مومن خان مومنؔ کی غزل میں ر نگ اختصاص

تحریر : پروفیسرحسن عسکری کاظمی


جس کے ایک شعر پر غالبؔ نے پورا دیوان پیش کرنے کا اظہار کیا

اردو شعرو ادب میں ابتلا کا زمانہ وہی ہے جو ہمارے کلاسیکی شاعروں اور ادیبوں کا مقدر بنا، ناکام جنگ آزادی سے پہلے اور بعد میں جو صورت احوال دیکھنے میں آئی اسے ہمارے دانشوروں نے اپنے اپنے زاویہ نظر سے پرکھا اور دیکھا۔ شعرا نے اس کا اظہار یوں نہیں کیا جیسے ہمارے ادیبوں نے ان حالات سے متعلق لکھ کر مضامین، تبصرے یا تجزیے کئے۔ بیشتر شعرا اپنی روایت کی پابندی کرتے رہے، وہی گل و بلبل اور لب و رخسار کے تذکرے ہوتے رہے ۔ ایک مرزا غالب تھے جو اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کہتے رہے مگر وہ بھی کھل کر نہیں بلکہ محتاط انداز میںعوام کی بے بسی اور سات سمندر پار سے آئے ہوئے سفید فام حکمرانوں کے رویوں کو موضوع سخن بنا کر غزل میں پیش کرتے رہے۔ وہ بھی حالات سے سمجھوتہ کرنے میں عافیت تلاش کرنا ضروری خیال کرتے رہے۔ 

غالب کے ہم عصر دوسرے شاعروں نے اپنی تربیت اور مزاج کے مطابق غزل کہی ان میں مومن خاں مومن کا اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے عشق و محبت سے متعلق ذاتی تجربوں سے ہٹ کر کوئی دوسری بات نہیں کی۔ یہ اس تربیت کا نتیجہ تھا جو اس دور میں بالائی طبقے کی پہچان تھا کہ وہ کھل کر شاہد بازی میں مبتلا رہیں۔ طوائفوں کی عشوہ طرازیوں سے لطف اٹھائیں اور محبت اور ہوس کی تمیز اٹھا کر خوب کھل کھیلیں۔ مومن خان مومن وضع دار ضرور تھے مگر عشق کی لذتوں سے پوری طرح آگاہ تھے۔ وہ خود بھی خوبصورت تھے اور ان کی شخصیت میں بلا کی کشش تھی‘ گہری سیاہ اور بڑی آنکھیں‘ دراز قابت اور شانوں تک پھیلے ہوئے سر کے بال‘ آواز ایسی کہ شعلہ سا لپک جائے‘ غزل ترنم سے پڑھتے اور سامعین پر سحر طاری ہو جاتا۔

مومن کا تعلق مذہبی گھرانے سے تھا۔ ان کا خاندان طبابت میں شہرت رکھتا تھا ان کے والد حکیم غلام نبی خان اپنے زمانے کے مشہور طبیبوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے دادا حکیم نامدار خاں شاہ عالم کے زمانے میں شاہی طبیب کی حیثیت رکھتے تھے۔ شاہی خاندان کی خدمات گزاری پر انہیں خاصی جاگیر عطا ہوئی اس لئے فارغ البالی سے گزر بسر ہوتی رہی اس کے ساتھ ساتھ مذہبیت سے گہرا شغف رہا۔ ان کے والد شاہ عبدالعزیز سے خاص ارادت رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب مومن خان مومن پیدا ہوئے تو ان کے کان میں شاہ عبدالعزیز نے اذان دی اور مومن نام تجویز کیا۔ ایسے مذہبی ماحول میں مومن نے بہت کچھ سیکھا۔ طب ان کا آبائی پیشہ تھا اس میں خاص درک تھا اور انہیں حکیم مومن خان مومن کہہ کر مشاعرہ پڑھنے کی دعوت دی جاتی۔ ان کے حالات زندگی کی تفصیلات بتانا مقصود نہیں مگر یہ ضروری ہے کہ حالات نے ان کی شخصیت میں نکھار پیدا کیا اور دولت کی فراوانی اور مکمل آزادی کے سبب وہ صنف نازک اورعشق ارضی کو تکمیل شخصیت کیلئے ضروری سمجھنے لگے۔ مرزا غالب نے پریشانیوں میں زندگی بسر کی جبکہ مومن نے حسن پرستی اور لذت پسندی کو شعار زندگی بنا کر رئیسانہ انداز اختیار کیا۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی نے بڑے پتے کی بات لکھی ہے کہ ’’مومن ساری زندگی حسن سے صحت مندانہ دلچسپی لیتے رہے، لذت کے احساس سے وہ کبھی بیگانہ نہ ہوئے، تمام عمر عشق ان کے دم کے ساتھ رہا بلکہ یہ عشق تو درحقیقت اسی حسن پرستی اور لذت پسند کا ایک مظہر ہے‘‘۔

