جدید اُردو نعت کے خدو خال

تحریر : عارف عبدالمتین


اعلیٰ نعت کی تخلیق کو بالکل جدا گانہ انداز میں تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے جدید نعت آنحضورﷺ کی سیرت کے پیکر ِزریں سے اکتسابِ نور کرتی ہے اور آپ ؐکے کردار کے گونا گوں اوصاف ِحمیدہ بیان کرتی ہے‘آشوبِ ذات اور آشوبِ کائنات پر قابو پانے اور ان کا مؤثر سد باب کرنے کے طریقے نہ صرف خود سوچتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی سمجھاتی ہے

جدید اُردو نعت کے خدو خال کے تعین کا فریضہ اس وقت تک بطریق احسن سرانجام نہیں دیا جا سکتا جب تک ہم قدیم نعت کے نین نقش سے اجمالاً ہی سہی، آ گہی حاصل نہیں کر لیتے اور نعت کی روایت سے مختصراً روشناس نہیں ہو جاتے۔ جیسا کہ تاریخ کے حوالے سے ہمیں پتا چلتا ہے، عربی میں نعت کا آغاز حضرت ابو طالب سے ہوا، پھر مدینے کی بچیوں نے آنحضورﷺ کی شان میں جو استقبالیہ اشعار پڑھے اور حضرت حمزہ ؓ، حضرت خدیجہ الکبریٰؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ سے جو نعتیہ اشعار منسوب ہیں، ان سب کو نعت کی شروعات قرار دیا جا سکتا ہے، مگر ظاہر ہے کہ انہیں بطورِ فن تخلیق نہیں کیا گیا تھابلکہ وہ آنحضورﷺ سے محبت، عقیدت اور ارادت کے بے محا بااور بے ساختہ اظہار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ البتہ حسان بن ثابت ؓ، کعب بن زبیر ؓ اور بوصیری ؒکے ہاں نعت گوئی ایک باقاعدہ فن کا اعزاز حاصل کر لیتی ہے اور ہم حسان بن ثابت ؓ کی زبان سے ایسا ایسا نعتیہ شعر بھی سننے کا شرف پاتے ہیں جس کے بارے میں فن شناسوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ آج تک کسی زبان میں نعت کا کوئی شعر اس جیسا رتبہ حاصل نہیں کر سکا۔

پھر کعب بن زبیرؓ ایسا کیف آور قصیدہ تخلیق کرنے پر قادر ہو جاتے ہیں جو بانت سُعاد کے نام سے شہرتِ آفاق کا حقدار ہوا اور جسے سماعت فرما کر آنحضورﷺ نے فرط انبساط کے جلو میں انہیں اپنی ردائے منزہ سے نوازا۔ اسی طرح بوصیری ؒ ایک ایسا دلآویز نعتیہ قصیدہ سپردِ قلم کرتے ہیں جو اس روایت کے حوالے سے دنیائے ادب میں ’’قصیدہ بردہ‘‘ کے نام سے موسوم ہوا کہ بوصیریؒ نے عالم خواب میں آنحضورﷺ کی بار گاہ اقدس میں پیش کیا اور آپﷺ نے ان پر اپنی ردائے مقدس ڈال کر اپنی اس خوشنودی و قبولیت کا اظہار فرمایا جس کے فیضان سے بوصیریؒ نے اپنی جانکاہ علالت سے شفا پائی۔

اُردو نعت اپنے آغاز اور فروغ و ارتقا کیلئے  عربی بالخصوص فارسی نعت کی مرہونِ منت ہے اور اس سلسلے میں مذکورہ حضرات کے اثرات بڑے گمبھیر اور دوررس ہیں اور شیخ سعدی ؒ کا یہ نعتیہ شعر:

حسنِ یوسف، دم عیسیٰ، یدِ بیضا داری

آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری

اہلِ ذوق کی کتنی بڑی تعداد سے بے محابا ستائش کا حق دار بن چکا ہے، اس کا اندازہ کرنا ناممکن ہے، اور ان کے یہ لطیف نعتیہ پیکر:

بلغ العلیٰ بکمالہ

کشف الدجٰی بجمالہ

حسنت جمیع خصالہ

صلوا علیہ وآلہ

ہر چند کہ عربی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں، تاہم فارسی اور اردو کی حدودِ اقتدار میں اپنی مقبولیت کی لامحدودیت میں اپنا مثیل نہیں رکھتے۔ اسی طرح حضرت امیر خسرو کے یہ نعتیہ اشعار:

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم

بہر سو رقصِ بسمل بود شب جائے کہ من بودم

خدا خود میرِ مجلس بود اندر لامکاں خسرو!

