طاقتور کون؟
دوسروں سے متاثر ہونے والے ایک شخص کا قصہ
کسی شہر میں ایک سنگ تراش رہا کرتا تھا۔ وہ پتھروں کو تراش کر گندم پیسنے والی چکیاں اور کھلونے بناتا تھا۔سنگ تراش میں ایک خامی تھی۔ وہ بہت جلدی دوسروں سے متاثر ہو جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ یہی سمجھتا تھا کہ دوسرے اس کی نسبت زیادہ خوشحال ہیں، ان کے پاس اختیارات زیادہ ہیں اور وہ ہر کام اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں۔ جب وہ دوسروں کو زیادہ بااختیار پاتا تھا تو خود کو کمتر سمجھنے لگتا تھا۔
ایک مرتبہ سنگ تراش کھلونے بنانے کیلئے پتھر چننے گیا۔اس دن موسم بہت گرم تھا۔ سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ سنگ تراش کو گرمی سے چکر آنے لگے اور سارا جسم پیسنے سے شرابور ہو گیا۔ اس نے پسینہ صاف کرتے ہوئے سوچا ’’ سورج کتنا طاقتور ہے، اگر میں انسان کے بجائے سورج ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا‘‘۔
سنگ تراش نے حسرت بھرے لہجے میں یہ بات کہی تو قریب سے گزرنے والی ایک پری نے یہ خواہش سن لی۔ وہ سنگ تراش کی بات سن کر مسکرائی اور سوچا کہ کیوں نا آج اس کی خواہش پوری کر دی جائے۔ پری نے اپنی طلسمی چھڑی گھمائی اور سنگ تراش کو اس کی خواہش کے مطابق انسان سے سورج بنا دیا۔
سنگ تراش اب آسمان پر کھڑا تھا۔ اس نے زمین پر نگاہ ڈالی تو منظر بہت خوب صورت تھا۔ کہیں ہری بھری فصلیں تھیں تو کہیں بڑے بڑے سمندر۔ یہ مناظر دور سے بہت بھلے معلوم ہو رہے تھے۔ ابھی وہ نظاروں سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ کالے بادل اس کے سامنے آ گئے ۔ کھیت جنگل، شہر سب کچھ اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
سنگ تراش نے سوچا ’’بادل تو سورج سے بھی زیادہ طاقتور ہیں، اگر میں بادل کا ٹکڑا ہوتا تو مزہ آتا‘‘۔ سنگ تراش اپنی بات پوری نہیں کر پایا تھا کہ وہ بادل میں تبدیل ہو گیا۔ وہ اپنا جسم ایک طرف کو جھکا ہوا محسوس کر رہا تھا۔وہ پورا دن آسمان پر بادل بنا رہا۔ اب ا سے زمین کی چیزیں پہلے سے بہتر اور صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ اچانک ہوا کا ایک جھونکا آیا اور بادلوں کو دور اڑا لے گیا۔
سنگ تراش نے سوچا’’ہوا تو بادل سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ کاش میں ہوا کا جھونکا ہوتا‘‘۔ پھر کیا تھا سنگ تراش ہوا کا تیز جھونکا بن گیا اور پوری قوت سے درختوں پودوں کو جھکانے لگا۔ دریائوں میں طغیانی آ گئی۔ سمندر میں اونچی اونچی لہریں اٹھنے لگیں۔ زمین پر بھی ہر طرف گرد اڑ رہی تھی۔ اپنی یہ کیفیت سنگ تراش کو بہت پسند آئی۔ وہ خود کو بہت طاقتور خیال کر رہا تھا۔ اسے لگتا تھا وہ ہر چیز کو اڑا لے جائے گا۔سنگ تراش خوشی سے قہقہے لگا رہا تھا کہ اچانک ایک بڑے پہاڑ نے اس کا راستہ روک لیا۔ سنگ تراش کو بہت غصہ آیا وہ پہاڑ کی چوٹی کو اڑا لے جانا چاہتا تھا لیکن اپنی پوری کوشش کے باوجود ناکام رہا۔ اسے ایک بار پھر اپنے کمتر ہونے کا احساس ستانے لگا۔
وہ مایوس ہو گیا اور بولا:’’یہ پہاڑ تو ہو اسے بھی زیادہ طاقتور ہے، کاش میں ایک پتھر ہوتا‘‘۔اگلے ہی لمحے اس کی یہ خواہش بھی پوری ہو گئی۔ اب سنگ تراش بڑی شان سے پہاڑ پر لیٹا ہوا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب دنیا میں مجھ سے زیادہ طاقتور کوئی چیز نہیں ہو گی۔
اس وقت دو آدمی اس طرف آ نکلے۔ وہ دونوں بھی سنگ تراش تھے۔ انہوں نے اس بڑے سے پتھر کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔ ایک نے کہا: ’’اس پتھر سے ایک بڑی چکی تراشی جا سکتی ہے۔ آئو اسے توڑتے ہیں‘‘۔ دوسرے شخص نے بھی اس سے اتفاق کیا۔ اب وہ ہتھوڑے سے پتھر پر ضربیں لگا رہے تھے۔ یہ سب سنگ تراش کیلئے غیر متوقع تھا۔ اس کا خیال غلط ثابت ہوا تھا کہ پہاڑ بن جانے سے وہ سب سے افضل ہو گیا ہے جیسے ہی سنگ تراش کو درد کا احساس ہوا وہ بلند آواز میں چیخ و پکار کرنے لگا: ’’رک جائو! میں پتھر نہیں انسان ہوں، مت مارو، مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ مجھے یقین آ گیا ہے کہ انسان سب سے طاقتور ہے۔ میں اپنے اصل روپ میں واپس آنا چاہتا ہوں‘‘۔ پری نے یہ بات سنی تو فوراً سنگ تراش کو اس کے اصل روپ میں بدل دیا اور اپنی دنیا میں واپس چلی گئی۔
سنگ تراش کو اپنی اہمیت کا احساس ہو گیا تھا۔ اس نے دوسروں سے متاثر ہونا چھوڑ دیا اور واپس گھر چلا گیا جہاں اسے بچوں کیلئے پتھر کے کھلونے بنانے تھے۔