گداگری کی سخت ممانعت

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


آقائے دوعالم ﷺ نے محنتی انسان کو اللہ کا دوست بتایا ہے

 اسلام ایک جامع اور مکمل دین حق ہے جو اپنے ماننے والوں کی زندگی کے ہر شعبہ میں مکمل راہنمائی کرتا ہے۔ اسلام نے گداگری کو سختی سے منع فرمایا ہے اور اس لعنت کو معاشرے سے ختم کرنے کیلئے ایک بڑا واضح اصول قائم کر دیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ حضور رحمت دوعالم ﷺ نے مجبوری کی حالت کے علاوہ سوال کرنے کو نہایت برا جانا ہے آپ ﷺکا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص ایک وقت کی خوراک موجود ہونے پر کسی سے سوال کرے وہ اپنے لئے آتش جہنم طلب کرتا ہے۔ ایک اور جگہ اللہ کے محبوبﷺ فرماتے ہیں کہ جس نے اللہ کے نام پر سوال کیا (اسم اللہ کو استعمال کیا)وہ ملعون ہے گویا اسلام نے مانگنے گداگری کو بہت مذموم عمل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ لوگ اس سے گریز کریں۔

 حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ہم سے بیعت لی کہ خدا کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرائو اوراحکام الٰہی بجا لائو پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ لوگوں سے کچھ نہ مانگوآپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ اگر تم جانو کہ سوال کرنے کے کیا نتائج ہیں تو کوئی شخص سوال کرنے کیلئے دوسرے شخص کی طرف رخ نہ کرے۔ اسلام نے یہ ممانعت اور تاکید اس لئے کی ہے کہ اسلام ہمارے ظاہر و باطن کی اصلاح اور تزکیہ روح پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ معاشرے کا ہر فرد متحرک اور فعال کردار ادا کرے۔ 

گداگری کے معاشرتی نقصانات بھی بہت ہیں۔ اسے ذریعہ معاش بنانے سے اقتصادی شرح نمو کمزور ہوتی ہے اور ترقی کا عمل سست پڑتا ہے۔ اسلامی اقتصادیات کا زریں اصول یہ ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں نہ رہے ۔اسلام نے ہر طرح سے جمع کئے جانے والے مال اور دولت کے ارتکاز اور اسے منجمند کرنے کی سختی سے ممانعت کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے جس دن یہ سونا چاندی جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلواور ان کی پشتیں داغی جائیں گی کہ یہ ہے وہ جو تم جمع کرتے تھے۔ 

جس قوم یا معاشرے میں گداگروں کی کثرت ہوتی ہے وہاں دولت کی گردش چند لوگوں تک محدود ہونے کی وجہ سے ترقی اور خوشحالی کا عمل بہت سست پڑجاتا ہے۔ گداگری کے ذریعے منجمندہونے والی رقم اس جوہڑ کی مانند ہے جو تعفن اور آلودگی کی وجہ سے کسی کام نہیں آ سکتا، البتہ پانی کی روانی ہر جاندار کیلئے جاں فزااور نفع بخش ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ روپیہ جس کا معیشت میں کوئی کردار نہ ہو وہ بے کار ہے اس حوالے سے گداگری ملکی معیشت کیلئے سم قاتل کا درجہ رکھتی ہے۔ امام غزالیؒ روپے کے ارتکاز اور اسے منجمند کرنے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ جب روپیہ بازار سے غائب ہونا شروع ہو گا تو صنعتی ترقی رک جائے گی، تجارتی سرگرمیاں ختم ہو جائیں گی اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں وہ اتار چڑھائو شروع ہوگا جس سے سارا اقتصادی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

 قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے برائی ہو اس کی جو مال کو گن گن کر اور جمع کرکے رکھتا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ اس کامال اس کے ساتھ ہمیشہ رہے گا ہرگز نہیں مال کو جمع کرنے سے متعلق مسلم شریف کی ایک روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ فرماتی ہیں کہ مجھ سے حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا خرچ کرو اور گن گن کے مت رکھو ورنہ اللہ تمہیں گن گن کر دے گا اور جمع مت کرو ورنہ اللہ تمہارے معاملات جمع کر کے رکھے گا۔

گداگری میں جہاں ایک طرف ارتکاز کا عمل فروغ پاتا ہے تو دوسری طرف مفلسوں کو کاہلی کی ترغیب ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو کسب حلال کی طرف متوجہ ہوتے اوراور ترقی و خوش حالی کو پاتے اسی وجہ سے وہ زندگی کی حقیقی لذتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ وہ زندگی کی امنگ ،آگے بڑھنے کا جذبہ،مثبت رجحانات اور فکر و شعور کی خوبی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس عمل سے خوابیدہ جذبوں کی آب یاری اور زندگی میں بھرپور کردار ادا کرنے کی صلاحیت دم توڑ دیتی ہے۔

 گداگری کے معاشرے پر بڑے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں بے چینی اور اضطراب بڑھتا ہے انفرادی سطح پر وہ شخص جو بھیک مانگتا ہے سب سے بڑا نقصان اسی کو پہنچتا ہے وہ چند ٹکوں کے عوض اپنی انا ،خوداری،اور غیرت کا جنازہ نکال دیتا ہے وہ تحقیر اور تضحیک کا نشانہ بنتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ بھکاری قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ٹکڑا نہیں ہوگا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ وہ اللہ کی رحمت اور فضل سے محروم ہو جاتا ہے۔

 غربت،جہالت اور کاہلی کے باعث فروغ پانے والا یہ عمل ایک طرف اخلاقی بگاڑ کا سبب بنتا ہے اورد وسری طرف اس سے جرائم اور تشد دمیں اضافہ ہوتا ہے۔ بدامنی اورطبقاتی کشمکش بڑھتی ہے، گداگر جھوٹ بول کر ہمدردی سمیٹنا چاہتا ہے اور معاشرے سے جھوٹ سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور اخلاقی سطح پر بھی انسان تقدیر، توکل، تقویٰ کی روح کو نہیں سمجھ سکتا۔ دوسری طرف صبر و شکر سے محروم ہو کر وہ اپنی تباہی کا سامان کرتا ہے۔ اسی طرح رزق حلال کے بارے میں ایک حدیث میں آیا ہے جو شخص اپنے اوپر سوال کا ایک دروازہ کھولتا ہے، حق تعالیٰ اس پر ستر دروازے محتاجی،مفلسی اور قلاشی کے کھول دیتا ہے۔ پھر حدیث میں آیا ہے کہ حلال کمائی سے اپنے اہل وعیال کی کفالت کرنا راہ دین میں جہاد کرنے کے مثل اور بہت سی عبادات میں افضل درجہ رکھتا ہے۔

 قرآن پاک میں کسب معاش کو اللہ کا فضل قرار دیا گیا ہے۔ آقائے دوعالم ﷺ نے محنتی کو اللہ کا دوست بتایا ہے۔ ایک جگہ اور فرمایا جنت اس شخص پرواجب ہو جاتی ہے جو اپنی محنت مزدوری پر قائم رہتا ہے اور مشقت کی ذلت برداشت کرتا ہے۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اللہ ہمیں رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو گداگری جیسی لعنت سے پاک فرماکر ہم سب کو خوشحالی عطا فرمائے۔ آمین 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