اہل منصب کا انتخاب،شرعی تقاضے
اسلام ایسا کامل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو جہاں تمام شعبہ ہائے زندگی کے اصول و آداب سکھلاتا ہے وہیں شفاف حکمرانی کے گُر بھی سکھاتا ہے۔ اس مختصر مضمون میں اسلامی نظام کیلئے اہل مناصب کی صفات اور ان کے چناؤ پرگفتگوکی جائے گی۔
کسی بھی منصب کی اہلیت کیلئے قرآن و حدیث میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔کسی بھی عہد ہ کیلئے بندے کا تقررکرنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اہل ہو اور امانت دار ہو۔ قرآن مجید میں ہے: ’’ان میں سے ایک (لڑکی) نے کہا: اے والد گرامی! انہیں (اپنے پاس مزدوری پر) رکھ لیں بیشک بہترین شخص جسے آپ مزدوری پر رکھیں وہی ہے، جو طاقتور، امانت دار ہو‘‘ (القصص:26)۔ حاکم کا کسی عہدہ پر تقرر کرنے کیلئے امیدوارکی اہلیت کو جانچنا ازحد ضروری ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو عزیز مصرکے عہدہ پرفائز کرنے کیلئے پہلے امتحان اور ان کی اہلیت کو پرکھا گیا پھر عہدہ پر فائز کیا گیا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بادشاہ نے کہا: انہیں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں اپنے لئے (مشیرِ) خاص کر لوں، سو جب بادشاہ نے آپؑ سے (بالمشافہ) گفتگو کی (تو نہایت متاثر ہوا اور) کہنے لگا: (اے یوسف!) بیشک آپؑ آج سے ہمارے ہاں مقتدر (اور) معتمد ہیں (یعنی آپ کو اقتدار میں شریک کر لیا گیا ہے) (یوسف:54)۔گویا منصب کی اہلیت کیلئے قوت اور امانتداری اہم رکن ہیں۔
اگرکسی نااہل شخص کواس کی دولت یا اثر ور سوخ کی بنا پر یا کسی کی سفارش کی وجہ سے کسی اہم عہدہ پر فائزکر دیا جاتا ہے تو اس کی نااہلیت اور جہالت کے اثرات ایک فرد پر نہیں بلکہ پوری قوم پر پڑتے ہیں۔ جس سے ملک و ملت کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے وقوع قیامت سے متعلق سوال کیا تو آپﷺ نے فرمایا: جب دین و دنیا کا معاملہ نااہلوں کے سپرد کر دیا جائے تو قیامت کا انتظار کرو(صحیح بخاری: 59)۔منصب کیلئے مطلوبہ امیدوار کا اہل ہونا ضروری ہے اور اگر باصلاحیت شخص کو چھوڑ کر دوسرے شخص کا انتخاب محض اس وجہ سے کرتے ہیں کہ وہ اس کا رشتہ دارہے، آزادکردہ غلام ہے، دوست ہے، ہم وطن، ہم مذہب، ہم خیال ہے یا جو شخص اس منصب کی اہلیت رکھتا ہے اس کومحض ذاتی دشمنی کی وجہ سے چھوڑکردوسرے کوعہدہ سونپ دیا تو اس نے اللہ تعالیٰ، رسول معظم ﷺ اور مسلمانوں سے خیانت کی۔ قرآن مجیدمیں ہے: ’’اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول سے (ان کے حقوق کی ادائیگی میں) خیانت نہ کیا کرو اور نہ آپس کی امانتوں میں خیانت کیا کرو، حالانکہ تم (سب حقیقت) جانتے ہو‘‘(الانفال:27)
عہدہ پرکسی بھی شخص کومامورکرنے کیلئے مال و دولت،جاہ وحشمت، تعلق داری، رشتہ داری، اقربا پروری کی بجائے عہدہ کے مطلوب امیدوارکیلئے اہلیت ہونا بہت اہم ہے۔ قرآن مجید میں ذکر ملتا ہے کہ جب حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کا حکمران مقرر کیا گیا تو اسرائیلیوں نے اعتراض کیا کہ ان کی تو مالی حالت اچھی نہیں اس لیے انہیں یہ سرداری نہیں ملنی چاہیے تو جواباً اس وقت کے نبی نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اس کا چناؤ اس کی جسمانی صحت اور علمی وسعت کی وجہ سے کیا ہے۔ قرآن مجید میں ہے: ان سے ان کے نبی نے فرمایا: بیشک اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرّر فرمایا ہے، تو کہنے لگے :کہ اسے ہم پر حکمرانی کیسے مل گئی حالانکہ ہم اس سے حکومت (کرنے) کے زیادہ حق دار ہیں اسے تو دولت کی فراوانی بھی نہیں دی گئی، (نبی نے) فرمایا: ’’بیشک اللہ نے اسے تم پر منتخب کر لیا ہے اور اسے علم اور جسم میں زیادہ کشادگی عطا فرما دی ہے، اور اللہ اپنی سلطنت (کی امانت) جسے چاہتا ہے عطا فرما دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہے‘‘ (البقرہ: 247)۔نبی نے کہا کہ امارت کیلئے دو چیزوں کی ضرورت ہے (1) علم تاکہ ملک کا نظم و نسق قائم رکھ سکے۔ بہترین طریقہ سے حکومت کرنے کے قابل ہو اور سیاسی مسائل کی پیچیدگیاں سکھا سکے۔ (2) جسم کہ اس کی ظاہری شکل و صورت سے رعب و دبدبہ ٹپکتا ہو۔ لوگوں پر اس کی ہیبت طاری ہو۔ فن حرب کا ماہر ہو اور فنون جنگ سے اچھی طرح واقف ہو، فوجوں کو نظم و تربیت کے ساتھ لڑا سکے۔ یہ دونوں اوصاف طالوت میں اعلیٰ درجہ کے ہیں اور یہی باتیں ہیں جن کی بناء پر ایک شخص امیر یا بادشاہ منتخب کیا جا سکتا ہے۔ آیات قرآنی اس بات پہ شاہد ہیں کہ امارت و سرداری کیلئے مال و دولت کی فراوانی اہم نہیں بلکہ اس کیلئے صحت اور علم کی ضرورت ہے۔
منصب طلب کرنے کی ممانعت
بہت سی احادیث مبارکہ میں عہدہ کی طلب سے منع کیا گیا ہے اور اپنے آپ کو کسی عہدہ کیلئے پیش کرنے والے کوعہدہ نہ دینے کی صراحت ملتی ہے۔حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے عبدالرحمن تو خود حکومت کے کسی منصب کا سوال نہ کر، اس لیے کہ یہ منصب اگر تجھے بغیر سوال کیے مل جاتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیری مددکی جائے گی اور اگر سوال کرنے سے تجھے یہ مل گیا تو یہ تیرے سپرد کر دیا جائے گا(یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہو گی) (مسند احمد: 20618)۔حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے دو چچا زاد بھائی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! جن علاقوں پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکمران بنایا ہے ان میں سے بعض کی گورنری ہمیں عطا کر دیں دوسرے نے بھی ایسی ہی بات کہی تو آپﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہم حکومتی عہدوں پر ایسے شخص کو مقرر نہیں کرتے، جو خود اس کا سوال کرے اور نہ ہی ایسے کسی شخص کو جو اس کی خواہش رکھے(صحیح مسلم: 1733)۔
منصب سے بچنے کی تلقین
احادیث طیبات کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حتی الامکان آدمی کومنصب سے دور رہنا چاہیے اور اس سے بچنے کی بھرپورکوشش کرنی چاہیے، اس لیے کہ اگر آدمی منصب کی ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھا نہ سکے تو اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجائے گا۔حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم لوگ یقیناً حکومت اور سرداری کی طلب کرو گے، (مگر یاد رکھو) یہ قیامت والے دن ندامت کا باعث ہو گی(صحیح بخاری: 7148)۔ حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: اے ابوذرؓ! میں تجھے کمزور دیکھتا ہوں، اور میں تیرے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں (اس لیے میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ) تو دو آدمیوں پرکبھی حاکم نہ بننا اور نہ کسی یتیم کے مال کا نگران بننا (سنن ابی داؤد: 2868)۔ حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! کیا آپ مجھے کسی جگہ کا عامل (عہدیدار) بنا سکتے ہیں؟ آپﷺ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارا اور فرمایا: اے ابوذرؓ! تو کمزور ہے اور یہ (منصب) ایک اہم امانت ہے۔ یہ قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا باعث ہو گا، ماسوا اس شخص کے جو اسے حق کے ساتھ حاصل کرے اوران ذمہ داریوں کو پورا کرے جو اس منصب کی وجہ سے اس ہر عائد ہوتی ہیں(صحیح مسلم:1825)۔
حضرت ابوامامہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جو شخص دس یا اس سے زیادہ آدمیوں کا ذمہ دار بنا ہو، اللہ تعالیٰ کے پاس اس حال میں آئے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہو گا، اب اس کی نیکی اس کو کھول دے گی یا اس کا گناہ اس کو اور سخت باندھ دے گا، اس عہدہ کا آغاز ملامت سے ہوتا ہے اور اس کے درمیان ندامت ہوتی ہے اور اس کا اختتام قیامت کے دن کی رسوائی پر ہو گا (مسند احمد: 22300)۔حضرت عوف بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں منصب کی حقیقت بتلا دوں کہ وہ کیا ہے؟ یہ قابل ملامت، باعث ندامت اور قیامت کے دن کا عذاب ہے، سوائے اس منصب والے کے جو عدل سے کام لے (المعجم الاوسط: 6747)
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر ذمہ دار سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کرے گا کہ ان کی حفاظت کی یا ان کو بربادی تک پہنچایا، یہاں تک کہ آدمی سے اس کے گھروالوں کے بارے میں بھی پوچھا جائیگا (الجامع الصغیر: 1774) ۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ایک وقت ایسا آئے گاکہ منصب والے یہ تمنا کریں گے کہ وہ آسمان سے گر پڑتے مگرکوئی منصب نہ لیتے(الجامع الصغیر: 5360) یعنی منصب فی نفسہ بری چیز نہیں بلکہ خارجی عوامل اس کے اندرخرابی کاباعث بنتے ہیں اوریہ خرابی آدمی کے دین وایمان کیلئے ہلاکت خیزہے۔
اہل منصب کے اثرات
جب منصب کسی اہل شخص کو ملتا ہے اور وہ پوری دیانتداری اورانصاف کے ساتھ اس کونبھانے کی کوشش کرتا ہے تو عوام اور ماتحتوں پر بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نبوی دور حکومت، خلفاء راشدین اور حضرت عمر بن عبدالعزیزکا دور حکومت اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اس کے برعکس اگر منصب و عہدہ غیرذمہ داراور نااہل لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا تو لوگ پریشان رہتے ہیں اور انتشار و بدامنی کی کیفیت طاری رہتی ہے۔حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے: لوگ اس وقت تک راہ راست پر رہیں گے جب تک ان کے حکمران اور رہنما راہ راست پر رہیں گے (طبقات ابن سعد، ج3، ص 292)۔ آپؓ کا ایک قول ہے کہ: عوا م حاکم کو اس کاحق ادا کرتی رہے گی جب تک حاکم اللہ تعالیٰ کواس کاحق ادا کرتا رہے گا، جب حاکم چرنے(بددیانتی کرنے) لگے گا تو عوام بھی چرنے لگے گی۔(ایضاً)