ذرا مسکرائیے

تحریر : روزنامہ دنیا


ایک آدمی نوکری کی تلاش میں ایک شخص کے پاس پہنچا۔ اس شخص نے پوچھا: ’’کھانا پکانا جانتے ہو؟‘‘

 ’’جی ہاں‘‘، ’’کار چلانا جانتے ہو؟‘‘، ’’جی ہاں‘‘، ’’جھوٹ بولنا جانتے ہو؟‘‘ 

اس پر نوکر نے جواب دیا: ’’تمہارا کیا خیال ہے‘ ابھی تک میں کیا کر رہا ہوں‘‘۔

٭٭٭

ڈاکٹر نے مریض سے پوچھا: ’’میں نے آ پ کو ایک سال کے بچے والی ہلکی خوراک کھانے کو کہا تھا کیا آپ نے کھائی؟‘‘۔

 مریض نے کہا: ’’جی ہاں کھائی تھی‘‘۔

 ڈاکٹر نے پوچھا: ’’کیا کھایا تھا؟‘‘۔ 

مریض نے جواب دیا: ’’نارنگی کے چھلکے ‘تھوڑی سی مٹی ایک شیشے کی گولی اور کچھ کاغذ کے ٹکڑے‘‘۔

٭٭٭

ایک شخص نے اپنے دوست سے کہا: ’’مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ کپڑے دھوتے ہو‘‘۔

 دوست بولا: ’’بھئی! جب وہ میرے ساتھ روٹیاں پکا سکتی ہے تو کیا میں اس کے ساتھ کپڑے نہیں دھو سکتا‘‘۔

٭٭٭

مالک :ہائے گلہ بری طرح دکھ رہا ہے

نوکر: حضور اجازت ہو تو گلا دبا دوں؟

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 21)

نماز کے فوائد:اکیسویں پارے کی پہلی آیت میں تلاوت قرآن اور اقامتِ صلوٰۃ کا حکم ہے اور یہ کہ نماز کے منجملہ فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ اسی معیار پر ہر مسلمان اپنی نماز کی مقبولیت اور افادیت کا جائزہ لے سکتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 21)

نماز کا حکم:قرآنِ مجید‘ فرقانِ حمید کے اکیسویں پارے کا آغاز سورۃ العنکبوت سے ہوتا ہے۔ اکیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ‘ اپنے حبیبﷺ سے فرماتے ہیں کہ جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے‘ اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا: بیشک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 20)

جلالت و قدرت:بیسویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ استفہامی انداز میں اپنی جلالت و قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا‘ آسمان سے بارش برسا کر بارونق باغات کس نے اگائے‘

خلاصہ قرآن(پارہ 20)

قوت تخلیق و توحید :بیسویں پارے کا آغاز سورۂ نمل سے ہوتا ہے۔ اس پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی قوت تخلیق اور توحیدکا ذکر کیا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 19)

کفار کے مطالبات:انیسویں پارے کے شروع میں ایک بار پھر کفارِ مکہ کے ناروا مطالبات کا ذکر ہے کہ منکرینِ آخرت یہ مطالبہ کرتے تھے کہ ہمارے پاس فرشتہ اتر کر آئے یا ہم اللہ تعالیٰ کو کھلے عام دیکھیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 19)

کفار کا پچھتاوہ:انیسویں پارے کا آغاز سورۃ الفرقان سے ہوتا ہے۔ انیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو میری ملاقات کا یقین نہیں وہ بڑے تکبر سے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کا نزول ہونا چاہیے یا ہم پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