وہی لوگ پاتے ہیں عزت زیادہ

تحریر : روزنامہ دنیا


وہی لوگ پاتے ہیں عزت زیادہ جو کرتے ہیں دنیا میں محنت زیادہ اسی میں ہے عزت خبردار رہنا

بڑا دکھ ہے دنیا میں بیکار رہنا

زمانے میں عزت ، حکومت یہی ہے

بڑی سب سے دنیا میں دولت یہی ہے

ہری کھیتیاں جو نظر آ رہی ہیں

ہمیں شان محنت کی دکھلا رہی ہیں

جو محنت نہ ہوتی تجارت نہ ہوتی

کسی قوم کی شان و شوکت نہ ہوتی

ہمارا ، تمہارا ، سہارا یہی ہے

اندھیرے گھروں کا اْجالا یہی ہے

جو ہاتھوں سے اپنے کمایا وہ اچھا

جو ہو اپنی محنت کا پیسہ وہ اچھا

مری جان غافل نہ محنت سے رہنا

اگر چاہتے ہو فراغت سے رہنا

(الطاف حسین حالی)

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 20)

جلالت و قدرت:بیسویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ استفہامی انداز میں اپنی جلالت و قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا‘ آسمان سے بارش برسا کر بارونق باغات کس نے اگائے‘

خلاصہ قرآن(پارہ 20)

قوت تخلیق و توحید :بیسویں پارے کا آغاز سورۂ نمل سے ہوتا ہے۔ اس پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی قوت تخلیق اور توحیدکا ذکر کیا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 19)

کفار کے مطالبات:انیسویں پارے کے شروع میں ایک بار پھر کفارِ مکہ کے ناروا مطالبات کا ذکر ہے کہ منکرینِ آخرت یہ مطالبہ کرتے تھے کہ ہمارے پاس فرشتہ اتر کر آئے یا ہم اللہ تعالیٰ کو کھلے عام دیکھیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 19)

کفار کا پچھتاوہ:انیسویں پارے کا آغاز سورۃ الفرقان سے ہوتا ہے۔ انیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو میری ملاقات کا یقین نہیں وہ بڑے تکبر سے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کا نزول ہونا چاہیے یا ہم پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔

تاج کا فیصلہ آج

آئی سی سی مینزٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026:نیوزی لینڈ اور دفاعی چیمپئن بھارت احمد آبادمیں مدمقابل ہوں گے:نیوزی لینڈ کی طاقت فیلڈنگ اور نپی تلی بولنگ ہوگی میزبان ٹیم کو ہوم کرائوڈ اور مڈل آرڈربیٹنگ کافائدہ ہوگا

خلاصہ قرآن(پارہ 18)

سورۃ المؤمنون: سورہ مؤمنون کی ابتدائی گیارہ آیات تعلیماتِ اسلامی کی جامع ہیں‘ ان میں فلاح یافتہ اہلِ ایمان کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں۔ نمازوں میں خشوع وخضوع‘ ہر قسم کی بیہودہ باتوں سے لاتعلقی‘ زکوٰۃ کی ادائیگی‘ اپنی پاکدامنی کی حفاظت‘ امانت اور عہد کی پاسداری اور نمازوں کی پابندی۔ آخر میں فرمایا کہ ان صفات کے حامل اہلِ ایمان ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