پاکستان،نیوزی لینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز:کیویز کی آج شاہینوں کے دیس آمد

تحریر : زاہداعوان ،ارشد لئیق


نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم 5 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کیلئے آج اسلام آباد پہنچ رہی ہے جبکہ گرین شرٹس کا قومی ٹی ٹوئنٹی سکواڈ بھی آج اسلام آباد رپورٹ کرے گا۔ کیویز کیخلاف شاہینوں کے امتحان کا آغاز چار روز بعد 18 اپریل سے پنڈی کرکٹ سٹیڈیم سے ہو گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے نیوزی لینڈ کیخلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز کیلئے پاکستان کی 17 رکنی ٹیم کا اعلان کردیا ہے۔ دو نئے کھلاڑی عثمان خان اور عرفان خان نیازی پہلی بار پاکستان ٹیم میں شامل کئے گئے ہیں۔ قومی سلیکشن کمیٹی نے5 ریزرو کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان بھی کیا ہے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پانچ میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز 18 سے 27 اپریل تک راولپنڈی اور لاہور میں کھیلی جائے گی۔ 

یہ سیریز پاکستان کرکٹ ٹیم کی امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ اس سیریز کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ اور آئرلینڈ کے دورے میں بھی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کھیلے گی۔ قومی سلیکشن کمیٹی نے گزشتہ دنوں کھلاڑیوں سے ملاقات کے دوران انہیں روٹیشن پالیسی سے آگاہ کیا تھا جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کو مواقع دینا ہے تاکہ ایک مضبوط کمبی نیشن تیار کیا جا سکے۔ 

پاکستان ٹیم میں پہلی مرتبہ شامل ہونے والے 28 سالہ عثمان خان اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں کھیلتے رہے ہیں، وہ گزشتہ دو سال سے پاکستان سپر لیگ میں شاندار پرفارمنس دیتے رہے ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے ’’ملتان سلطانز ‘‘کی طرف سے ’’کوئٹہ گلیڈی ایٹرز‘‘ کے خلاف پی ایس ایل کی تاریخ کی تیز ترین سینچری صرف 36گیندوں پر بنائی تھی۔ اس سال بھی انہوں نے پی ایس ایل میں دوسینچریوں اور دو نصف سینچریوں کی مدد سے 430 رنز سکور کیے۔

21سالہ عرفان خان نیازی کی ٹیم میں شمولیت ڈومیسٹک کرکٹ اور پاکستان سپر لیگ میں عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے، وہ اس سال پی ایس ایل میں ’’ کراچی کنگز‘‘ کی طرف سے کھیلتے ہوئے ٹورنامنٹ کے بہترین فیلڈر اور بہترین ایمرجنگ کرکٹر قرار پائے تھے، جبکہ پریذیڈنٹ ٹرافی میں سٹیٹ بینک کی طرف سے کھیلتے ہوئے انہوں نے چھ اننگز میں455 رنز سکور کیے تھے۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک سنچری بھی سکور کر چکے ہیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں انہوں نے ایک نصف سنچری بنائی ہے۔ عرفان خان نیازی2020ء اور 2022 ء میں انڈر19 ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ 

فاسٹ بائولر محمد عامر اور آل رائونڈر عماد وسیم کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی ہوئی ہے۔ محمد عامر اور عماد وسیم نے گزشتہ دنوں اپنی ریٹائرمنٹ ختم کر کے خود کو پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے دستیاب ہونے کا اعلان کیا تھا۔ عماد وسیم نے آخری مرتبہ پاکستان کی نمائندگی گزشتہ سال نیوزی لینڈ ہی کیخلاف راولپنڈی کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کی تھی،انہوں نے حالیہ پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈکی طرف سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پشاور زلمی کے خلاف ناقابل شکست نصف سینچری بنانے کے علاوہ ملتان سلطانز کے خلاف فائنل میں پانچ وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔عماد وسیم66 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 486 رنز بنانے کے علاوہ 65 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔محمد عامر نے آخری مرتبہ2020 ء میں پاکستان کی طرف سے انگلینڈکے خلاف اولڈ ٹریفرڈ میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلا تھا۔محمد عامر نے 50 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 59 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ 