محمدﷺ شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم

تو ہمیں اپنی کیف آوری کے تسلسل کا ادراک آج بھی ان پاکیزہ محفلوں سے بخوبی کرواتے ہیں جو نعت، درود اور سلام کیلئے خصوصی طور منعقد کی جاتی ہیں۔ پھر حضرت قدسی کی وہ آفاق گیر شہرت رکھنے والی نعت، جس کا دل پذیر مطلع یوں ہے:

مرحبا سیدِ مکی مدنی العربی

دل و جاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی

تو جتنے صاحبانِ فکر و نظر سے خراج تحسین وصول کر چکے ہیں ان کا شمار واقعتاً محال ہے اور یہ سعادت تو غالباً صرف اسی نعت کے حصے میں آئی ہے کہ اردو اور فارسی کے سیکڑوں شاعروں نے اس کے اشعار کی تضمین کی اور یوں اس کی مقبولیت کی بیکرانی پر عملاً مہر تصدیق ثبت کی۔

یوں تو اردو کے بیشتر کلاسیکی شعرا نے نعت گوئی کی سعادت حاصل کی مگر اس ضمن میں جنہیں قبول و نفوذ نصیب ہوا ان میں محسن کا کوروی اور امیر مینائی کے اسمائے گرامی نسبتاً زیادہ اہم ہیں۔ محسن کا کوروی کے ’’قصیدۂ الامیہ‘‘ کو تو ہم اس اعتبار سے اردو کے بہترین قصائد میں سے ایک قرار دے سکتے ہیں کہ اس نے اپنی جدت طرازی سے اردو نعت کو ایک ایسے نئے موڑ سے آشنا کر دیا جو زبان اور ماحول کے اعتبار سے علاقائی حوالہ رکھتا ہے اور اردو نعت کو عقیدت کے جلو میں جذبے کی سطح پر استوار کرکے اسے محبت کے والہانہ پن کا مظہر بناتا ہے۔واضح رہے کہ اس جمالیاتی اسلوب کے اولیں سرچشمے کا سراغ کعب زبیرؓ کے اسی نعتیہ قصیدے میں ملتا ہے جس کا تذکرہ آغاز میں کیا گیا ہے۔

اعلیٰ نعت کی تخلیق کو بالکل جدا انداز میں تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ یہ محبت اور احترام کے دل آویز سنگم پر ظہور میں  آتی ہے، اور ظاہر ہے کہ اس سنگم کی تشکیل غیر معمولی دل و دماغ کے غیر معمولی اشتراکِ عمل کا ایسا تقاضا کرتی ہے جس کی تکمیل جوئے شیر لانے سے کسی طور کم نہیں۔محسن کاکوروی کے بعد مولانا حالی، علامہ اقبالؒ اور مولانا ظفر علی خان کا نعتیہ کلام اردو نعت میں جدیدیت کا دروا کرتا ہے۔  اگر قدیم نعتیہ شاعری کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس نے نعت کے لغوی معنی و مفہوم کو جو مدح، ثنا، تعریف اور توصیف پر اپنی تمام تر فکری و جذباتی جامعیت کے ساتھ محیط تھا، بحیثیت مجموعی یوں قصیدہ آشنا کر دیا کہ نعت آنحضورﷺ کے بے مثال سراپے، آپﷺ کے حلیہ اقدس اور آپؐ کے تحیر خیز معجزات کے عقیدت آ گیں بیان سے وابستہ ہو گئی اور آنحضورﷺ کی عظیم ترین شخصیت کے وہ پہلو اس میں اپنا بھرپور اظہار نہ پا سکے جو نعت کے لوازم کی حیثیت رکھتے تھے اور جن کے حوالے سے آنحضورﷺ کی ہمہ گیر ہستی ایک طرف عرفانِ خداوندی کا موجب بنتی ہے دوسری طرف معرفتِ کائنات کا سبب ٹھہرتی ہے اور تیسری طرف شعورِ ذات کا وسیلہ قرار پاتی ہے۔ گویا ہماری کلاسیکی نعت نے آنحضورﷺ کی سیرت کے مقابلے میں صورت پر اپنی توجہ نسبتاً زیادہ مرکوز رکھی۔ اس صورتِ حال کا ایک نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ نعت ارادت اور احترام کا دل آویز مظہر بن کر تو اُبھری اور اس میں شبہ نہیں کہ اس حوالے سے اس نے ہمیںایسے نادر قطعے دیے۔

یا صاحب الجمال و یا سید البشر

من و جھک المنیر لقد نور القمر

لایمکن اثناء کما کان حقہ

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

(شاہ عبدالعزیز دہلویؒ)

