انوکھا سخی (قسط نمبر3)

تحریر : اشفاق احمد خاں


سعید رضی اللہ عنہ نے بہترین طریقے سے لشکر کی قیادت کی اور دشمنوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا اور ان لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف لوٹنے اور خلیفہ وقت کی اطاعت تسلیم کرنے پر آمادہ کیا۔انہی دنوںمعاویہ رضی اللہ عنہ شام کے گورنر مقرر ہوئے۔ سعید رضی اللہ عنہ بھی وہیںمعاویہؓ کے پاس ہی ٹھہر گئے۔

سید نا عمر رضی اللہ عنہ اپنے دورِ حکومت میں، ان لوگوں کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے، جنہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ آپؓ کو سعید ؓ کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ آج کل شام میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں۔سعید رضی اللہ عنہ کے مرتبہ و مقام سے سید نا عمر رضی اللہ عنہ اچھی طرح آگاہ تھے۔ ان کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ان جیسے عظیم صحابیؓ کو ان کے پاس ہونا چاہیے۔ یہ سوچ کر انہوں نے معاویہ ؓ کو پیغام بھیجا ’’ سعیدؓ کو میرے پاس بھیج دو‘‘۔معاویہ رضی اللہ عنہ نے سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خواہش کے احترام میں سعید ؓ کو بڑی عزت و احترام سے مدینہ بھیج دیا۔ عمرؓ نے آپؓ کا شایانِ شان استقبال کیا جس طرح ایک شہسوار، جنگجو اور عظیم صحابیؓ کا ہونا چاہیے تھا ۔

سعیدؓ بن عاص جہاں اور خوبیوں میں یکتا تھے، وہاں ایک خوبی ایسی بھی تھی جو ان کی ذات کی پہچان کا ایک ذریعہ بن گئی،   یہ خوبی تھی، آپؓ کی سخاوت۔ اللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کرتے تھے۔ دنیا داروں کا عام طور پر یہ طریقہ ہوتا ہے کہ جب کبھی وہ اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں تو اپنے مستقبل کیلئے بہت کچھ بچا کر رکھنے کے بعد بہت معمولی سی رقم خرچ کرتے ہیں۔ اس میں بھی انہیں سو طرح کے اندیشے ستاتے ہیں لیکن سعید رضی اللہ عنہ کو فقر و فاقہ کا کوئی ڈر نہیں ہوتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جو اللہ انہیں آج رزق دے رہا ہے، وہی کل بھی دے گا۔

سخاوت انسان کی اچھی خوبیوں میں سے ایک ہے۔ سخی اللہ کا دوست ہے، لوگ اس سے محبت رکھتے ہیں۔ سخاوت انسان کو جنت کے قریب اور جہنم سے دور کرتی ہے۔ اور سخاوت صرف یہی نہیں ہوتی کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کردیا۔کسی دوسرے کے کام کیلئے وقت صرف کرنا بھی سخاوت ہے۔سعید رضی اللہ عنہ سخاوت کی ان ساری خوبیوں سے مزین تھے۔

 ایک دفعہ ایک بدوی مدینہ منورہ آیا۔ وہ نادار اور مفلوک الحال تھا، اس کے ذمہ بہت قرض تھا۔ اسے قرض سے نجات کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو مدینہ کا رخ کر لیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ مدینہ کے چند مخیر اور سخی لوگوں سے مل کر اپنی مشکل کا حل نکالے۔ لوگوں نے اسے مشورہ دیا: ’’تم حسن بن علیؓ کے پاس جائو‘‘، ’’عبداللہ بن جعفر کے پاس جائو‘‘، سعید ؓبن عاص سے ملو‘‘ اور ’’عبداللہ بن عباسؓ سے رابطہ کرو‘‘۔

چار سخیوں کا نام معلوم ہونے کے بعد وہ بدوی ان کی تلاش میں تھا۔ اس نے ایک مسجد کا رخ کیا تو اسے ایک آدمی باہر نکلتا نظر آیا، اس کی شخصیت میں عجیب سا رعب تھا۔ وقار اور سنجیدگی اس کے انداز و اطوار سے ٹپکتی تھی۔ اس کے ہمراہ عقیدت مندوں کا ایک ہجوم بھی تھا۔ بدوی نے وہاں موجود لوگوں سے سوال کیا: ’’ یہ کون صاحب ہیں‘‘؟۔ایک شخص نے رک کر اس بدوی کو دیکھا ’’تم انہیں نہیں جانتے؟ ضرور کہیں باہر سے آئے ہو‘‘؟بدوی نے تسلیم کیا کہ وہ واقعی باہر سے آیا ہے۔ تب وہ صاحب بولے: ’’ یہ صحابی رسول ، سعیدؓ بن عاص ہیں‘‘۔

 وہ بدوی ان کے مقام و مرتبہ اور عزت و احترام کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا، بولا: ’’ یہی تو ہیں جن کے بارے میں لوگوں نے مجھے بتایا ہے، انہی سے ملنے کی خواہش لیے گھوم رہا تھا‘‘۔بدوی اتنا کہہ کر سعید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور ان سے اپنی آمد کا مقصد بیان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ مدینہ کے لوگوں نے جن سخی شخصیات کا تذکرہ کیا ہے، ان میں سے ایک آپؓ بھی ہیں۔سعید رضی اللہ عنہ نے بدوی کی ساری باتیں سنیں لیکن کچھ جواب نہ دیا۔ بدوی ان کے رویے پر بہت حیران ہوا۔ مایوسی اس کے دل میں اترنے لگی۔ اس نے سوچا: ’’ شاید مدینہ کے لوگوں کے دل میں ان کے بارے میں کچھ غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے، یہ تو سخی نہیں ہو سکتے۔ جس نے میری بات کا جواب تک نہیں دیا، وہ مجھے مال کہاں سے دے گا، اس نے مایوس ہو کر واپسی کا ارادہ کیا ہی تھا کہ سعید رضی اللہ عنہ کا گھر آ گیا۔ آپؓ نے بدوی کا ارادہ بھانپ کر اسے رکنے کا اشارہ کیا۔ پھر اپنے خزانچی سے کہا:اس بدوی سے کہوکہ لائو مال کس پر لاد کر لے جانا ہے۔ خزانچی نے کہا : ’’میاں تم مال کس پر لے جائو گے؟‘‘

بدوی نے اس پر حیران ہو کر کہا : اللہ سعیدؓ کو عافیت میں رکھے، میں نے سونا چاندی مانگا ہے، کھجوریں تو طلب نہیں کیں جو لادنے کیلئے جانور لے کر آئوں‘‘۔خزانچی نے کہا افسوس ہے تمہاری سوچ پر ، میاں تم لائو تو سہی، اتنا کہہ کر خزانچی نے چالیس ہزار دینار لا کر اس کے حوالے کر دیئے۔ بدوی کی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔(جاری ہے)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 23)

معبودِبرحق: اس پارے کی ابتدا میں بجائے اس کے کہ مشرکین کے باطل معبودوں کی مذمت کی جاتی‘ نہایت حکیمانہ انداز میں فرمایا: ’’میں اس معبود کی عبادت کیوں نہ کروں‘ جس نے مجھے پیدا کیا اور تم بھی اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘ کیا میں معبودبرحق کو چھوڑ کر ان (بتوں) کو معبود قرار دوں کہ اگر رحمن مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی شفاعت میرے کسی کام نہ آئے اور نہ ہی وہ مجھے نجات دے سکیں‘‘۔

خلاصہ قرآن(پارہ 23)

مردمومن کی تبلیغ:تئیسویں پارے کا آغاز سورہ یٰسٓ سے ہوتا ہے۔ بائیسویں پارے کے آخر میں انبیا علیہم السلام کی تائید کرنے والے مومن کا ذکر تھا۔ اس پارے میں اس مردِ مومن کی تبلیغ کا ذکر ہے کہ اس نے بستی کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں اللہ کی عبادت کیوں نہ کروں کہ اسی نے مجھے پیدا کیا اوراسی کی طرف مجھے پلٹ کر جانا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 22)

ازواج مطہرات کا مقام:بائیسویں پارے کے شروع میں ازواجِ مطہراتؓ سے کہا گیا کہ آپ لوگوں کا مقام امتیازی ہے۔ سو تقویٰ اختیار کرو‘ غیر محرم مردوں کے ساتھ نرم لہجے میں بات نہ کرو اور ضرورت کے مطابق بات کرو‘ اپنے گھروں پر رہو اور زمانۂ جاہلیت کی طرح زیب و زینت کی نمائش نہ کرو‘ نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرو اور اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو اور جو ایسا کریں گی تو اُن کو دُہرا اجر ملے گا اور اُن کیلئے آخرت میں عزت کی روزی کا اہتمام ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 22)

امہات المومنین کا مقام:قرآنِ پاک کے بائیسویں پارے کا آغاز سورۃ الاحزاب سے ہوتا ہے۔ سورۂ احزاب کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اُمہات المومنین سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ جو کوئی بھی اُمہات المومنینؓ میں سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کیلئے اپنے آپ کو وقف کرے گی اور نیک اعمال کرے گی‘ اللہ اسے دو گنا اجر عطا فرمائے گا اور اس کیلئے پاک رزق تیار کیا گیا ہے۔

21رمضان المبارک یوم شہادتِ سید ناحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

داماد نبی و شیر خدا کی زندگی کا ہر پہلو قابل رشک و قابل تقلید ہے

باب العلم ، حیدرکرارحضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

تفسیر قرآن میں مرتبہ کمال پر فائز تھے:حضرت علیؓ نے مسلمانوں کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، تینوں خلفاء کو مفید مشورے دیئے، سڑکوں کی تعمیر سے لے کرجنگ کے آداب تک میں مدد فرماتے رہے