پیدل چلنا خواتین کیلئے مفید

تحریر : ڈاکٹر فروا


خواتین کیلئے مارننگ واک (صبح کی سیر) نہایت اہم اور فائدہ مند ہے۔ نہ صرف جسمانی صحت کیلئے بلکہ ذہنی سکون، خوبصورتی اور اندرونی توانائی کیلئے بھی۔ یہ ایک سادہ سی عادت ہے لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق وہ خواتین جو ہر ہفتہ مجموعی طور پر چار گھنٹے یا اس سے زیادہ برسک واک کرتی ہیں (تیزقدموں سے پیدل چلتی ہیں) ان میں اسٹروک یعنی کسی دماغی شریان کے پھٹنے یا دماغ میں خون کے بہائو میں رکاوٹ کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ یہ نتائج سپین میں کی جانے والی ایک میڈیکل ریسرچ میں سامنے آئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتہ بھر میں 210 منٹ یا اس سے زائد تیز قدمی کرنے والی خواتین میں اسٹروک کا شکار ہونے کاخطرہ ان خواتین کے مقابلے میں واضح طور پر کم ہوتا ہے، جو بہت کم پیدل چلتی ہیں یا پھر بالکل نہیں چلتیں۔ ماہرین کے مطابق اس ریسرچ سے ان شواہد کو تقویت ملی ہے کہ خاص قسم کی جسمانی ورزشوں اور مخصوص بیماریوں کے خطرات کے مابین ایک خاص تعلق پایا جاتا ہے۔ 

ماضی میں بھی کئی مشاہدات اور تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جسمانی سرگرمیوں سے دماغی شریانوں میں خون رکنے یا شریان کے پھٹنے (اسٹروک) کے خطرات میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اسٹروک اور جسمانی سرگرمیوں میں تعلق کے حوالے سے کی جانے والی اس ریسرچ پروجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر ماریو ہورنا کا کہنا ہے کہ اس ریسرچ سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ اعتدال پسندی سے کسی جسمانی تفریحی سرگرمی میں باقاعدگی سے حصہ لینا آپ کو صحت مند رہنے میں مدد دیتا ہے۔ 

اس ریسرچ سے ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ پیدل چلنے والی خواتین میں اسٹروک کا خطرہ ان خواتین کے مقابلے میں بھی کم رہتا ہے، جو یا تو سائیکل چلاتی ہیں یا سخت محنت والی ورزش کرتی ہیں، لیکن اتنے کم وقت کیلئے اس کا دورانیہ ہر ہفتہ ساڑھے تین، چار گھنٹے تک پیدل چلنے کے برابر نہیں ہوتا۔ ماہرین نے اس طبی جائزے کے دوران 33 ہزار مردوں اور خواتین سے ان کی جسمانی صحت، طرز زندگی اور ورزش کی عادت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

12 سال بعدایک بار پھر ان افراد کا سروے کیا گیا اور جو رائے دہندگان اس وقت تک زندہ تھے، ان کی روزمرہ مصروفیات اور ممکنہ اسٹروک سے متعلق معلومات جمع کی گئیں۔ معلوم ہوا کہ اس عرصے کے دوران ان مردوں اور خواتین میں سے 442 افراد کو سٹروک کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ مردوں میں اسٹروک کے خطرے کی شرح میں اس وجہ سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ کوئی مریض تھوڑا پیدل چلتا تھا یا زیادہ یا پھر وہ کوئی ورزش کرتا تھا یا نہیں۔ تاہم حیرت انگیز طور پر خواتین میں یہ واضح فرق دیکھا گیا کہ باقاعدگی اور تیز رفتاری سے پیدل چلنے والی خواتین میں سٹروک کے واقعات یا ان کے خطرات 43 فیصد کم ہوگئے تھے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 24)

سورۃ الزمر: اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کو جھٹلانے والے کو جہنمی قرار دیا گیا اور سچے دین کو لے کر آنے والے‘ یعنی رسول اللہﷺ اور ان کی تصدیق کرنے والے (مفسرین نے اس سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مراد لیا ہے) کو متقی قرار دیا گیا ہے۔ آیت 38 میں بتایاکہ اللہ کی قدرت پر کسی کا بس نہیں چلتا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 24)

سورۃ الزمر:چوبیسویں پارے کا آغاز سورۂ زمر سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچی بات اس تک پہنچ گئی تو اسے جھٹلا دیا۔

صدقہ فطر

اسلامی معاشرتی نظام کا ایک خوبصورت مظہر

رمضان کا آخری عشرہ

’’رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو تا تو نبی ﷺ عبادت کیلئے کمر بستہ ہو جاتے‘‘ (صحیح البخاری)رسول اللہ ﷺعام دنوں کی نسبت آخری عشرے میں خوب محنت اورکوشش کرتے (صحیح مسلم2788)

مسائل اور ان کا حل

پلاٹ کی زکوٰۃ ادا کرنے کا مسئلہ :سوال: تین دوستوں نے مل کرتجارت کی نیت سے ایک پلاٹ خریدا، پھر اس کی پوری کنسٹرکشن کروائی اب اسے فروخت کر رہے ہیں۔اس پر زکوۃ کا کیا طریقہ کار ہو گا اس کی مالیت پر ہوگی یاجب یہ فروخت ہو جائے گا تب ہو گی ؟ (عثمان بھٹی،جدہ )

خلاصہ قرآن(پارہ 23)

معبودِبرحق: اس پارے کی ابتدا میں بجائے اس کے کہ مشرکین کے باطل معبودوں کی مذمت کی جاتی‘ نہایت حکیمانہ انداز میں فرمایا: ’’میں اس معبود کی عبادت کیوں نہ کروں‘ جس نے مجھے پیدا کیا اور تم بھی اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘ کیا میں معبودبرحق کو چھوڑ کر ان (بتوں) کو معبود قرار دوں کہ اگر رحمن مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی شفاعت میرے کسی کام نہ آئے اور نہ ہی وہ مجھے نجات دے سکیں‘‘۔