پاکستان کرکٹ ٹیم میں بابراعظم (کپتان)، صائم ایوب، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، عثمان خان، افتخار احمد، اعظم خان(وکٹ کیپر)، عرفان خان نیازی، شاداب خان ، عماد وسیم، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، زمان خان، محمد عامر، عباس آفریدی، اسامہ میر، فخرزمان اور ابرار احمدشامل ہیں۔ٹیم کے ریزرو کھلاڑیوں میں حسیب اللہ، محمد علی،صاحبزادہ فرحان، آغا سلمان اور وسیم جونیئر شامل ہیں۔نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کیلئے پاکستان ٹیم کے سینئر وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کو نائب کپتان بنائے جانے کا امکان ہے۔ چیف سلیکٹر وہاب ریاض نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں روٹیشن پالیسی ہو گی، یہ پالیسی کپتان پر بھی لاگو ہو گی، تاہم تادم تحریر نائب کپتان کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تھا۔ رضوان اس ذمہ داری کیلئے مضبوط امیدوار ہیں، ساتھ ہی شاداب خان کے نام پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

حالیہ سیریز اور پھر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے 29 کھلاڑیوں کاپاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 10 روزہ فزیکل ٹریننگ کیمپ منعقدکیاگیا۔کیمپ میں کرکٹرز کو سخت ترین مشقیں کرائی گئیں، کبھی کرکٹرز کو ساتھی کھلاڑی کو کاندھے پر اٹھاکر دوڑایا گیا تو کبھی سپرنٹ لگوائی گئیں۔قومی کرکٹرز نے اس بوٹ کیمپ کے دوران دیواریں بھی پھلانگیں اور پہاڑی پر بھی چڑھائی کی۔10 روز تک جاری رہنے والے اس کیمپ میں کھلاڑیوں کو اپنی فٹنس اور اسٹرینتھ کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہے اور اب یہ پلیئرز پر منحصر ہے کہ وہ اس معیار کو کیسے برقرار رکھتے ہیں جو انہوں نے کیمپ کے دوران حاصل کیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کاوائٹ بال کپتان ایک بار پھر تبدیل کردیا اور بابر اعظم کو ایک بار پھر ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹیم کی قیادت سونپ دی گئی،ان سے قبل شاہین آفریدی ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ٹیم کے کپتان تھے۔بابر اعظم 52 ٹیسٹ، 117 ون ڈے اور 109 ٹی ٹوئنٹی میچز میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ’’ ورلڈ کپ 2023ء‘‘ میں گرین شرٹس کی ناقص کارکردگی کے بعد بابر اعظم نے تمام فارمیٹس کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان نے 71 ٹی ٹوئنٹی میچز میں سے 42 جیتے اور 23 ہارے۔ بابر اعظم اب تک 5 انٹرنیشنل ٹورنامنٹس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 ء اور 2022ء، ایشیاء کپ 2022ء، 2023ء اور ورلڈ کپ 2023ء میں پاکستان ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں، تاہم پاکستان ٹیم بابر اعظم کی قیادت میں اب تک کوئی آئی سی سی یا ایشیاء کپ ٹائٹل نہیں جیت سکی ہے۔

کپتان کی تبدیلی پر فاسٹ بائولر اور سابق کپتان شاہین آفریدی کاکہناہے کہ پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرنا ایک اعزازکی بات تھی، ہمیشہ ان یادوں اورمواقع کو یاد رکھوں گا۔ کھلاڑی ہونے کے ناطے یہ میرا فرض ہے کہ میں اپنے کپتان بابراعظم کی حمایت کروں۔کپتان کی تبدیلی کے حوالے سے سابق کھلاڑیوں اور ماہرین کرکٹ کاکہناہے کہ پاکستان میں جس طرح کپتانی تبدیل ہوتی ہے وہ انداز بڑا ناخوشگوار ہوتا ہے جس کا پلیئرز پر اثر پڑتا ہے۔جس طریقے سے کپتان تبدیل کیا گیا وہ پہلے بھی غلط تھا اور اب بھی غلط ہے۔ شاہین آفریدی کوہٹانے کا فیصلہ عجلت میں کیاگیا۔

نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے سکواڈ کا اعلان پہلے ہی کردیا،اہم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے باعث مائیکل بریسویل کو پہلی بار کیوی ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔دورہ پاکستان کیلئے بریسویل کے علاوہ مارک چیپمین اور جوش کلارکسن سکواڈ میں شامل ہیں۔ جمی نیشم، ٹم سائفرٹ اور اش سودھی بھی کیوی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔نیوزی لینڈ کے 9 کھلاڑی آئی پی ایل اور ایک کائونٹی کی وجہ سے دستیاب نہیں ہے۔ ٹرینٹ بولٹ، ڈیون کانوے، لوکی فرگوسن، میٹ ہینری، ڈیرل مچل ، گلین فلپس، رچن روندرا، کین ولیمسن اور مچل سینٹنر آئی پی ایل کھیل رہے ہیں، ول ینگ کاونٹی جبکہ ٹام لیتھم گھریلوں مصروفیات کی وجہ سے دستیاب نہیں ہیں، ٹم سائوتھی کو ورک لوڈ مینجمنٹ کے تحت دورہ پاکستان کیلئے آرام دیا گیا ہے۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو ٹی 20 سیریز کیلئے دورہ پاکستان پر روانگی سے قبل بڑا دھچکا لگ گیا، کیویز ٹیم کے دو اہم کھلاڑی فن ایلن اور ایڈم ملنے پاکستان کے خلاف سیریز سے باہر ہوگئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کرکٹ کے مطابق فن ایلن اور ایڈم ملنے ٹریننگ کے دوران انجری سے دوچار ہوئے جس کے بعد دونوں کھلاڑی پاکستان کیخلاف سیریز کیلئے دستیاب نہیں۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز 18 اپریل سے شروع ہو گی، نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم آج اسلام آباد لینڈ کرے گی جبکہ پاکستان کے قومی ٹی ٹوئنٹی سکواڈ کے کھلاڑی بھی آج14 اپریل کوہی اسلام آباد میں رپورٹ کریں گے۔

5 میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کا 18اپریل سے  آغاز، 3 میچ راولپنڈی 2 لاہور میں کھیلے جائیں گے، بابر اعظم ایک بارپھر گرین شرٹس کی قیادت کریں گے

سنیئر کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے بعد نیوزی لینڈ ٹیم کو بڑا دھچکا، مزید دو اہم کھلاڑی انجری کے باعث پاکستان کیخلاف سیریز سے باہر ہو گئے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

یادرفتگاں: علامہ نیازفتح پوری کی ذہنی و فکری وسعت

وہ ایک جدید صوفی کے روپ میں نظر آتے ہیںجس نے اسلام کی رُوح تلاش کرنے کی دیانتداری کیساتھ کوشش کی ادب کی مختلف اصناف پر طبع آزمائی کرکے انہوں نے ہر پہلو کو سجایا اوراپنے آ پ کو کسی ایک خاص صنف کا پابند نہیں کیا

تنقید اور کہانی کی منطق

کہانی کا خاتمہ یا انجام قابل قبول بھی اور موثر ہونا چاہئے ،بڑی بات یہ ہے کہ وہ دلوں میں اپنے سنج ہونے کا یقین پیدا کر سکے کہانی کی منطق ہر موقع اور محل پر ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر نئی صورتیں اختیار کرتی ہے

پاکستان کا مشن ورلڈ کپ!

آئی سی سی مینز ٹی 20ورلڈکپ شروع ہونے میں صرف 13روز باقی رہ گئے ہیں اور اس دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف چار میچز پر مشتمل انٹرنیشنل ٹی 20 سیریز بھی کھیلنی ہے۔ امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں مشن ورلڈکپ سے قبل گرین شرٹس کو 3 انٹرنیشنل سیریز کھیلنے کا موقع ملا، ہوم گرائونڈ پر نیوزی لینڈ کیخلاف پانچ میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کھیلی۔

بہادر گلفام اور مون پری

گلفام کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔وہ بہت ہی رحمدل اور بہادر لڑکا تھا اور ہمہ وقت دوسروں کی مدد کرنے کیلئے تیار رہتا تھا۔

چھپائی کی ایجاد

چھپائی کی ایجاد سے پہلے کتابیں ایک بہت ہی بیش قیمت اور کم نظر آنے والی شے تھیں۔تب کتاب کو ہاتھوں سے لکھا جاتا تھا اور ایک کتاب کو مکمل کرنے میں مہینوں لگ جاتے تھے،لیکن آج چھپائی کی مدد سے ہم صرف چند گھنٹوں میں ہزاروں کتابیں چھاپ سکتے ہیں۔

ذرامسکرائیے

پولیس’’ تمہیں کل صبح پانچ بجے پھانسی دی جائے گی‘‘ سردار: ’’ہا… ہا… ہا… ہا…‘‘ پولیس: ’’ ہنس کیوں رہے ہو‘‘؟سردار : ’’ میں تو اٹھتا ہی صبح نو بجے ہوں‘‘۔٭٭٭