ٹوٹ بٹوٹ نے بکری پالی

تحریر : روزنامہ دنیا


ٹوٹ بٹوٹ نے بکری پالیدبلی پتلی ٹانگوں والی

دن اور رات مٹھائی کھائے

مکّھن، دودھ، ملائی کھائے

حلوہ، ربڑی، دہی، پنیر

یخنی، دلیا، کھچڑی، کھیر

جو کچھ آئے چٹ کر جائے

پھر بھی اس کو ہوش نہ آئے

اِک دن کی تم سنو کہانی

بکری کو یاد آئی نانی

کتنا ہی سمجھایا اس کو

پھسلایا، بہلایا اُس کو

وہ تھی اپنے من کی رانی

ٹوٹ بٹوٹ کی بات نہ مانی

جنگل کو چل پڑی اکیلی

بکری تیرا اللہ بیلی

مَیں مَیں مَیں کرتی تھی وہ

جی میں لیکن ڈرتی تھی وہ

یا اللہ کوئی شیر نہ آئے

یوں ہی مجھ کو کھا نہ جائے

(صوفی غلام مصطفی تبسم)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

جنت کا متلاشی (تیسری قسط )

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو اس وقت قرآن پاک کی کئی آیات اور سورتیں نازل ہو چکی تھیں۔ عبداللہؓرسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کے پاس جا کر قرآن سنتے، پھر اس کو حفظ کر لیتے اور بعد میں لکھ لیتے۔

اصلاح کا سبب

رابیعہ ایک خوش حال گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی۔ قدرت نے اسے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ بے پناہ صلاحیتیں بھی دی تھیں۔

جادوئی ہانڈی

ایک غریب عورت اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی تھی۔ ایک دن ایک امیر آدمی ان کے گھر آیا تو ماں نے اپنے بیٹے سے کہا، جائو مہمان کے کھانے کیلئے کچھ لے آؤ۔ بیٹے نے ہانڈی میں چاول کا صرف ایک دانہ ڈالا اور اسے پکنے کیلئے چولھے پر چڑھا دیا۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

بارش کیوں ہوتی ہے؟

ذرا مسکرایئے

ایک سردار کا ایک ریسٹورنٹ تھا۔ ایک آدمی اس کے پاس آیا اور کہا:سردار جی! سوپ میں مکھی ہے۔

پہیلیاں

کھائے لوہا اگلے آگگائے ہر دم موت کے راگ