شاہد احمد دہلوی:ایک بڑے انشا پرداز اور ماہر موسیقی

تحریر : پروفیسر صابر علی


شاہد احمد دہلوی زندگی کے دو پہلو اہم ترین ہیں، ادب اور موسیقی۔ وہ خوش تھے کہ انہوں نے انہی دونوں شعبوں میں علم و فن کی خدمت کی اور اسی خدمت کی بنیاد پرسیٹو نے جب اپنے ممبر ملکوں کیلئے خصوصی مقررین کی اسکیم منظور کی تو پاکستان کے دانشوروں میں سے سب سے پہلے انہیں 1959ء میں منتخب کیا گیا کہ۔۔۔

 تھائی لینڈ اور فلپائن میں پاکستان کے کلچر پر ان ملکوں کے مشہور اداروں اور شہروں میں لیکچر دیں اور اپنے ملک کی تہذیب و ثقافت سے دور افتادہ ملکوں کو متعارف کرائیں۔1961ء میں خیر سگالی کا ایک ثقافتی وفد ہندوستان گیا تھا اس میں بھی شاہد احمد دہلوی نے پاکستانی ادب و موسیقی کی نمائندگی کرنے کا فخر حاصل کیا۔ لسانی، ادبی اور موسیقی کے مذاکرات میں انہیں شریک ہونے کا موقع اکثر دیا جاتا ۔وہ اسے نہ صرف اپنے لئے باعث عزت سمجھتے بلکہ اپنی قوم اور اپنے ملک کی خدمت حتیٰ المقدر ان ذرائع سے کرنا اپنا فرض اور اپنے لئے سعادت سمجھتے۔

ان کی ساری عمر ادب اور ادیبوں کی خدمت کرتے گزری۔1959ء کے اوائل میں جن آٹھ ادیبوں نے ’’پاکستان رائٹرز گلڈ‘‘ کا سنگ بنیاد رکھا ان میں سے ایک شاہد دہلوی بھی تھے بلکہ انہیں کنونشن کے داعی اور صدر ہونے کی عزت بھی حاصل ہوئی۔

شاہداحمد دہلوی نے تصنیف و تالیف اور تراجم کے میدان میں بہت کام کیا۔ تصانیف کی تعداد تو کم ہے، تراجم بہت ہیں لیکن ان کے طرزنگارش نے تراجم کو بھی تصانیف کا درجہ دے دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ شاہد صاحب ایک بڑے اچھے صاحب طرز ادیب تھے۔ دلی کے واقعات کو جن سے انہیں پوری واقفیت تھی، دلی کی ٹکسالی زبان میں لکھ کر انہوں نے نہایت بلند مقام حاصل کرلیا۔ ان کے طرز تحریر میں زبان کے چٹخارے کے ساتھ ساتھ بڑی دلکشی اور جاذبیت ہے۔ آئیں ذرا شاہد احمد دہلوی کے حالات زندگی کا جائزہ لیں ۔

بشیر الدین احمدڈپٹی نذیر احمد کے اکلوتے بیٹے تھے جن کی ابتدائی تعلیم خود شفیق باپ کے سایہ میں ہوئی۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد میاں بشیر بغرض ملازمت دکن چلے گئے اور اوّل تعلق داری سے وظیفہ یاب ہوئے۔ یہ بھی اپنے نامی گرامی والد کی طرح بہت بڑے مصنف اور مورخ تھے۔ ادبی اور اخلاقی کتابوں کے علاوہ دو ضخیم جلدوں میں ’’ تاریخ  بیجا پور‘‘ اور تین بڑی جلدوں میں تاریخ دہلی لکھی۔ یہ ان کے دو بڑے تحقیقی کارنامے ہیں جب تک زندہ رہے ان کے ہاتھ سے بھی قلم نہیں چھوٹا۔

