مسائل اور ان کا حل

تحریر : مفتی محمد زبیر


زکوٰۃ کی رقم سے مکان بنواکر دینا سوال :میں کسی شخص کے ذریعے مکان تعمیر کراکر کسی مستحق شخص کو زکوٰۃ کی مد میں دینا چاہتا ہوں،کیا ایسا کرنے سے میری زکوٰۃ ادا ہو جائے گی ؟(مرزا ندیم،ڈسکہ)

جواب :جی ہاں! جتنی رقم اس مکان کی خریداری یا  تعمیر پر خرچ ہوگی وہ رقم بطور زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ (وفی المبسوط للسرخسی، ج1، ص270)، (امدادالسائلین ،ص 423)

اپنی زندگی میں اپنا مکان تقسیم کرنا 

سوال :میں اپناملکیتی مکان بوجوہ اپنی زندگی ہی میں وراثتاًتقسیم کردیناچاہتاہوں، افرادخانہ کی تفصیل حسب ذیل ہے:ایک بیٹا اور تین بیٹیاں، ایک مرحوم بیٹے کی بیوہ اوراس کے دو بچے۔ اپنا شرعی حصہ بھی لیناچاہتاہوں۔دولاکھ روپے قرض بھی اداکرناہے ۔(افضل ،فیصل آباد)

جواب:آپ اپنی زندگی میں ا پنے مال و جائیداد کے تنہا مالک ہیں اور اس میں ہر جائز تصرف کاآپ کو اختیار ہے۔اپنی زندگی میں اپنا مال وجائیداد وغیرہ تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں، تاہم اگر آپ اپنی صحت والی زندگی میں اپنا مال وجائیداد ھبہ(گفٹ ) کرنا چاہیں تو اس کا بھی آپ کو اختیارہے۔اس میں بہتر یہ ہے کہ آپ اپنی بقیہ زندگی کیلئے کچھ مناسب رقم الگ کر لیں۔ آپ نے سوال میں بیوی کاذکرنہیں کیا اگر بیوی حیات ہوتو اسے کل مال کا آٹھواں حصہ دے دیں اوربقیہ رقم بیٹے اور بیٹیوں میں تقسیم کردیں۔ اس میں اصولاًبہتر یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکی کو برابر دیں اورلڑکے کو اگر لڑکی کی بنسبت دگنا دے دیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ نیزمرحوم بیٹے کی اولاداوربیوہ کوبھی جتنا مناسب سمجھیں دے سکتے ہیں،بہتریہ ہے کہ جتناایک بیٹے کودیں اتناہی حصہ مرحوم بیٹے کی اولاداوربیوہ میں تقسیم کردیں۔نیز جس کو جتنا حصہ دیں وہ اسے تمام تر مالکانہ حقوق کے ساتھ مالک وقابض بناکر حوالہ کردیں ۔

 شوہر کیلئے بیوی کے مرنے کے بعد اس کا چہرہ دیکھنا اور قبر میں اتارنا 

سوال : میری بیوی فوت ہوگئی تھی، اس وقت مسجدکے امام نے مجھے بلاکرکہاتھاکہ آپ میت کونہیں دیکھ سکتے، آپ غیرمحرم ہوگئے ہیں۔چند روز قبل میرے کزن کی بیوی فوت ہوئی ہے۔ اس امام صاحب نے اسے بھی یہی کہا۔ میرا سوال یہ ہے کہ خاونداپنی بیوی کوکیوں نہیں دیکھ سکتاجبکہ کوئی عورت نہ ہو تو خاوند غسل بھی دے سکتاہے اورمیت کوقبرمیں اتار سکتاہے۔ مجھے حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ کیا خاوندبیوی کی میت کونہیں دیکھ سکتا۔(محمدنصیرخان، راولپنڈی)

جواب:مولوی صاحب نے جو مسئلہ بیان کیا وہ غلط ہے۔ شوہرکیلئے بیوی کے مرنے کے بعد اس کا چہرہ دیکھنا شرعاً بالاتفاق جائز ہے نیز چارپائی کوکندھادینا اورقبرمیں اتارنا بھی جائز ہے۔ تاہم عام حالات میں بلا ضرورت غسل دینا یابلاحائل چھونا منع ہے۔ مولوی صاحب کو  میری یہ تحریر دکھادیں اور ان سے کہہ دیں کہ آئندہ بلا تحقیق مسئلہ بیان کرنے سے گریز کریں ۔(وفی الشامیۃ، 198/2)، (فتاویٰ عثمانی، 564/1، احسن الفتاویٰ 225/4، احکام میت 40،بہشتی زیور) 

