مسائل اور ان کا حل
قسم کا کفارہ سوال :میں نے قسم کھائی کہ فلاں چیز نہیں کھائوں گا، اب اگر وہ چیز کھائوں تو اس کا کیا کفارہ ہو گا؟(محمد طاہر، شیخوپورہ)
جواب :قسم توڑنے کی صورت میں کفارہ لازم ہوگا اور قسم کاکفارہ 10 مسکینوں کو صبح وشام کھانا کھلانا( یا ہر محتاج کو صدقۂ فطر کے برابر نقد رقم دینا )یا ایک ایک جوڑا دینا ہے۔
لے پالک کے والد کے خانہ میں اصل والد کا نام لکھنا لازم
سوال : جس بچے کو پالا گیا ہو، کیا کاغذات میں ولدیت کے خانہ میں تربیت کرنے والا اپنا نام لکھ سکتاہے؟مجھے کسی نے کہا ہے کہ نہیں لکھ سکتا براہ مہربانی واضح فرمادیں ۔(اکرم، فیصل آباد)
جواب :ولدیت کے خانہ میں پرورش کرنے والے کا اپنانام لکھناشرعاًجائزنہیں بلکہ اصل والد کا نام لکھنا ضروری ہے۔تاہم سرپرست یامربی کے خانہ میں تربیت کرنے والااپنانام لکھ سکتا ہے۔ (فی صحیح البخاری،2؍705)
دیت کی مقدار کیا ہے ؟
سوال :شریعت اسلامیہ میں مردکی دیت کتنی ہے، سونے اور رقم کی صورت میں کتنی بنتی ہے؟ (راشد اسلام، کراچی )
جواب : چاندی کی شکل میں مرد کی دیت دس ہزار درہم 2625 تولے ( یعنی 30.618کلو گرام) چاندی یا اس کی قیمت ہے اور سونے کی شکل میں ایک ہزار دینار سونا375تولے یعنی 4.37 کلو گرام سونا یااس کی قیمت ہے ۔جبکہ شرعاً اونٹ کی شکل میں 100 اونٹ یا ان کی قیمت دیت ہے۔ ان اونٹوں کی تفصیل بوقت ضرورت معلوم کی جاسکتی ہے ۔
کبوتر پالنا
سوال:کیا گھر میں شوقیہ طور پر کبوتر پنجروں میں رکھنا جائز ہے؟(محمد اقبال ، لاہور)
جواب: گھر میں شوقیہ طور پر کبوتر پنجروں میں رکھنا جائز ہے، البتہ پنجرہ کشادہ ہ رکھنا، ان کے مناسب ماحول اور دانہ پانی کا مکمل خیال رکھنا ضروری ہے۔(شامی: 6/401)
قضاء نماز فجر کی نیت
کس طرح کی جائے ؟
سوال: اگر فجر کی نماز وقت پر نہ پڑھ سکے اور صبح اٹھتے ہی پڑھ لی جائے تو اس کی نیت قضا ء نماز کی کرے یا ادا کی ؟ (سید علی، کراچی)
جواب: طلوع آفتاب کے بعد فجر کی نماز قضاء ہوتی ہے، لہٰذا سورج طلوع ہونے کے بعد اداکی جائے تو قضاء اور پہلے کی جائے تو ادا ہوگی۔ نیز قضا نماز قضا ء اور ادا دونوں نیتوں سے ادا ہو جاتی ہے۔
پچھلے کئی برسوں کی زکوٰۃ
کس طرح ادا کی جائے
سوال :اگر کسی نے گزشتہ کئی برسوں سے زکوٰۃ ادا نہیں کی تو اب وہ کس طرح ادا کرے، تھوڑی تھوڑی کرکے پورے سال میں دینا جائز ہے یا ایک ساتھ ہی دینا ہوگی؟(عبدالقادر، کراچی)
جواب : اگر گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تو زکوٰۃ معاف نہیں ہوگی ادا کرنا لازم ہے، لہٰذا گزشتہ تمام برسوں کی زکوٰۃ کا حساب کرکے ادا کرنالازم ہے۔ چاہے اکٹھی اداکریں یا قسط وار تھوڑی تھوڑی کرکے ادا کردیں دونوں صورتیں درست ہیں، جتنی جلدی ہوسکے ادا کردینی چاہئے ۔(بدائع: 2؍7)
نئے نوٹ خریدنے پر اضافی رقم دینا
سوال: مارکیٹ میں نئے نوٹ کی 10 والی گڈی پر 300روپے لیتے ہیں کیا یہ سود ہے؟ اور اس طرح کرسکتے ہیں یا نہیں؟ (محمد صابر، لاہور)
جواب: 10 روپے والے نوٹوں کی گڈی پر 300 روپے زائد لینا سود ہے، جس کا لین ودین حرام ہے لہٰذا اس سے احتراز کرنا لازم ہے ۔
زندگی میں اولاد میں جائیدادتقسیم کرنا
سوال :میرے 8 بیٹے اور4 بیٹیاں ہیں۔ ایک چھوٹے بیٹے کے علاوہ باقی سب شادی شدہ ہیں۔ میں چاہتاہوں کہ اپنی زندگی میں اپنے مکانات اور پلاٹس وغیرہ تقسیم کردوں کیونکہ 3 بیٹوں نے مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کچھ مکانوں کے علاوہ بقیہ جائیدادو رقم اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کر دوں؟ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ کیا میرے لئے ایسا کرنا جائز ہے؟ (ناصر ولی، پشاور)
جواب:آپ اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کے مالک ہیں اوراسے تقسیم کرنے یانہ کرنے کا بھی آپ کواختیارہے۔ کسی بیٹے کا آپ سے تقسیم کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔ ا پنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرکے اولادکودیناآپ پر شرعاً لازم نہیں۔تاہم اگرآپ تقسیم کرناچاہتے ہیں توتقسیم کرکے جس کو جتنا دینا چاہیں دے سکتے ہیں اور اس میں بہتر یہ ہے کہ لڑکی کوبھی لڑکے کے برابردیں۔تاہم اگرلڑکے کو لڑکی کی بانسبت دگنا دے دیں تو اس کی بھی گنجائش ہے ،بشرطیکہ اس میں کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت نہ ہو۔ نقصان پہنچانے کی غرض سے کسی کوزیادہ اور کسی کو کم دینا گناہ ہے ۔واضح رہے جس بیٹے کوآپ مکان دیناچاہیں تومکمل طورپراس کومالکانہ قبضہ دینا ضروری ہو گاکیونکہ محض نام کرنے سے شرعاً اس کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔(وفی الدرالمختار، 5؍696)،(،وکذا فی الخانیۃ 3؍279)
اجنبی خاتون کے ساتھ
کاروباری شراکت کا معاملہ
سوال:کیا کسی اجنبی خاتون کے ساتھ مرد کا کاروباری شراکت کرناجا ئز ہے؟ شرکت کے طور پر تجارت کی کیا شرائط ہیں؟(وسیم اکرم، لاہور)
جواب: خاتون اجنبی مرد کے ساتھ کاروباری شراکت کرسکتی ہے، تاہم خاتون کو ورکنگ پارٹنری سے احتراز کرنا چاہئے۔اگر مجبوری ہو تو تمام شرعی حدود مثلا ًنامحرم سے اختلاط سے بچتے ہوئے اور پردے کے اہتمام کے ساتھ کام کرنے کی گنجائش ہے۔ نیز کاروبار میں شرعی شرائط کا لحاظ رکھنا بھی شرعاً ضروری ہے۔