میاں بشیر کی شادی سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں دلی کے ایک معزز خاندان میں ہو گئی تھی۔ اللہ کا دیا سب کچھ موجود تھا مگر پندرہ سال تک کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ میاں بیوی تو اس محرومی پر بھی مطمئن و قانع تھے مگر خاندان میں مکھو پھر گئی اور منہ جڑنے لگے۔ پھر مولوی نذیر احمد کے کان میں بھی صدائیں پڑنے لگیں۔ پہلی بیوی کی موجودگی میں نکاح ثانی کے وہ خلاف تھے مگر جب چاروں طرف سے ان پر عزیزوں کا دبائو پڑا۔ اور انہوں نے خاندان کا چراغ گل ہوتے دیکھا تو وہ بھی پیج گئے۔ بیٹے اور بہو میں بڑا پیار دلار تھا۔ بیٹے سے کیسے کہیں کہ اپنی چہیتی بیوی پر سوکن لے آ؟ میاں بشیر کی والدہ سے کہا کہ تم سمجھائو۔ انہوں نے بیٹے کو چمکار پچکار کر رضامند کیا اور غریب مگر شریف خاندان کی ایک سیدانی سے چپ چپاتے ان کا نکاح پڑھوا دیا۔ اللہ کی شان کہ ان سیدانی سے بھی دس سال تک اولاد نہیں ہوئی۔ بڑی دلہن کی بن آئی اور انہوں نے طعنوں تشنوں سے جان ضیق میں کردی جب معاملہ تنت پر پہنچ گیا تو چھوٹی دلہن کی کوکھ ہری ہوئی۔ اللہ نے چاند سا بیٹا دیا،  ڈپٹی صاحب نے پوتے کا نام منذر احمد رکھا۔ اس کے بعد خدا کی دین ایسی ہوئی کہ یکے بعد دیگرے تین لڑکے ہوئے۔ منجھلے کا نام مبشر احمد اورچھوٹے کا نام شاہد احمد رکھا گیا۔

اب ان سنبھلے صاحبزادے میاں شاہد احمد کی مختصر سی سرگزشت حیات سنے اور خود انہی کی زبانی سنئے۔ ’’میں 22مئی 1906ء کو دلی میں اپنے آبائی مکان میں پیدا ہوا۔ چار سال کی عمر سے پہلے کی باتوں کا مجھے ہوش نہیں ہے۔ ایک خواب کا سا خیال ہے کہ ابا جب حیدر آباد سے دلی آتے تو سب سے پہلے ہمیں دادا ابا کی خدمت میں لے جاتے۔ ابا دادا ابا سے بغلگیر ہو کر رونے لگتے اور ہم حیران ہو کر انہیں تکتے رہتے۔ پھر دادا ابا ہمیں ایک ایک اشرفی دیتے اور ہم چپکے سے وہاں سے کھسک لیتے۔ بس اور کچھ یاد نہیں ہے۔جب میں چھ سال کا ہوا تو چھوٹی بہن صفیہ حیدر آباد میں پیدا ہوئی۔ انہی دنوں ابا کو کسی ضروری کام سے دلی جانا پڑا۔ ادھر ابا دلی روانہ ہوئے ادھر اماں کی طبیعت ایکا ایکی خراب ہوئی۔ اس کی اطلاع فوراً بذریعہ تار ابا کو دی گئی۔ وہ الٹے قدموں دلی سے لوٹے، مگر جب حیدرآباد پہنچے تو اماں کا جنازہ صحن میں رکھا پایا۔ اچھا بچھا چھوڑ کر گئے تھے، یہ کیا ہوا؟ چکرا کر گرنے ہی والے تھے کہ کسی نے لپک کر انہیں تھام لیا۔ ابا بڑے صبرو ضبط کے آدمی تھے۔ آنسو پیتے رہے۔ اماں کو سپرد خاک کرنے کے بعد آنسوئوں کا سیلاب ضبط کے بند کو بہا لے گیا اور وہ ہم بچوں کو گلے لگا کر روتے رہے۔ اس سے ان کے دل کی بھڑاس نکل گئی، مگر ساری عمر جب بھی انہیں اماں کا خیال آ جاتا تھا ،رونے لگتے تھے۔

ماں کی کمی پوری کرنے کے لئے ابا نے ہم پر یورپین دراینگلو انڈین گورنسیں رکھیں اور ہمیں اچھے سے اچھے کانونٹ سکولوں میں تعلیم دلائی۔ گھر پر بھی ماسٹر پڑھانے آتے اور ابا خود بھی ہمیں انگریزی اور اردو پڑھاتے تھے۔ پھر ایک دفعہ ابا دلی آئے تو مطبع محبتبائی میں مولوی عبدالاحد کے ہاں ان کی ملاقات ڈاکٹر ضیاء الدین سے ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے انہیں مشورہ دیا کہ بچوں کو علی گڑھ میں داخل کر دیا جائے۔ہمیں ایم اے او سکول علی گڑھ میں داخل کردیا گیا۔