معذور بھائی کی خدمت نہ کرنے والے بھائی بہنوں کا حصہ میراث

سوال: میرے معذورماموں کی شادی نہیں ہوپائی تھی، ان کے بھائیوں اوران کی اولادنے ان کونہیں رکھا۔ان کی بہن (میری والدہ)اوران کی اولادنے انہیں رکھااورخدمت کی۔انہوں نے اپنی زندگی میںمتعددباراپنے بھائیوں اوران کی اولاد کو کچھ نہ دینے کااظہارکیاتھا۔اب ان کی وفات کے بعدآپ سے ان کی چھوڑی ہوئی رقم کو اسلامی شریعت کی روشنی میں تقسیم کی بابت دریافت کرنا ہے؟ (محمداسلم، ٹاؤن شپ لاہور) 

جواب:آپ کے معذور ماموں کے ساتھ ان کے بھائیوں کا مذکورہ رویہ شرعاً ناجائز تھا جس سے وہ گناہ گار ہوئے۔ تاہم آپ کے معذور ماموں نے اس کی بناء پراپنے بھائیوں کو اپنے مرنے کے بعد کچھ نہ دینے کا جو اظہارکیاتھا وہ شرعاً معتبر نہیں، ان کے اس طرح کہنے سے ان کے بھائی ان کے ترکہ سے محروم نہیں ہوں گے، بلکہ اگر مرحوم کے والدین اوردادا،دادی ان سے پہلے ہی فوت ہوچکے ہوں تواب مرحوم کے ترکہ میں ان کے بھائی بہنوں کا شرعی حصہ ہو گا اور بھائی کو بہن کی بنسبت دوگنا حصہ ملے گا۔ نیز  مزیدتفصیل تمام ورثاء اوران کی تعدادبتاکرمعلوم کی جاسکتی ہے۔ 

غیرقانونی طریقے سے کسی ملک 

میں داخل ہونا اور ان کیلئے دعا کرنا  

سوال : کچھ لوگ کمائی کیلئے ڈنکی(یعنی غیر قانونی طورپر)یورپ جاتے ہیں۔ اس طرح جانے والے قانون کے مجرم ہیں۔ ان کے اہل وعیال ان کے خیروعافیت سے یورپ پہنچنے کیلئے نمازیں پڑھتے ہیں، قرآن خوانی کرواتے ہیں، دعائیں کرواتے ہیں۔کیا غلط کام کرنے والوں کیلئے دعائیں کرناجائزہے؟

جواب:غیرقانونی طریقے سے کسی ملک میں داخل ہونا شرعاًناجائز ہے کیونکہ اس میں قانون شکنی کے علاوہ اپنی جان اورعزت کوخطرے میں ڈالناہے۔ اس لئے اس سے احتراز لازم ہے، تاہم ان کیلئے عافیت و سلامتی کی دعاکرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں بلکہ ہدایت اور عافیت و سلامتی کی دعاکرنا مستحسن ہے ۔

پھوپھی کی پوتی سے نکاح جائز ہے 

سوال :کیاپھوپھی کے بیٹے کی بیٹی کے ساتھ نکاح جائزہے؟جواب عنایت فرمائیں۔ (محمد رفیق، کراچی )

جواب :جائزہے ۔(سورۃ النساء:24)، (و کذ ا فی فتا و یٰ  محمودیہ  261/11)

٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 21)

نماز کے فوائد:اکیسویں پارے کی پہلی آیت میں تلاوت قرآن اور اقامتِ صلوٰۃ کا حکم ہے اور یہ کہ نماز کے منجملہ فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ اسی معیار پر ہر مسلمان اپنی نماز کی مقبولیت اور افادیت کا جائزہ لے سکتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 21)

نماز کا حکم:قرآنِ مجید‘ فرقانِ حمید کے اکیسویں پارے کا آغاز سورۃ العنکبوت سے ہوتا ہے۔ اکیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ‘ اپنے حبیبﷺ سے فرماتے ہیں کہ جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے‘ اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا: بیشک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 20)

جلالت و قدرت:بیسویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ استفہامی انداز میں اپنی جلالت و قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا‘ آسمان سے بارش برسا کر بارونق باغات کس نے اگائے‘

خلاصہ قرآن(پارہ 20)

قوت تخلیق و توحید :بیسویں پارے کا آغاز سورۂ نمل سے ہوتا ہے۔ اس پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی قوت تخلیق اور توحیدکا ذکر کیا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 19)

کفار کے مطالبات:انیسویں پارے کے شروع میں ایک بار پھر کفارِ مکہ کے ناروا مطالبات کا ذکر ہے کہ منکرینِ آخرت یہ مطالبہ کرتے تھے کہ ہمارے پاس فرشتہ اتر کر آئے یا ہم اللہ تعالیٰ کو کھلے عام دیکھیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 19)

کفار کا پچھتاوہ:انیسویں پارے کا آغاز سورۃ الفرقان سے ہوتا ہے۔ انیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو میری ملاقات کا یقین نہیں وہ بڑے تکبر سے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کا نزول ہونا چاہیے یا ہم پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