چوڑیاں بڑھائیں کلائیوں کی شان

تحریر : عائشہ اکرم


چوڑیاں خواتین کا ایک خاص سنگھار، ایک ایسا پرانا زیور جو صدیوں سے اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس کے بغیر فیشن مکمل نہیں سمجھا جاتا۔تہوار ہو یا شادی ، خود کو ہر طرح کے زیور سے آراستہ کر لیا جائے مگر ہاتھوں کی کلائیاں سونی ہوں یعنی چوڑیوں کے بغیر تو ساری کی ساری تیاری ادھوری محسوس ہوتی ہے۔

بریسلٹ بھی چوڑیوں کی ایک قسم سے تعلق رکھتا ہے۔ مارکیٹ میں ہزار ہا قسم کے مختلف میٹریل اور ڈیزائن سے تیار کردہ چوڑیاں دستیاب ہیں جنہیں خواتین اپنے لباس سے مییجنگ کرکے پہن کر خوشی محسوس کرتی ہیں۔ آج کل کی ہوشربا مہنگائی میں سونے کی چوڑیاں پہننا ایک متوسط طبقہ کی عورت کیلئے خواب و خیال جیسا ہی ہے مگر اس کے متبادل کے طور پر مارکیٹ میں ایسی چوڑیاں دلکش ڈیزائن میں دستیاب ہیں جن پر سونے جیسے پانی کی پالش کی جاتی ہے کہ جس سے ان چوڑیوں کی نقل پر بھی اصل کا گمان ہونے لگتا ہے ۔ یہ چوڑیاں وزن میں ہلکی ہونے کے ساتھ ہر ساخت اور انداز میں ملتی ہیں جنہیں خواتین ہر لباس یا ہر رنگ کے ساتھ پہن سکتی ہیں۔

 اب آپ دیکھیں گی کہ چوکور، بیضوی ڈیزائن کی منفرد ساخت کے ساتھ ساتھ کئی دھاتوں میں بھی چوڑیاں دستیاب ہیں جن میں سلور اور گولڈن دھاتیں پلاسٹک اور شیشہ یا کانچ کی چوڑیاں شامل ہیں۔

 اپنی چوڑیاں خود ڈیزائن کریں:آج کل ہاتھ کی بنی ہوئی چوڑیاں یا کڑوں کا استعمال عام ہے۔ اگر آپ گھر پر ہی کڑے یا بریسلٹ بنانا چاہتی ہیں تو یہ بہت آسان ہو گا۔ ایک سادہ پلاسٹک کا کڑا یا موٹی چوڑی مختلف چھوٹے سائز کے ربن فیبرک گلو، قینچی اور چھوٹے بٹن یا نگینے جنہیں آپ اس میں لگانا پسند کریں۔ اس سادہ چوڑی پر باریک ربن کو نہایت نفاست سے گلو کے ساتھ لگا کر لپیٹیں۔ پوری چوڑی کو اس ربن سے کور کر لیں اور خشک ہونے کیلئے رکھ دیں جب ربن خشک ہو جائے تب فیبرک گلو کی مدد سے چھوٹے نگینے یا بٹن اس پر چپکا دیں۔ مختلف انداز یا ڈیزائن جسے آپ سند کریں، پھر اسے سوکھنے کیلئے رکھ دیں مختلف انداز یا ڈیزائن جسے آپ سند کریں، پھر اسے سوکھنے کیلئے رکھ دیں جب اچھی طرح سوکھ جائے تب آپ اسے پہن سکتی ہیں۔

 کانچ کی چوڑیاں کبھی آئوٹ آف فیشن نہیں ہوتیں: ہر تہوار پر دوسری قسم کی چوڑیوں کے ساتھ کانچ کی چوڑیاں اپنی الگ اہمیت رکھتی ہیں۔ گولڈن یا سونے کی چوڑیوں کو سہاگنوں کی نشانی سمجھا جاتا ہے جبکہ کانچ کی چوڑیاں اور بریسلٹ کنواری لڑکیوں کا پسندیدہ زیور کہلاتا ہے۔

نیپال میں چوڑیوں کو چوڑا، بنگالی میں چوری، ہندی میں چوڑی اور اردو میں چوڑیاں کہا جاتا ہے۔آج کل کڑوں اور چوڑیوں میں خاص ورائٹی موجود ہے۔ آپ بریسلٹ پسند کرتی ہوں تو کلائیوں کا حسن دو آتشہ ہو جائے گاکیونکہ مارکیٹ میں نگینوں، قیمتی اور انمول پتھروں سے تراشے موتی اور کشیدہ کاری سے سجے کڑے، چوڑیاں اور بریسلیٹ موجود ہیں۔ گویا Cuffsاور چوڑیوں میں بھی جدید کارپوریٹ زاویئے سے آرائش ہونے لگی ہے۔ اب آپ کو مختلف دھاتوں کے علاوہ دھاگوں، ڈینم سے تیار کئے گئے کڑے اور چوڑیاں بھی دستیاب ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

صحبتِ صالحین کے اثرات

’’ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ سچے اور نیک لوگوں کے ساتھ رہیں‘‘ (سورۃ التوبہ: 119) حدیث میں نیک ساتھی کو خوشبو بیچنے والے سے تشبیہ دی گئی ہے، جس سے یا تو خوشبو ملتی ہے یا کم از کم اچھی مہک محسوس ہوتی ہے (متفق علیہ) سورۃ الفرقان میں قیامت کے دن ایسے لوگوں کے افسوس کا ذکر ہے جو برے دوستوں کی وجہ سے گمراہ ہوئے

اندازِ تخاطب!

’’اللہ بری بات زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتے، سوائے اس کے کہ کسی پر ظلم ہو (سوائے مظلوم کے) اور اللہ سننے والے جاننے والے ہیں‘‘(النساء: 148) چغلی، جھوٹ اور بدگوئی سے پاک گفتگو ہی ایک پرامن اور مہذب معاشرے کی بنیاد بنتی ہے حسنِ سلوک اور شائستہ گفتگو اختیار کرنے والے افراد دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتے ہیں

اسلام میں تعلیم نسواں کی اہمیت

حصول علم تمام مسلمانوں پر(بلا تفریق مرد و زن) فرض ہے‘‘ (ابن ماجہ) جس کے ہاں لڑکی پیدا ہو اور وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی اس پر بارش کرے اور تعلیم و تربیت سے بہرہ ور کرے تو میں خود ایسے شخص کیلئے جہنم کی آڑ بن جاؤں گا (بخاری شریف)

گداگری کی سخت ممانعت

آقائے دوعالم ﷺ نے محنتی انسان کو اللہ کا دوست بتایا ہے

مسائل اور ان کا حل

شادی کے بعد خاتون کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لکھنا سوال:اکثرخواتین شادی کے بعداپنے نام کے ساتھ والدکے نام کی جگہ اپنے شوہرکانام لگالیتی ہیں۔اکثرشادی سے پہلے خواتین کے نام کے ساتھ والدکانام نہیں لگاہوتا بلکہ ویسے ہی کسی عورت کا نام لگا ہوتا ہے (مثلاًعابدہ کوثر) اور وہ کوثر ہٹا کر شوہرکانام لگالیتی ہیں، کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے؟کیانسبت بدلنے سے فرق نہیں پڑتا؟(رابعہ نورین، کراچی)

اسلام آباد مذاکرات نے تاریخ رقم کر دی

پوری دنیا امریکہ ایران جنگ کو رکوانے کیلئے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ پاکستان ہی اس وقت وہ ملک ہے جو اس خطرناک ترین جنگ کو رکوانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