1923ء میں دلی سے میٹرک پاس کرنے کے بعد میں نے لاہور جا کر ایف سی کالج میں داخلہ لے لیا۔ وہاں سے ایف ایس سی (میڈیکل) پاس کرنے کے بعد میڈیکل کالج میں داخل ہوا۔ سڑی ہوئی لاشوں پر کام کرنے سے طبیعت اس قدر مکدر اور بے زار ہوئی کہ ایک سال ہی میں، میں وہاں سے بھاگ گیا۔ دلی آکر میں نے انگریزی ادبیات میں بی اے (آنرز) کی ڈگری لی اس سے ایک سال پہلے ابا کا انتقال فالج میں ہو گیاتھا۔ وہ ہمارے سے پچاس پچاس ہزار روپیہ نقد اور دو دو سو روپے ماہانہ کی جائیداد چھوڑ گئے تھے۔ اسی لئے کمانے دھمانے کا ہمیں کوئی فکر نہیں تھا۔ میں نے فارسی ادبیات میں ایم اے میں داخلہ لے لیا۔ یہ 1929ء کا ذکر ہے میرے ایک رشتہ کے بھانجے نے مجھے مشہور دیا کہ دلی سے ایک عمدہ ادبی ماہنامہ جاری کیا جائے۔ اپنی سمجھ میں بھی یہ بات آ گئی اور بغیر کسی تجربے یا مشہورے کے جنوبی 1930ء میں ماہنامہ’’ ساقی‘‘ جاری کردیا۔ کوئی چار پانچ سال کی الٹا پلٹی میں اس پرچے نے اپنی جگہ تو بنا لی مگر میرے ماموں نے جو اس پرچے کا اہتمام کرتے تھے، مجھے بتایا کہ اس پرچے پر پچیس تیس ہزار روپیہ ضائع ہو چکا ہے اور اگر یہی روش رہی تو باقی روپیہ بھی یونہی نکل جائے گا۔ ادھر بھائیوں نے بھی لعنت ملامت کی تو آنکھیں کھلیں۔ پرچے کا انتظام خود اپنے ہاتھ میں لیا اور ہمعصر ادیبوں کی کتابیں چھاپنی شروع کیں۔ ڈوبتا ہوا کاروبار تر گیا‘‘۔

 محاسبہ نفس بڑی مشکل چیز ہے اور خود ستائی اس سے بھی زیادہ مشکل۔ تاہم ایک شخصیت کے خطوط کے اقتباسات پیش ہیں تاکہ قارئین کووہ حالات بھی معلوم ہو جائیں جنہیں شاہد دہلوی خود بیان نہیں کر سکتے تھے۔ یہ خطوط راجہ مہدی علی خان کے ہیں ۔’’میری زندگی کا رخ بدلنے میں بھی خدا کے بعد آپ ہی کا ہاتھ تھا۔ مجھے فلم انڈسٹری میں داخلہ آپ کے صرف ایک خط سے مل گیا، جو آپ نے میرے لئے منٹو مرحوم کو لکھا تھا۔ اسی قسم کے ایک سفارشی خط کی درخواست میں نے اپنے ماموں جناب حامد علی خان سے بھی کی تھی، اگرچہ انہیں ویڈیو میں لانے والا میں ہی تھا مگر انہوں نے مجھے سفارشی خط دینے سے انکار کردیا تھا۔ آپ ہی میرے کام آئے۔ آج میں جو کچھ ہوں وہ سب کچھ آپ کے طفیل سے حاصل کیا ہے آپ کے اس احسان کا بدلہ میں کبھی نہیں چکا سکتا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی کوئی ادیب کسی بہت بڑی مالی پریشانی میں مبتلا ہوا، بھاگا ہوا آپ کے دروازے پر پہنچا اور ہنستا ہوا واپس آ گیا کہ میں اپنا مسودہ شاہد صاحب کو دے کر پیسے لے آیا ہوں۔ شاہد احمدکا در ایک ایسا در تھا جس سے ہر وقت ضرورتمند ادیبوں کی ضرورتیں خدا  پوری کردیا کرتا تھا۔