جدید نعت نے روایتی نعت کو اس کی مذکورہ تحدید سے آزاد کرکے ایک مجتہدانہ اقدام کیا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ جدید نعت جہاں آنحضورﷺ سے جذباتی اور احساساتی تحریک کا فیضان حاصل کرکے اپنی فنی سطح کو ارفع تر بناتی ہے اور اس کی تخلیقی گرفت کو مضبوط تر بناتی ہے وہاں آنحضورﷺ کی سیرت کے پیکرِ زریں سے اکتسابِ نور کرتی ہے اور آپؐ کے کردار کے گونا گوں اوصافِ حمیدہ سے اور عمرانی حوالے سے آپؐ کے افعال و اعمال کی نوعیت و وقعت کا ادراک کرکے آشوبِ ذات اور آشوبِ کائنات پر قابو پانے اور ان کا مؤثر سد باب کرنے کے طریقے نہ صرف خود سوچتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی سمجھاتی ہے اور یوں وہ انفرادی اور اجتماعی ہر دو سطح پر فروغ و ارتقا کی راہیں کھول کر شخصی، قومی، ملی اور بالآخر انسانی نشوونما و ارتقا کے امکانات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کرنے میں گراں قدر معاونت کرتی ہے۔

مولانا حالی، علامہ اقبالؒ اور مولانا ظفر علی خان کے علاوہ جن فنکاروں نے اپنے اپنے منفرد اسلوب میں اردو نعت کے جدید رنگ روپ کو نکھارا سنوارا ان میں حسرت موہانی، عبدالمجید سالک، صوفی غلام مصطفی تبسم، احسان دانش، اصغر گونڈوی، جگر مراد آبادی، حفیظ جالندھری، مولانا احمد رضا خان بریلویؒ، روش صدیقی، بیدم وارثی، امجد حیدر آبادی، اثر صہبائی، اختر شیرانی، احمد ندیم قاسمی، عبدالعزیز خالد، ڈاکٹر سید صفدر حسین، مولاناماہر القادری، مولانا نعیم صدیقی، حافظ مظہر الدین، عبدالکریم ثمر، آذر عسکری،محشر رسول نگری، منظور حسین شور، اقبال عظیم، یوسف ظفر، قیوم نظر، ظہیر کاشمیری، ادا جعفری، شیر افضل جعفری، سجاد باقر رضوی، فارغ بخاری، خاطر غزنوی، محسن احسان، رضا ہمدانی، منیر نیازی، جمیل ملک، ظہور نظر، جعفر طاہر، حمایت علی شاعر، احمد شمیم، احمد ظفر، افضل پرواز، طفیل ہوشیار پوری، انجم رومانی، شہرت بخاری، سید فیض، رضی ترمذی، سراج الدین ظفر، تبسم رضوانی، توصیف تبسم، سرمد مظاہری، ساغر صدیقی، راسخ عرفانی، اختر انصاری اکبر آبادی، مجیب خیر آبادی، فضلِ حق، طفیل دارا، محمد اعظم چشتی، خالد بزمی، راز کاشمیری، راجا رشید محمود، شبنم رومانی، امین طارق قاسمی، انوار ظہوری، علیم ناصری، حافظ امرتسری، عابد نظامی، رفعت سلطان، جیلانی کامران، مرزا محمد منور، غلام رسول ازہر، ڈاکٹر فرمان فتح پوری اور طاہر شادانی وغیرہ کے نام اہم ہیں۔آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ بیشتر شعرا کی ساری توجہ آنحضورﷺ کی سیرت پر مرکوز ہے اور وہ ان کے کردار کی تحسین کے حوالے سے خود شناسی، کائنات شناسی اور خدا شناسی کے مراحل طے کرنے میں کوشاں ہیں۔

 قیام پاکستان کے بعد کی نسل نے نعت نگاری کی طرف بالخصوص توجہ مبذول کی ہے اور ان کی جمیل کوششوں سے نعت روحِ عصر کی ایک انتہائی اہم نمائندہ بن کر ہمارے ادب میں غیر معمولی قدرو منزلت کی حامل ہو گئی ہے۔ جن شعرا کی نعتیہ عطائیں نسبتاً زیادہ وقیع ہیں ان میں حفیظ تائب، عبدالشکور بیدل، مظفر وارثی، حافظ لدھیانوی، بشیر منظر، اقبال صلاح الدین، صلاح الدین محمود، عرش صدیقی، صلاح الدین ندیم، کامل القادری، سجاد باقر رضوی، شہزاد احمد، امجد اسلام امجد، کشور ناہید، عطا الحق قاسمی، اختر امان، خالد احمد، نجیب احمد، پروین شاکر، ناہید قاسمی، سیف زلفی، اقبال ساجد، اظہر جاوید، طاہر تونسوی، الطاف قریشی، عبدالستار سید، اظہر نفیس، صہبا اختر، سلطان رشک،، حفیظ صدیقی، حفیظ احسن، زاہدہ صدیقی، رشید کامل، واصف علی واصف، رشید قیصرانی، ظہیر صدیقی، نعیم اظہر ،یوسف مثالی، خالد شفیق، احمد حسن حامد، تحسین فراقی، یونس احقر، جان کاشمیری، محمد نواز اور سرفراز امر کے نام سرفہرست ہیں۔

