محسن احسان منفرد غزل گوآج 15ویں برسی

تحریر : پروفیسر صابر علی


انہوں نے اپنی ساری زندگی علم و ادب کی ترویج و اشاعت میں بسر کی بقول احمد ندیم قاسمی ان کے فن میں ذات و حیات کے درمیان ایک مربوط رشتہ ہے اور اسی لئے ایسی شاعری کے آفاق حدِ نظر سے آگے حدِ خیال تک پھیل جاتے ہیں محسن احسان کی غزل کا حسن ہے کہ وہ دل و دماغ پر گزرتی ہوئی واردات کی نفی بھی نہیں کرتے کہ وہ ایک جیتی جاگتی انسانی اکائی ہے اور فکر و شعور کی رسائیوں پر بھی بندنہیں باندھتے

پاکستان کے بہت سے خوش گو غزل نگاروں کے ہجوم میں اپنی انفرادیت کو نمایاں رکھنا اور اپنے اسلوب کی پہچان کرا لینا محسن احسان کا بہت بڑا کمال ہے۔ محسن احسان انگریزی ادب کے استاد تھے، کلاسیکل فارسی اور اردو شعراء کا شیدائی اور پشتو اور ہند کو بولتے تھے۔ ان کی اُردو غزل میں ان سب خصوصیات نے باہم آمیخت ہو کر ایک عجیب دلآویز فضا پیدا کردی ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جدید اُردو شاعری نے انگریزی ادب سے بھرپور استفادہ کیا ہے اور جدید غزل کے معنی خیز اور شوخ تیوروں میں اس استفادے کی جھلکیاں کم یاب نہیں ہیں۔ پھر اُردو شاعری پر وہ بہت کڑاوقت آیا تھا، جب اندر سے احساسِ کمتری کے مارے ہوئے بعض ارباب تنقید نے احساس برتری کا نقارہ پیٹتے ہوئے غزل کو گردن زدنی قرار دیا اور اردو شاعری کی ساری روایت کی تنسیخ کرنے پر تل گئے۔ بقول احمد ندیم قاسمی اس خطرناک مہم کا زور ان اہل قلم کے دم سے ٹوٹا جو انگریزی زبان و ادب پر بھی حاوی تھے، مگر ساتھ ہی مشرقی السنہ و علوم کی گہرائیوں اور سائیوں کے بھی معترف تھے۔ فراق، فیض، فراز اور محسن احسان سبھی انگریزی ادب سے فیض یاب ہونے کے باوجود عربی، فارسی اور اُردو شاعری کی انفرادی خصوصیات اور اس میں بے پناہ امکانات کی گنجائشیں دیکھ چکے تھے، چنانچہ یہ انہی کے سے وسیع المطالعہ اہل فن کے اجتہاد کی برکت ہے کہ اردو غزل بھی پوری آن بان سے زندہ ہے، اردو نظم بھی اپنے تجرباتی دور سے آگے نکل آئی اور اب اردو شاعری کی صورت میں جو کچھ ہمارے سامنے ہے وہ کسی محدود اور محبوس روایت کے بس کی بات ہی نہیں۔ ہماری شاعری دراصل مشرق و مغرب کے تہذیبی سفر کا سنگم ہے اور اس عالم گیر ملاپ کو محسن احسان کے سے فنکاروں ہی نے ممکن بنایا ۔ محسن احسان کے فن سے مترشح ہے کہ وہ کرۂ ارض کی شاعری سے مانوس ہونے کے باوجود یہ کبھی نہیں بھولتے کہ وہ کرۂ ارض کے ایک خاص حصے کے باسی ہیں اور اس حصے کی تہذیب و ثقافت اور سوچوں اور امنگوں کے بھی اس پر بہت سے حقوق ہیں۔ چنانچہ جب وہ شعر کی زبان میں بولتے ہیں تو ہمیں یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ آواز زمین کے کس حصے سے آ رہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس شاعر کا ایک منفردتہذیبی پس منظر ہے جس پر دنیا بھر کے جمال فن کی چھوٹ بھی پڑ رہی ہے‘‘۔

