محبتِ اہلِ بیت قرآن و سنت کی روشنی میں

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


’’فاطمہؓ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے، جس نے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خفا کیا اُس نے مجھے خفا کیا‘‘ (بخاری ومسلم)

حضورِ اقدس ﷺنے اپنے ’’ اہل بیت اطہارؓ ‘‘ کے ساتھ نیک اور عمدہ سلوک کرنے والے کو پسند فرمایا ہے اور ان کے ساتھ برا اور غلط سلوک کرنے والے کو ناپسند فرمایا ہے۔ حضرت جُمیع بن عمیر ؒ کہتے ہیں کہ (ایک دن) میں اپنی پھوپھی کے ساتھ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے پوچھا کہ رسول اللہﷺ کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے۔ پھر میں نے پوچھامردوں میں سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایاکہ: ’’ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے شوہر (حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ) سے(جامع ترمذی)۔ 

حضرت مسور بن مخرمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ: ’’فاطمہؓ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے، جس نے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خفا کیا اُس نے مجھے خفا کیا‘‘ (بخاری ومسلم)۔ حضرت براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو اس حال میں دیکھا کہ حضرت حسن ؓ آپﷺ کے کندھے پر سوار تھے اور آپﷺ فرما رہے تھے: ’’اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر‘‘ (بخاری و مسلم)۔

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں  رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دن میں باہر نکلا، جب آپﷺ حضرت فاطمہ ؓ کے گھر میں پہنچے تو پوچھا: کیا یہاں ’’منا‘‘ ہے؟ کیا یہاں ’’منا‘‘ ہے؟ آپﷺ کی مراد حضرت حسن رضی اللہ عنہ تھے۔ ابھی آپﷺ نے چند ہی لمحے گزارے تھے کہ حضرت حسن ؓ آپﷺ کے گلے سے لپٹ گئے، اور پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، پس تو بھی اس سے محبت کر، اور جو اس سے محبت کرے تو اُس سے بھی محبت کر‘‘ (بخاری و مسلم)۔

حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ ’’حسنؓ اور حسینؓ دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہیں‘‘ (جامع ترمذی)۔ حضرت اُسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک دن رات میں اپنی کسی ضرورت سے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ (اپنے گھر کے اندر سے) اس حال میں باہر تشریف لائے کہ کسی چیز کو اپنے ساتھ لپیٹے ہوئے تھے اور میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا چیز تھی، پھر جب میں اپنی ضرورت کو عرض کرچکا تو پوچھا کہ یہ کیا چیز آپﷺ نے لپیٹ رکھی ہے؟، آپ ﷺ نے اُس چیز کو کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ حسنؓ و حسینؓ ہیں(یعنی آپ ﷺ نے ان دونوں کو گود میں لے کر چادر سے لپیٹ رکھا تھا)۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ’’یہ دونوں میرے بیٹے ہیں‘‘ (کہ نواسے بھی بیٹے ہی ہوتے ہیں) اور (حقیقتاً) میری بیٹی (حضرت فاطمہ ؓ) کے بیٹے ہیں۔ 

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ’’آپﷺ کے ’’ اہل بیت‘‘ میں سے کون شخص آپﷺ کو سب سے زیادہ عزیز و محبوب ہے؟‘‘  آپ ﷺ نے فرمایاکہ: ’’حسنؓ اور حسین ؓ ‘‘۔ حضرت انس ؓ نے یہ بھی بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ جب کسی وقت حضرت حسنؓ و حسینؓ کو گھر میں نہ دیکھتے توحضرت فاطمہ ؓسے فرماتے کہ: ’’میرے دونوں بیٹوں کو بلا لاؤ‘‘پھر جب (حضرت حسنؓ و حسینؓ آجاتے تو) آپﷺ ان دونوں کے جسموں کو سونگھتے (کیوں کہ وہ آپﷺ کے دو پھول تھے) اور ان دونوں کو اپنے گلے سے لگا لیتے (جامع ترمذی)۔ حضرت یعلی ٰ بن مرۃ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں‘‘ (جامع ترمذی)۔ 

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت ہے کہ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آج مغرب کی نماز جا کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھوں اور پھر آنحضرت ﷺ سے درخواست کروں کہ وہ میرے اور آپ کیلئے بخشش و مغفرت کی دُعا فرمائیں‘‘ (میری والدہ نے مجھے اجازت دے دی اور) میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپﷺ (مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد) نوافل پڑھتے رہے ، یہاں تک کہ پھر عشاء کی نماز پڑھی، اور جب آپﷺ نے میری آواز سنی تو پوچھا کہ ’’کون ہے؟‘‘، اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری والدہ کو بخشش و مغفرت سے نوازے! (دیکھو) یہ ایک فرشتہ ہے جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اُترا، اِس فرشتہ نے اپنے پروردگار سے اس بات کی اجازت لی ہے کہ (زمین پر)آکر مجھے سلام کرے اور مجھے اس بات کی خوشخبری سنائے کہ ’’ فاطمہؓ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور حسنؓ و حسینؓ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں‘‘۔ 

غرض یہ کہ جس طرح ’’اہل بیت اطہار‘‘ سے محبت و عقیدت رکھنا،ان کا ادب و احترام کرنا، اُن کی تعظیم و توقیر بجالانا ایمان کی معراج کہلاتا ہے، تو اسی طرح اُن سے بغض و نفرت رکھنا، ان کی بے ادبی و بے احترامی کرنااور اُن کی توہین و تذلیل کو روا رکھنا دین اسلام سے بیزاری کہلاتا ہے۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