جدید نعت کے اولین ظہور کے ایک نمونے کے طور پر مولانا حالی کے چند نعتیہ اشعار ملاحظہ فرمایئے اور قومی آشوب کے دل گداز اظہار سے نعت کے مفہوم کی توسیع کا اندازہ کیجئے، مولانا حالی فرماتے ہیں:

اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے

اُمت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے

پردیس میں وہ آج غرب الغربا ہے

جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصر و کسریٰ

خود آج وہ مہمان سرائے فقرا ہے

وہ دین ہوئی بزمِ جہاں جس سے چراغاں

اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے

جس دین نے غیروں کے تھے دل آکے ملائے

اس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے

 جدید نعت کے ایک بڑے علم بردار مولانا ظفر علی خان کی معروف نعت کے ضیا پاش، توحید آ گیں اور حریت پسندانہ لب و لہجہ کا ایک زمانہ مداح ہے۔ وہ کہتے ہیں:

وہ شمع اُجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں

اک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں

رحمت کی گھٹائیں پھیل گئیں افلاک کے گنبد پر

وحدت کی تجلی کو ند گئی آفاق کے سینہ زاروں میں

احمد ندیم قاسمی کی ایک نعت کے چند اشعار ملاحظہ فرمائے۔ وہ کہتے ہیں:

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا

اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا

پورے قد سے میں کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم

مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا 

عبدالعزیز خالد کی نعت گوئی میںکیف و نور کا اکتساب کیجئے۔

ہمہ آیۂ نور و خلقِ محمدؐ

تو محبوب ِ یزداں و نورِ ہدیٰ ہے

تو فقر و قناعت کا روشن منارہ

محمدؐ ہے، احمدؐ ہے تو مصطفیﷺ ہے

 علامہ اقبال جدید نعتیہ لَے میں ارتقائے ذات اور فروغِ کائنات کے ساتھ فکر و جذبہ کی ہم آہنگی منصۂ شہود پر لے کر آئے ۔ فرماتے ہیں:

لوح بھی تُو، قلم بھی تُو، تیرا وجود الکتاب

گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ

ذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب

شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود

فقرِ جنید و بایزید تیرا جمالِ بے نقاب

شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام

میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب

عارف عبد المتین کا شمار اُردو اور پنجابی کے اہم 

جدید شعرا میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک 

نقاد اور محقق کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

باہمی معاملات کے اسلامی اُصول

’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ‘‘(القرآن) قرآن وسنت میں متنازع معاہدوں سے سختی سے منع کیا گیا ہے خبردار کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرو! خبردار کسی آدمی کی ملکیت کی کوئی چیز اس کی دلی رضامندی کے بغیر لینا حلال اور جائز نہیں ہے‘‘( شعب الایمان ) ’’اگر دونوں نے سچ بولا اور چیز کی خرابی کو پہلے بیان کیا پھر وہ اپنے لین دین میں برکت پائیں گے اور اگر انہوں نے جھوٹ بولا اور کچھ چھپایا تو وہ لین دین کی برکت کو کھو دیں گے‘‘(صحیح بخاری)

مسجد میں حاضری کا سلیقہ

سنت یہی ہے کہ گھر سے جب چلنے لگے تو پہلے وضو کرلیا جائے پیدل مسجد آنا باعثِ کفارۂ گناہ ہے،وقت ہو تو مسجد آکر پہلے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد پڑھیں

شکرِ نعمت، رحمتِ الٰہی کا سبب

’’ تم مجھے یاد کیا کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو‘‘(البقرہ)

مسائل اور ان کا حل

عصرسے پہلے کی 4 سنتیں ادا کرنے کا طریقہ سوال :نماز عصر سے پہلے کی 4 سنتوں کو کیسے پڑھا جاتا ہے ؟یعنی دوسری رکعت میں جب بیٹھا جاتا ہے تو کیا التحیات کے بعد درود شریف بھی پڑھا جائے گا؟ (اکبر علی، بہاولپور)

مؤثر سفارتکاری اور پاکستان کا عالمی وقار

عالمی سیاست کے موجودہ تناظر میں پاکستان نے ایک ایسا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے جس کی نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توقع کم ہی کی جا رہی تھی۔

قومی سیاست پر خلیجی جنگ کے اثرات معاشی اور سیاسی چیلنجز

خلیج فارس کے علاقے میں قریب ایک ماہ سے جنگ جاری ہے اور ملکی سیاست پر بھی اس صورتحال کا غلبہ ہے اورہر سطح پر مذکورہ جنگ اور اس کے اثرات زیر بحث ہیں۔