محسن احسان کا مجموعہ کلام’’ ناتمام‘‘ 1981 میں پشاور سے شائع ہوا۔جس کی وجہ تسمیہ حضرت علامہ اقبالؒ کا یہ شعر تھا۔

عشق تیری انتہا،عشق میری انتہا

تو بھی ابھی ناتمام،میں بھی ابھی نا تمام

’نا تمام ‘‘کا دیباچہ احمد ندیم قاسمی نے لکھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ محسن احسان کی غزل میں روحِ عصر اور کربِ ذات کی کیفیتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ہر باشعور اور دیانتدار شاعر کا رویہ عموماً یہی ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں جھانکتے ہیں تو حیات اپنے حق کیلئے پکار اٹھتی ہے اور وہ حیات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو اپنی ذات کی نفی کرکے ایسا نہیں کرتے۔ یوں ان کے فن میں ذات و حیات کے درمیان ایک مربوط رشتہ قائم ہو جاتا ہے اور اسی لئے ایسی شاعری کے آفاق حدِ نظر سے آگے حدِ خیال تک پھیل جاتے ہیں۔

تمام عالم امکاں کو اپنے وجود میں سمیٹ لینے ہی کا نتیجہ ہے کہ محسن احسان کسی اجتماعی دکھ سے سمجھوتا نہیں کر سکتے۔ چنانچہ وہ اپنے وطن کی سیاسی صورتحال کے نہایت کڑے نقاد ہیں، مگر یاد رہے کہ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں، غزل کی زبان میں کہتے ہیں اور غزل کی زبان ایسی کٹیلی ہے کہ بقول فراق۔

اک تیز چھری ہے جو اترتی چلی جائے

محسن احسان کا ایک شعر ہے:

امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر

سمندروں کے سفر پر کیا روانہ ہمیں

کیا اس شعر میں پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ سمٹ نہیں آئی ؟ وہ تاریخ جس میں عوام قربانیاں دینے پر مامور ہے اور ارباب اقتدار احکام صادر کرنے پر۔ محسن احسان کے ہاں اس طرح کے بے شمار اشعار ہیں جنہوں نے کربِ ذات اور کربِ حیات کی نمائندگی اس بھرپور انداز میں کی ہے، جس نے اس مقبول عام شعر میں اظہار پایا ہے۔

ملکی سیاست اور اس کی مضر رساں بوالعجبیوں پر محسن احسان کو شدید دکھ ہوتا ہے اور اس حوالے سے وہ اپنی غزلوں میں ’’ شہر کم نظراں‘‘، ’’ کربلائے عصر‘‘،’’ بے مہر ساعتیں‘‘، ’’آواز کا سناٹا‘‘، ’’وجود کا دوزخ‘‘ اور ’’ صدیوں کی تشنگی‘‘ کے  سے الفاظ بہ طریق احسن استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی ذات اور اس کے مطالبات سے غافل نہیں رہے۔ وہ ذات اور حیات کے درمیان وہ آہنگ پیدا کر لیتے تھے، جس کے لئے بعض شعراء عمر بھر ترستے رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ اردو کی کلاسیکل غزل کی خوبصورت روایات میں رچا ہوا شعر کہتے تھے اس نوعیت کے اشعار کا ایک ایک لفظ عصری حقائق کی چمک سے جگمگا اٹھتا ہے۔ یہی محسن احسان کی غزل کا حسن ہے کہ وہ دل و دماغ پر گزرتی ہوئی واردات کی نفی بھی نہیں کرتے کہ وہ ایک جیتی جاگتی انسانی اکائی ہے، اور فکر و شعور کی رسائیوں پر بھی بند نہیں باندھتے کہ ان کی ذات کی اکائی جس کل کا جز ہے، اس کل سے کٹ کر وہ بے معنی اور بے مفہوم ہونے کو تیار نہیں۔ یہی وہ تناسب اور توازن ہے جو محسن احسان کے فن اور شخصیت کا مرکز و محور ہے۔ وہ انتہا پسندی کا مظاہرہ صرف وہاں کرتے ہیں جہاں انتہا پسندی عبادت اور ثواب کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔نفی کے ماحول میں اثبات کی یہ اُمنگ ہی محسن احسان کی پہچان ہے ۔