اردو شاعری میں مومن خان مومن نے جو رنگ و آہنگ بھرا اور اپنے زمانے میں مستقبل کے امکانات کو پیش نظر رکھا اس کی دوسری مثال نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ غزل میں عشق آگہی سے متعلق جو موضوعات لائے ایسے موضوعات ان سے پہلے کہیں نظر نہیں آئے۔ مرزا غالب نے یونہی یہ بات نہیں کہی کہ مومن کے اس شعر کے بدلے میں پورا دیوان دینے کیلئے تیار ہوں۔

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کبھی دوسرا نہیں ہوتا

مومن خاں مومن نے اردو کی بیشتر اصناف برتیں مگر ان کا اصل کارنامہ غزل کے حوالے سے دیکھنا مقصود ہے۔ انہوں نے غزل میں اچھوتے مضامین اپنے مخصوص انداز میں پیش کر کے خود کو منوایا ہے، وہ اپنی ڈگر پر قائم رہے، وہ خود اس کے مؤجد قرار پائے، ان کی غزل میں عشق و محبت کے علاوہ دوسرے موضوعات کم سے کم برتے گئے، وہ ابتدا میں شاہ نصیر سے اصلاح لینے لگے مگر وہ عروضی شاعر تھے۔ اسی طرح ناسخ کی شاعری میں تصنع دیکھا اس لئے مومن نے غزل میں اپنی حقیقی واردات کو شائستگی کے ساتھ پیش کیا۔ ان کے ہاں کہیں ابتدال نہیں پایا جاتا۔ البتہ وہ صرف اور صرف عشق جیسے عالمی موضوع کو غزل میں پیش کرنے پر اکتفا کرتے رہے گویا ان کا مرکزی اور حتمی موضوع یہی رہا مگر اس موضوع میں وسعت، ہمہ گیری، تنوع اور رنگارنگی پیدا کرکے وہ منفرد غزل گو شاعر کہلائے اور قاری کا دل موہ لینے میں ان جیسا دوسرا کم نظر آیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے کلاسیکی غزل گو شعرا نے عشق و محبت کے حوالے سے اپنے دیوان بھر دیئے مگر ان میں روایتی انداز اظہار پایا جاتا ہے۔ وہ اپنی حقیقی واردات سے زیادہ عمومی باتیں بیان کرتے رہے، روایت کی پاسداری میں وہ خود بھی روایتی شاعری کرتے رہے مگر مومن کو یہ بات پسند نہیں آئی کہ وہی باتیں جو پہلے بیان ہو چکی ہیں انہیں دہرا دیا جائے۔ وہ دوسروں پر نہیں بلکہ خود پر گزری کیفیات کو اپنے منفرد اسلوب میں پیش کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس میں کہاں تک کامیاب ہوئے اور قارئین کو کہاں تک مطمئن کر سکے۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔

جیسا کہ یہ بات بتادی گئی ہے کہ وہ روایتی شاعری سے متنفر تھے اس لئے انہوں نے وہی کچھ کہا جو ان کے ذاتی تجربے میں آیا۔ وہ ایک یا ایک سے زیادہ مرتبہ مبتلائے عشق ہوئے۔ انہوں نے ہر مرتبہ نیا تجربہ اور نیا انداز اختیار کیا۔ اس لئے وہ اپنے ہمعصر شعرا سے بالکل مختلف دکھائی دیئے اور محبت کے موضوعات کو روایتی ہونے سے محفوظ رکھا۔ مذہب اور مذہبی شخصیتوں سے ارادت ان کے خمیر میں گندھی ہوئی تھی اور دوسری طرف حسن و عشق سے لگائو اور شاعری میں سچائی پیش کرنا لازمی قرار پایا تھا۔ مومن کا تخلص ان کے بڑے کام آیا۔ یہی سبب ہے کہ غزل میں نئی اور اچھوتی باتیں آگئیں اور پوری فضا میں نیا احساس ابھر آیا۔

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

٭٭٭٭

ہر دم عرق عرق نگہ بے حجاب ہے

کس نے نگاہ گرم سے دیکھا حیا کے ساتھ

٭٭٭٭

دشمنی دیکھو کہ تا الفت نہ ہو جائے کہیں

لے لیا منہ پر دوپٹہ حال میرا دیکھ کر

٭٭٭٭

بسکہ ہے یار کی کمر کا خیال

شعر کی سوجھتی ہے باریکی

٭٭٭٭

میں اپنی چشم شوق کو الزام خاک دوں

تیری نگاہ شرم سے کیا کچھ عیاں نہیں

٭٭٭٭

غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا

میری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا

٭٭٭٭

یا رب وصال یار میں کیونکر ہو زندگی 

نکلی ہی جان جاتی ہے ہر ہر ادا کے ساتھ

٭٭٭٭

مومن اور دوسرے شعراء نامرادانہ زندگی سے ایسا تعلق نہیں رکھتے تھے کہ آہ و فغاں میں گزار کر رخصت ہوئے ہوں مگر دوسرے شاعروں نے دکھ جھیلے، معاشی بدحالی سے واسطہ پڑا یا انہوں نے جو چاہا وہ نہ ملا مگر مومن کی زندگی آرام و آسائش سے بسر ہوتی رہی اور عشق میں بھی درد و کرم، محرومی یا ناکامی کا سامنا نہیں پڑا، اس لئے انہیں طبیعت کی جولانی، محبوب کے بھائو تائو، نازنخرے اور عشوہ و ادا سے لطف اٹھانے کے مواقع ملے جنہیں وہ غزل کا موضوع بنائے رہے۔ ان کے ہاں عمومی انداز اظہار نہ ہونے کے برابر نظر آئے گا۔ مومن کی غزل میں حیرت افزائی اور استعجاب آفرینی کے علاوہ قاری کیلئے نت نئے پیچیدہ موضوعات کی فراوانی ملے گی۔ وہ اپنے قاری کو ورطۂ حیرت میں ڈالنا پسند کرتے ہیں جس کی مثال سے ان کی شاعری بھری پڑی ہے۔

اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا ذلیل

میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

٭٭٭٭

کیا گل کھلے دیکھئے ہے فصلِ گل تو دور

اور سوئے دشت بھاگتے ہیں کچھ ابھی سے ہم

٭٭٭٭

آتا ہے خواب میں بھی تری زلف کا خیال

بے طور گھِر گئے پریشانیوں میں ہم

٭٭٭٭

میں تو اس زلف کی بُو پر غش ہوں

چارہ گر مشک سنگھاتے ہیں مجھے

٭٭٭٭

بے خود تھے، غش تھے، محو تھے، دنیا کا غم نہ تھا

جینا وصال میں بھی تو ہجراں سے کم نہ تھا

٭٭٭٭

مانگا کریں گے اب سے دُعا ہجر یار کی

آخر کو دشمنی ہے دُعا کو اثر کے ساتھ

٭٭٭٭

بیزار جان سے جو نہ ہوتے تو مانگتے

شاہد شکایتوں پہ تری مدعی سے ہم

٭٭٭٭

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

پر کیا کریں کہ ہوگئے مجبور جی سے ہم

٭٭٭٭

فنون لطیفہ میں شاعری کو جو مقام حاصل ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ خصوصاً صنف غزل کی مقبولیت کا گراف سب سے بلند ہے کہ یہ ہر جگہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھی گئی ہے جہاں وہ رندوں کی محفل میں جگہ پاتی ہے وہاں یہ واعظان خوش بیان کے کام آتی ہے۔ ولی دکنیؔ سے داغؔ  تک سبھی نے  اسے برتا اور آج بھی غزل اقبالؔ، فیضؔ، ندیم قاسمیؔ، ناصرؔ کاظمی، احمد فرازؔ اور شہزاد احمد سے آگے ظفراقبال کے عہد میں اسے محبوب ترین صنف سخن کا درجہ حاصل ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 

صدقہ فطر، مقصد و احکام

جس نے نماز عید سے پہلے اسے ادا کیا تو یہ مقبول زکوٰۃ ہے

جمعتہ الوداع ! ماہ مبارک کے وداع ہونے کا وقت قریب آ گیا

ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو جمعۃالوداع کہتے ہیں۔ الوداع کے لغوی معنی رخصت کرنے کے ہیں چونکہ یہ آخری جمعۃ المبارک ماہ صیام کو الوداع کہتا ہے اس لئے اس کو جمعۃ الوداع کہتے ہیں۔ جمعۃ الوداع اسلامی شان و شوکت کا ایک عظیم اجتماع عام ہے۔ یہ اپنے اندر بے پناہ روحانی نورانی کیفیتیں رکھتا ہے اور یہ جمعہ اس لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اب ان ایام گنتی کے وداع ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ جس میں مسلمانوں کیلئے عبادات کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

سجدہ تلاوت کے چند مسائل

قرآن منبع ہدایت ہے، جب اس کی تلاوت تمام آداب، شرائط اور اس کے حقوق ادا کر کے نہایت غور و خوض سے کی جائے تو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرماتے ہیں اور علم و حکمت کے دریا بہا دیتے ہیں۔ قرآن کریم کی تلاوت کے احکام میں سے ایک حکم سجدہ تلاوت بھی ہے کہ متعین آیات کریمہ کی تلاوت کرنے اور سننے کے بعد سجدہ کرنا واجب ہوتا ہے۔

اٹھائیسویں پارے کاخلاصہ

سورۃ المجادلہ: اس سورۂ مبارکہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ صحابیہ خولہؓ بنت ثعلبہ کے ساتھ ان کے شوہر اوسؓ بن صامت نے ظِہار کر لیا تھا۔ ظِہارکے ذریعے زمانۂ جاہلیت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔ حضرت خولہؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: پہلے میں جوان تھی‘ حسین تھی اب میری عمر ڈھل چکی ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں‘ انہیں شوہر کے پاس چھوڑتی ہوں تو ہلاک ہو جائیں گے اور میرے پاس کفالت کیلئے مال نہیں ہے۔

اٹھائیسویں پارے کاخلاصہ

سورۃ المجادلہ: قرآنِ پاک کے 28ویں پارے کا آغاز سورۃ المجادلہ سے ہوتا ہے۔ سورۂ مجادلہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ جن کے شوہر نے ناراضی میں ان کو کہہ دیا تھا کہ تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہو۔ یہ درحقیقت عربوں کا ایک رواج تھا جسے ’ظِہار‘ کہا جاتا تھا۔

لیلتہ القدر ہزار مہینوں سے افضل شب

’’جس شخص نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ ثواب کے حصول کی غرض سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘(صحیح بخاری و مسلم شریف)