رہنمائے گھرداری گھر سجائیں، اچھوتے زاویوں سے!

تحریر : سائرہ جبیں


گھردراصل ایک خالی کینوس ہوتا ہے، آپ کا سامان، رنگ و رو غن، آرائشی اشیاء اور دیگر ضروری مصنوعات اس خاکے میں رنگ بھرتے ہیں۔ یہ تمام اشیاء جگہ کے موزوں استعمال سے خوشگوار تاثر دیتی ہیں۔ رنگ و روغن بھی نمایاں کردار ادا کرسکتا ہے۔

وال پیپرز کی تخلیقی جہت

قدیم زمانے سے دیواری آرائش کیلئے کاغذ جیسے میٹریل کو تخلیقی انداز سے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ان افراد کیلئے نہایت سہل انتخاب ہے جو رنگ و روغن کے بکھیڑوں میں پڑنا نہیں چاہتے۔ برسر روزگار افراد کیلئے رنگ و روغن کا وقت نکالنا کٹھن ہوسکتا ہے لیکن اس سے کم وقت میںوال پیپرز چسپاں کروانا آسان لگتا ہے۔ وال پیپرز کی دو اقسام میں سے وینائل کوٹڈ پیپر یا پیپر بیکڈ کچھ بھی انتخاب کیجیے۔

فرنیچر کے میٹریل کی انوکھی جاذبیت

لکڑی ایسا میٹریل ہے جو برس ہا برس سے ہمارے استعمال میں ہے۔ دنیا کے یبشتر خطوں میں لکڑی سے ہی فرنیچر اور دیگر سامان بنتا چلا آ رہا ہے۔ دوسرے لوہے سے بنائے جانے والے فرنیچر پر سلور اور Bronze شیڈ کی پالش اسے قابل دید بنا دیتی ہے۔ گھر کی چھوٹی بڑی ضروریات کیلئے سازوسامان کی خریداری ہماری اپنی صوابدید پر ہوتی ہے۔

 ماحول دوست میٹریل

بیشتر مکین موزائیک کے فرش باتھ رومز ہی کیلئے موزوں سمجھتے ہیں لیکن اگر آپ گھر کی کسی ایک دیوار کو statement wall کے طور پر مخصوص کرنا چاہیں تو موزیک کے میٹریل سے اسے نئے اور اچھوتے زاویے سے آراستہ کرسکتی ہیں۔ آج کل ہمارے یہاں مختلف اسٹائلش نقوش کی ٹائلیں دستیاب ہیں۔ غیرشفاف مٹیالے، سرمئی اور بھورے رنگ میں بھی ٹائلیں پائی جاتی ہیں۔ ان کی صفائی قدرے آسان ہے۔ اسٹین لس، آرٹ ورک یا پالشنگ کے بغیر سرامک کے شاہکار غرضیکہ انتخاب کی دنیا موجزن نظر آتی ہے۔

مصوری کے فن پارے

مصوری کے اصل فن پارے ماحولیاتی تبدیلیوں خاص کر موسموںکی شدت سے کینوس اورکاغذ جگہ جگہ سے بدوضع ہوسکتے ہیں۔ صاحب کمال آرٹسٹ کے فن پاروںسے تزئین نو کریں۔ کینوس پر روغنی رنگ پگھلتا بھی ہے اور چٹختا بھی ہے اس نقصان کی تلافی وقتاً فوقتاً کرواتی رہیں ورنہ مہنگی تصویر بھی اپنا نقش واضح نہ رکھ پائے گی۔

دیوار کو ایک سے زائد رنگوں سے سجائیں

اس سے ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ نے کسی تہوار کو بہت خصوصیت اور اہتمام کے ساتھ منانے کی ٹھان لی ہے۔ اس سے پورا ماحول ہی جاذب نظر ہوجائے گا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء : سورۂ انبیا میں فرمایاگیا ہے: لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور وہ غفلت کا شکار ہیں، دین کی باتوں سے رو گردانی کر رہے ہیں اور جب بھی نصیحت کی کوئی نئی بات ان کے پاس آتی ہے تو توجہ سے نہیں سنتے‘ بس کھیل تماشے کے انداز سے سنتے ہیں اور نبی کریم کو اپنے جیسا بشر قرار دیتے ہیں‘ قرآن کو جادو‘ خوابِ پریشاں‘ شاعری اور خود ساختہ کلام قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء :سترہویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔

اعتکاف قرب الٰہی کا سنہری موقع

اعتکاف کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے(بیہقی) ’’جو شخص اللہ کی رضا کیلئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کر دیتا ہے، ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے‘‘ (طبرانی، بیہقی)

صلوٰۃ التسبیح گناہوں کی معافی کا عظیم تحفہ

ایک بہت اہم اور عظیم نماز جس کی احادیث میں بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں، وہ ’’صلوٰۃ التسبیح‘‘ہے۔ اس نماز کی ادائیگی میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگتا ہے لیکن فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر پورا دن بھی لگ جائے تو زیادہ نہیں۔

مسائل اور ان کا حل

تکبیر تحریمہ کے بعد مقتدیوں کا پیچھے بیٹھے رہنا سوال:۔ جب حافظ صاحب تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز تراویح شروع کر دیتے ہیں، تو عموماً مساجد میں دیکھا جاتا ہے کہ کچھ لوگ بلا عذر پیچھے بیٹھے رہتے ہیں اور جب حافظ صاحب رکوع میں جاتے ہیں تو فوراً کھڑے ہو کر رکوع میں شامل ہو جاتے ہیں، ان لوگوں کا یہ عمل شرعاً کیسا ہے؟

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