مختصر سے مختصر کچھ اچھی باتیں

تحریر : روزنامہ دنیا


خاموشی : ایسا پھل ہے جس پر کبھی کڑوا پھل نہیں لگتا ۔ حسد: ایسی دیمک ہے جو انسان کو اندر اور باہر سے ختم کر دیتی ہے۔ ذہانت: ایسا پودا ہے جو محنت کے بغیر نہیں لگتا۔ضمیر: ایساساتھی ہے جو ہمیشہ حق کی راہ دکھاتا ہے۔

خوش اخلاقی: ایسی خوشبو ہے جو میلوں دور سے محسوس ہوتی ہے۔

دعا: ایسا عمل ہے جو تقدیر کو تقدیر پر مات دے سکتا ہے۔

گناہ: ایسی لعنت ہے جو قلب کو کالا کر دیتی ہے۔

توبہ: ایسا دروازہ ہے جو موت کی ہچکی تک کھلا رہتا ہے۔

 مسواک کے فائدے

٭ مسواک ہمارے آقا نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔

٭مسواک کرکے نماز پڑھنا بغیر مسواک کئے نماز سے ستر گنا افضل ہے۔

٭مسواک منہ کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔

٭ منہ کو خوشبودار بناتی ہے۔

٭ بینائی بڑھانے کا ذریعہ ہے۔

٭بلغم اور منہ کی کڑواہٹ دور کرتی ہے۔

٭ دانتوں کی زردی دور کرکے سفیدی پیدا کرتی ہے۔

٭ حفاظت کرنے والے فرشتوں کی محبت کا ذریعہ ہے۔

٭ نیکیوں کا ستر گنا بڑھاتی ہے۔

٭مرتے وقت کلمہ نصیب ہوتا ہے۔

محنت کرو اور روزی کمائو

کسی عقلمند آدمی کے پاس ایک غریب آدمی آیا۔ اس نے عقلمند آدمی سے کہا میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے، آپ میری مدد کریں۔

 عقلمند نے اس غریب آدمی کو گہری نظر سے دیکھا اور پھر کہا، میرا ایک دوست ہے وہ انسانی اعضاء خریدتا ہے تو تمہارے پائوں بیس ہزار کے خریدے گا۔ غریب آدمی نے کہا، نہیں!

 عقلمند نے کہا! وہ ہاتھ اور آنکھیں بھی خریدتا ہے۔ غریب آدمی گھبرا گیا۔ عقلمند نے کہا، تم اپنا سارا جسم بیچ دو، وہ تمہیں اس کے ایک لاکھ روپے خوشی سے دے گا۔ 

غریب آدمی غصے سے بولا، میں ایک لاکھ تو کیا ایک کروڑ میں بھی اپنا جسم نہیں دوں گا۔

 عقلمند آدمی نے کہا۔ ہاتھ، آنکھیں، پائوں زندگی کے انمول تحفے ہیں ان سے کام لو۔

٭٭

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وطن کی عزت ہمارے ہاتھ!

ہم پاکستانی ہر معاملہ میں اپنا ثانی آپ ہیں، ہونا بھی چاہئے کیونکہ دل ہے پاکستانی۔ ہمارے تمام تر معاملات عجیب بھی ہوتے ہیں اور بھرپور بھی۔ ہر معاملے میں ہمارا رویہ منفرد بھی ہوتا ہے اور نرالا بھی۔

پرندوں کا دوست ببلو

ایک سرسبز جنگل کے پاس گاؤں میں بَبلو نام کا ایک خوش مزاج اور ذہین بچہ رہتا تھا۔

انمول باتیں

بچے معاشرے کا قیمتی سرمایہ

گاؤں سے جب آئے گائے

گاؤں سے جب آئے گائے

سنہری باتیں

٭…صبر کا دامن تھام لو اور صرف اللہ تعالیٰ کے طلبگار بن جاؤ۔

ذرا مسکرائیے

گاہک (دکاندار سے) :بھائی صاحب! آپ کے پاس چینی ہے؟۔