل نہ کر سکی۔ انہوں نے ایک فلم ’’روشنی‘‘ڈائریکٹ بھی کی۔ 1975ء میں سینما گھروں کی زینت بننے والی اس فلم نے کراچی میں اوسط درجے کا بزنس کیا جبکہ باقی ملک میں ناکام رہی۔
قوی پر فلمائے گئے گیت
قوی پر فلمائے ہوئے متعدد گیتوں کی تفصیل یہاں بیان کرنا ممکن نہیں صرف چند گیتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ فلم ’’چراغ کہاں روشنی کہاں‘‘ میں قوی اپنی زندگی کی بازی ہار کر کسی کیلئے قربانی دیتے ہیں اور ان کی قبر پر فاتحہ خوانی کے دوران پس منظر سے مسعود رانا کی آواز گونجتی ہے:
چراغوں کی بجائے ہم نے داغ دل جلائے ہیں
ہمارے خون کے چھینٹوں سے ہوگی روشنی برسوں
لگا کے جان کی بازی بچا لی آبرو اس کی
ہماری قبر پہ رویا کرے گی دنیا برسوں
فلم ’’پازیب‘‘ میں اخلاق احمد کا گایا ہوا گیت ’’او ماما میرے ، او چاچا میرے‘‘ بھی قوی پر فلمایا گیا تھا جو اس فلم میں ایک کامیڈی رول کررہے تھے۔فلم ’’مسٹربدھو‘‘ میں مالا کا یہ گیت اپنے وقت کا سپرہٹ گیت تھا، جس کے بول تھے ’’ڈھولک بجا کے ، سہیلیاں بلا کے ، بنڑے کے گیت میں گاؤں گی ، اپنے بھیا کو دولہا بناؤں گی‘‘۔ فلم ’’بے ایمان‘‘ کا ایک کورس گیت ’’اللہ کے نام پہ جھولی بھردے ، اللہ ہی دے گا‘‘احمدرشدی ، مسعودرانا اور روشن کی آوازوں میں تھا جو رنگیلا ، نرالا اور قوی پر فلمایا گیا تھا۔قوی کی بطور فلمساز پہلی پنجابی فلم ’’منجی کتھے ڈاہواں ‘‘ تھی جس میں ان پر مسعود رانا کا سولو گیت فلمایا گیا تھا، جس کے بول تھے ’’حْسن دا غرور میری توبہ ، آیا سرور میری توبہ‘‘۔فلم پہچان میں مہدی حسن کا گیت ’’تیرا پیار میرے جیون کے سنگ رہے گا‘‘ ان پر عکسبند کیا گیا۔ فلم ’’بیگم جان‘‘ میں غلام عباس کا رنجیدہ گیت ’’اے دوست ، تیری آنکھ اگر نم ہے تو مجھے کیا‘‘بھی قوی پر فلمایا گیا۔
پاکستان کے ثقافتی ادوار میں جب بھی ٹیلی وژن اور فلم کے سنہری ادوار کا تذکرہ ہوگا تو محمد قوی خان کا نام سرفہرست ہوگا۔پاکستانی ڈرامہ صنعت کے پہلے مرکزی اداکار، ہیرو، جن کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ وہ اپنی ذات میں صرف ایک فنکار ہی نہیں تھے بلکہ اداکاری کے فن کا عہد زریں تھے۔
قوی کی چند فلمیں
محبت زندگی ہے ، ٹائیگر گینگ ، سوسائٹی گرل، سرفروش ، کالے چور، آج اور کل ، صائمہ، بیگم جان ، ناگ منی، رانگ نمبر ، انٹرنیشنل لٹیرے، سر کٹا انسان ، پری، قائداعظم زندہ باد ، ’’چراغ کہاں روشنی کہاں‘‘ ، ’’پازیب‘‘ ، ’’مسٹربدھو‘‘ ، ’’بے ایمان‘‘ ، ’’منجی کتھے ڈاہواں ‘‘ ، ’’نیلام‘‘ ، روشنی ، پہچان ، وطن ،جوانی دیوانی ، ’’چوری چوری‘‘ ، ’’ محبت مرنہیں سکتی ‘‘
چند مقبول ڈراموے
اندھیرا اجالا، دن،من چلے کا سودا،
دو قدم دور تھے، لاہوری گیٹ،
مٹھی بھر مٹی، ، الف نون،آشیانہ،
میرے قاتل میرے دلدار،در شاہوار
پھر چاند پہ دستک، سہلیاں، انگار وادی
زندگی دھوپ تم گھنا سایہ، نظر بد، اڑان
صدقے تمہارے، تم کون پیا،
الف اللہ ، انسان ، دہلیز فشار، مرزا اینڈ سنز، ریزہ ریزہ،لاکھوں میں تین،
داستان، دل موم کا دیا،، پہچان
خانی، صدقے تمہارے،
میرا قاتل میرا دلدار ،میری شہزادی