غرض کہ سینکڑوں ادیبوں کے لئے شاہد احمد کا در برس ہا برس تک در حاتم بنا رہا۔ وہی شاہد احمد آج خود ریڈیو میں اسٹاف آرٹسٹ تھے اور صرف ساڑھے چار سو روپے ماہوار پا رہے تھے۔ حالانکہ ایسے کئی ساڑھے چار سو لوگ ان سے چھین کر لے جایا کرتے تھے

زباں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا

کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لئے

1963ء میں ادبی خدمات کے صلے میں انہیں صدارتی انعام ملا۔ 27مئی 1967ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔

 شاہد احمد دہلوی کی چندتصانیف

بچوں کی دلچسپیاں (جی فریڑرک کیوڈر) (ترجمہ)

بچوں کی نشو و نما ( ولارڈسی اولسن، جون لی ولن‘ترجمہ)

بچوں کا خوف ( ہیلن راس) (ترجمہ)

انتخاب معاش (ہمفریز جے انتھی) (ترجمہ)

دھان کا گیت (مس آئی لن چانگ) (ترجمہ)

غریب لڑکے جو نامور ہوئے (یولٹن) (ترجمہ)

بچوں میں جذبہ عداوت (سپل سکلونا ) (ترجمہ)

بچوں کے جذباتی مسائل (اوسپرجن، سٹوراٹ ایم قچ ) (ترجمہ)

بچوں کی معاشرتی زندگی (ایلس وٹنرمین) (ترجمہ)

والدین اور معلمین (ایوایچ گرانٹ) (ترجمہ)

آپ کے بچے کی وراثت (ایل گارٹن) (ترجمہ)

نرگس جمال (مارس مترلنک) (ترجمہ)

حیرت ناک کہانیاں (نتھینیل ہوتھورن) (ترجمہ)

انوکھی کہانیاں (نتھینیل ہوتھورن) (ترجمہ)

فاؤسٹ (جان ولف کانگ گوئٹے) (ترجمہ)

پروین و ثریا (مارس مترلنک) (ترجمہ)

پھانسی (اندریف) (ترجمہ)

مضامین موسیقی (ترتیب عقیل عباس جعفری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پاکستان سپرلیگ11 :زلمی کاراج، ریکارڈزکی برسات

پی ایس ایل 11 کے لاہور میں کھیلے جانے والے فائنل میں شائقین کو شرکت کی اجازت دے دی گئی:پشاور زلمی کے کوشل مینڈس اس وقت بیٹنگ چارٹ پر راج کر رہے ہیں اور’’گرین کیپ‘‘اپنے نام کر رکھی ہے

فیفا ورلڈ کپ2026:ایران کی شرکت اور عالمی فٹ بال کا نیا نقشہ

فٹ بال کا میگا ایونٹ11 جون سے 19 جولائی تک کھیلا جائے گا:امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے ورلڈکپ بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی تاہم اب ایران کی شرکت کے حوالے سے بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں

سیالکوٹ:صوبہ پنجاب کا تاریخی شہر

سیالکوٹ، صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جو دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ 9 لاکھ سے زائد کی آبادی والا یہ شہر لاہور سے 131کلومیٹر دور ہے جبکہ مقبوضہ جموں سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

خوشامد کا جال (ماخذ اردو کلاسک)

بوڑھے کسان نے بڑی تگ و دو کے بعد اپنے لیے پنیر کا ٹکڑا حاصل کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ باہر پرندوں کی ٹولی منڈلا رہی ہے، اس لیے اس نے ہاتھ میں مضبوط شاخ تھام لی تاکہ اس کی حفاظت کر سکے۔

ڈریگون فلائی

ڈریگون فلائی کو بچے ہیلی کاپٹر بھی کہتے ہیں، کیوں کہ یہ بالکل ہیلی کاپٹر کی طرح آگے پیچھے اُڑ سکتی اور فضا میں کھڑی ہوسکتی ہے۔

خدایا ! ملے علم کی روشنی

خدایا ! ملے علم کی روشنی