محسن احسان یقینی طور پہ اردو کے ممتاز ترین شاعر ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی علم و ادب کی ترویج و اشاعت میں بسر کی۔ان کے کتنے ہی شعرآج بھی زبان زد عام ہیں ۔ان کی نظموں اور غزلوں کے دیگر مجموعہ ہائے کلام میں، ناگزیر، ناشنیدہ، نارسیدہ اور سخن سخن مہتاب شامل ہیں، نعتیہ شاعری کا مجموعہ’’ اجمل و اکمل‘‘، قومی نظموں کا مجموعہ ’’مٹی کی مہکار‘‘ اور بچوں کی شاعری کا مجموعہ ’’پھول پھول چہرے‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خوشحال خان خٹک اور رحمن بابا کی شاعری کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 1999  میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔15سال قبل وہ 23ستمبر 2010ء کو آج ہی کے دن برطانیہ میں وفات پاگئے تھے۔ وہ کینسر کے مریض تھے اور لندن کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ ان کی تدفین پشاور میں ہوئی تھی۔

 چندمنتخب شعر

تھوڑی سی روشنی کے وہ آثار کیا ہوئے

رکھے تھے جو دیئے سرِ دیوار کیا ہوئے

یہ کیا ہوا کہ رونق ہر شہر لٹ گئی

بازار پوچھتے ہیں خریدار کیا ہوئے

…………

بستیوں کی بستیاں سیلابِ غم کی زد میں ہیں

حیلہ جویانِ خرد بے دست و پا کیسے ہوئے

…………

اُداس آنکھوں سے کب تک اجاڑ گھر دیکھوں

کبھی تو اپنی زمیں کو بھی عرش پر دیکھوں

درِ قفس پہ رہائی کے بعد بیٹھا ہوں

فلک کو دیکھوں کہ اپنے بریدہ پر دیکھوں

دامن میں لے کے شورشِ محشر گیا نہ ہو

پھر سوئے شہر قاتلِ خود سر گیا نہ ہو

…………

یاس کا صحرا لگیں، اُمید کا دریا لگیں

خود کو جب دیکھیں دھواں بجھتے چراغوں کا لگیں

یہ غنیمت ہے کہ ہم نے خود کو تجھ میں پا لیا

ورنہ اس بے مہر دنیا میں سبھی تنہا لگیں

…………

کہاں کے دوست کہیں سایہ عدو بھی نہ تھا

وہ دن بھی آئے کہ جب میرے ساتھ تو بھی نہ تھا

…………

سانس لیتے ہوئے سینے میں جلن ہوتی ہے

میں ترے شہر کی شاداب فضا کیا کرتا

محتسب جرم مرا دیکھ کے خاموش رہا

خود خطا کار تھا، احکامِ سزا کیا کرتا

………………

محسن احسان کا منتخب کلام

سفر میں یاد نہ آئے کوئی ٹھکانہ ہمیں 

غمِ زمانہ لگا ایسا تازیانہ ہمیں 

امیرِ شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر 

سمندروں کے سفر پر کیا روانہ ہمیں 

جہاں سے ساتھ زمانے کو لے کے چلنا تھا 

وہیں پہ چھوڑ گئی گردشِ زمانہ ہمیں 

ہر ایک سمت کھڑی ہیں بلند دیواریں 

تمام شہر نظر آئے قید خانہ ہمیں 

ملوک ہم نفساں دیکھ کر یہ دھیان آیا 

کہ کاش پھر ملے دُشمن وہی پرانا ہمیں 

ہوائے صبحِ دل آزار اتنی تیز نہ چل 

چراغِ شامِ غریباں ہیں ہم بجھا نہ ہمیں 

نگاہ پڑتی ہے پھر کیوں پرائی شمعوں پر 

اگر عزیز ہے محسن چراغ خانہ ہمیں

…………

میرے وجود کے دوزخ کو سرد کر دے گا

اگر وہ ابر کرم ہے تو کھل کے برسے گا

قدح کی خیر منائو کہ اب کے بارشِ سنگ

اگر ہوئی تو طرب زارِ شب بھی ڈوبے گا

یہ شہر کم نظراں ہے ادھر نہ کر آنکھیں

یہاں اشارۂ مژگاں کوئی نہ سمجھے گا

