ٹوٹ بٹوٹ نے بکری پالی
ٹوٹ بٹوٹ نے بکری پالیدبلی پتلی ٹانگوں والی
دن اور رات مٹھائی کھائے
مکّھن، دودھ، ملائی کھائے
حلوہ، ربڑی، دہی، پنیر
یخنی، دلیا، کھچڑی، کھیر
جو کچھ آئے چٹ کر جائے
پھر بھی اس کو ہوش نہ آئے
اِک دن کی تم سنو کہانی
بکری کو یاد آئی نانی
کتنا ہی سمجھایا اس کو
پھسلایا، بہلایا اُس کو
وہ تھی اپنے من کی رانی
ٹوٹ بٹوٹ کی بات نہ مانی
جنگل کو چل پڑی اکیلی
بکری تیرا اللہ بیلی
مَیں مَیں مَیں کرتی تھی وہ
جی میں لیکن ڈرتی تھی وہ
یا اللہ کوئی شیر نہ آئے
یوں ہی مجھ کو کھا نہ جائے
(صوفی غلام مصطفی تبسم)