سید سلمان ندوی :برصغیر کی علمی روایت کا روشن چراغ
سید سلیمان ندوی کا شمار بیسویں صدی کے ان نثر نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اہم علمی ، ادبی اور مذہبی موضوعات پر تصانیف تحریر کیں۔ ان تصانیف کی علمی وادبی حیثیت مسلم ہے۔ ایک اور خصوصیت ان کا اسلوب ہے۔
سید صاحب کے مختصر تعارف کے بعد ان کی چند تصانیف میں سے اسلوب کے نمونے یہاں دیے گئے ہیں۔سید صاحب کی پیدائش ضلع پٹنہ ریاست بہار کے ایک گاؤں دستہ میں 23 نومبر 1884ء بمطابق 23 صفر1302ھ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں پھلواری شریف اور پھر دربھنگہ میں پائی۔ 1901 ء میں دارالعلوم ندوۃ العلمالکھنو میں داخل ہوئے اور یہاں پانچ سال تک تعلیم حاصل کی۔ یہاں مولانا فاروق چڑیا کوئی جیسے جید عالم نے سید صاحب کی شخصیت کو نکھارنے اور سنوار نے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1905ء میں علامہ شبلی نعمانی ندوہ کے با قاعدہ معتمد تعلیم ہوئے تو سید صاحب کو بہت خوشی ہوئی اور اس کا اظہار انہوں نے ایک طویل فارسی قصیدہ لکھ کر کیا۔ علامہ شبلی نعمانی کی صحبت اور تربیت نے سید سلیمان ندوی جیسے گوہر کو وہ آب داری بخشی کہ ادب اس سے منو ر ہو گیا۔سید صاحب کا ایک معروف علمی اور ادبی گھرانے سے تعلق تھا۔ نجیب الطرفین سید تھے۔ روحانی لحاظ سے والدبھی درویش صفت بزرگ تھے۔ اس تعلیم و تربیت کا سید صاحب کی شخصیت پر گہرا اثر پڑا۔ آپ کی تحریروں کے اکثرموضوعات مذہبی اور اسلامی نوعیت کے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ :پندرہ سولہ برس کی عمر میں کانوں میں دو آواز میں دم بدم آرہی تھیں۔ ایک سرسید کی تحریک یعنی انگریزی تعلیم کی اشاعت اور مذہب میں عقل و فطرت کی مطابقت کی کوشش اور دوسری علماکو نئے زمانے کے نئے خیالات اور فلسفہ سے آشنا کر کے سید سلیمان ندوی کے اسلوب نثر کی انفرادیت پرانی عربی تعلیم کی از سرنو کی تنظیم کی تحریک جس کو لے کر چند روشن خیال علمااٹھے تھے۔ اور یہ بھی عجیب بات تھی کہ اس تحریک کا مرکز بھی علی گڑھ کی ایک عربی درس گاہ تھی جو مولانا لطف اللہ صاحب کی ذات سے عبارت تھی۔ اس تحریک کا دوسرا مرکزدہلی تھا جہاں مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی درس دیتے تھے۔ کانوں میں یہ دونوں آوازیں پڑیں مگر میرا خاندانی ماحول اس دوسری تحریک سے متاثر تھا اس لیے اسی دوسری تحریک سے دلچسپی ہوئی اور وہ بڑھتی گئی اور پھیلتی گئی اور وہی میری زندگی کا جزو بن گئی۔
سید صاحب محقق تھے اور محقق بھی ایسے کہ بعض دفعہ صرف ایک لفظ کی تحقیق کے لیے کئی کئی کتب خانے چھان لیتے ، لوگوں سے تحقیق کرتے اور جب تک مطمئن نہ ہو جاتے کوئی رائے قائم نہ کرتے۔ یہ تو صرف ایک لفظ کی تحقیق کا ذکر ہے۔ جب ان کی دیگر کتب دیکھیں جن میں ارض القرآن ، خطبات ِمدراس، سیرت النبی ﷺ ، سیرتِ عائشہؓ، عربوں کی جہاز رانی ، خیام وغیرہ شامل ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ تحقیق میں اس قدر جاں فشانی اب ناممکن ہے۔ یہ تحقیقی ذوق بھی شبلی نعمانی کی تربیت کا فیض تھا۔ سید صاحب نے لکھا ہے کہ ان کے استاد تحقیق کے لیے طالب علموں سے سخت محنت اور احتیاط کرواتے تھے اور ساتھ ہی تاکید کرتے تھے کہ معنی کے ساتھ عبارت کی چستی ، طرز ادا کی شگفتگی، تشبیہ و استعارہ کی ندرت ہاتھ سے نہ جائے۔ پامال معلومات ، مبتذل محاورات اور عامیانہ الفاظ سے پوری طرح پر ہیز کیا جائے۔ انہوں نے اپنی تمام تحریروں میں اسی احتیاط سے کام لیا ہے۔ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان صاحب کے نام ایک مکتوب میں انہیں ہدایت دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اکثر تکثیر مواد کے لیے لوگ قیاسات کو دلائل کی جگہ دے دیتے ہیں، آپ اس سے احترازفرمائیے۔ جب تک کوئی بات محقق نہ ہو جائے،قبول نہ کیجیے۔سید صاحب کا ایک اہم کارنامہ دارالمصنفین کی تشکیل اور اسے ایک فعال ادارہ بنانا تھا۔ جس کا منصوبہ شبلی نعمانی نے بنایا تھا اور عملی جامہ 1915 ء میں سید صاحب نے پہنایا۔ 1916ء میں ’’ معارف‘‘ کے نام سے ماہنامہ جاری کیا ، 35 سال تک اس کے مدیر رہے۔ اگست 1938 ء میں مولانا اشرف علی تھانوی سے بیعت ہوئے۔ 22اکتوبر 1942 ء کو آپ کوخلافت سے نوازا گیا۔ 1952ء میں جامعہ کراچی قائم ہوئی تو سید صاحب اس کی سینیٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ اس تمام عرصے میں تصنیف و تالیف کا عمل برابر جاری رہا اور ندوہ سے جس علمی اور ادبی سفر کا آغاز ہوا تھا اس کا اختتام 23 نومبر1953ء کو کراچی میں ان کی وفات کی صورت میں ہوا۔