رواں تو ہوں سوئے افلاکِ آرزو، لیکن

یہ زورِ موجِ ہوا بازئوں کو توڑے گا

میں اس بدن میں اتر جائوں گا نشے کی طرح

وہ ایک بار اگر مسکرا کے دیکھے گا

نہ آنکھ میں کوئی جنبش نہ پائوں پر کوئی گرد

جہاں سے اتنا بھی محتاط کون گزرے گا

جو کم نہ ہوں گی دلوں کی کدورتیں محسن

تو آسماں سے غضب کا فرشتہ اترے گا

…………

چراغ ہوتے کہ ہم برگِ خوشنما ہوتے

نشانۂ ستم موجۂ ہوا ہوتے

یہ اور بات کہ ہم اتنے آشنا تو نہ تھے

عجیب دُکھ ہے مگر آپ سے جدا ہوتے

پرائے درد میں ہم عمر بھر سلگتے رہے

خود اپنی آگ میں جلتے تو کیمیا ہوتے

مزا تو جب تھا مرے ساتھ دشت غربت کی

کڑکتی دھوپ میں تم بھی برہنہ پا ہوتے

ہم اپنے پائوں کی زنجیر ہو گئے ورنہ

حدود محبس امکاں سے ماورا ہوتے

اس اک خیال سے جلنے لگا بدن سارا

کہ کاش ہم بھی رمِ  شعلۂ حنا ہوتے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عالمتاب تشنہ حسبِ حال کے شعور سے ہم آہنگ

ان کی شاعری کا خمیرکشمکشِ حیات اور کرب سے اٹھا:تشنہ ؔکے یہاں بکھرنے کا نہیں بلکہ سمٹ کر ایک اکائی بن جانے کا احساس ہوتا ہے‘ وہ ایک طرف روایت سے وابستہ نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اسے جدید شعور میں ڈھالنے کی قوت بھی رکھتے ہیں:احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں کہ عالمتاب تشنہ نے ہجوم ِجمال میں شاعری کا آغاز کیا تھا‘ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ آغاز بہت مبارک ثابت ہوا کیونکہ ان کی شاعری پر اسی جمال کا پر تو ہے

مجید امجد کی شاعری، پنجاب کے ثقافتی تناظرمیں

مجیدامجد نے پنجابی زبان کے الفاظ کو اُردو نظم کے تخلیقی پیرائے میں اس طرح برتا ہے کہ جو پنجابی زبان سے نا واقف ہیں وہ پنجابی زبان کے مذکورہ الفاظ کو اُردو ہی کے کھاتے میں شمار کریں گے۔

خواتین کرکٹ کانیا عالمی ریکارڈ قائم

آئی سی سی ویمنز ٹی 20ورلڈ کپ 2026 ء:ٹکٹوں کی فروخت نے ایونٹ کو اب تک کا سب سے بڑا خواتین کا ورلڈ کپ ثابت کر دیا:ٹورنامنٹ کا باضابطہ آغاز 12جون کوبرمنگھم میں انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے مقابلے سے ہوگا: پاکستان اپنے سفر کا آغاز 14 جون کو بھارت کے خلاف ایجبسٹن، برمنگھم میں ہونے والے مقابلے سے کرے گا

شاہینوں کا ہوم گرائونڈ پرنیا امتحان

آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان:کینگروز23مئی کو اسلام آباد پہنچیں گے، 3ایک روز میچ کھیلے جائیں گے:٭…پاکستان اور آسٹریلیا اب تک 111 ایک روزہ میچ کھیل چکے ہیں۔٭… 71 میچوں میں فتح کینگروز کا مقدر بنی، شاہینوں نے 36 جیتے۔ ٭…4 میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔

چھوٹی سی کوشش

سومی ہرنی اپنی پسندیدہ کتاب تھامے لالی بکری کے ساتھ جیسے ہی گھنے جنگل میں داخل ہوئی تو اسے دور سے مومو چڑا مٹی کھودتا ہوا دکھائی دیا۔

شکرادا کرنا!

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنا انسان کا فرض ہی نہیں انسان کی عبادت میں بھی شامل ہے۔