ذرا مسکرایئے

تحریر : روزنامہ دنیا


ایک سردار کا ایک ریسٹورنٹ تھا۔ ایک آدمی اس کے پاس آیا اور کہا:سردار جی! سوپ میں مکھی ہے۔

 سردار نے جواب دیا: دل بڑا کرو یار، اس نے کس قدر پی لینا ہے۔

٭٭٭

گاہک نے روسٹ ران کا آرڈ دیا تو بیرے نے مودب ہو کر پوچھا: جناب! اس کے ساتھ کچھ اور پسند کریں گے۔

گاہک بولا:ہاں! اگر ران پچھلے ہفتے جیسی ہے تو ساتھ درانتی بھی لیتے آنا۔

٭٭٭

ایک بیمار بچے کو اس کا باپ ڈاکٹر کے پاس لے گیا ۔

ڈاکٹر نے دل کی حالت دیکھنے کیلئے لڑکے کے سینے پر آلہ لگایا اور کہا: بیٹے ذرا دس تک گنتی گنو‘‘۔

 لڑکا گھبرا کر بولا: ابا جان! آپ تو کہتے تھے مجھے ہسپتال لے جائیں گے مگر یہ تو اسکول ہے۔

٭٭٭

ایک لڑکا فخریہ لہجے میں دوست کو بتا رہا تھا کہ میں پانی کے اندر آدھ گھنٹے تک رہ سکتا ہوں۔ کیا تم ایسا کر سکتے ہو؟

میں قیامت تک پانی کے اندر رہ سکتا ہوں۔ دوسرے نے کہا۔

’’وہ کیسے؟‘‘ کیونکہ مجھے تیرنا نہیں آتا۔

٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

جنت کا متلاشی (تیسری قسط )

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو اس وقت قرآن پاک کی کئی آیات اور سورتیں نازل ہو چکی تھیں۔ عبداللہؓرسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کے پاس جا کر قرآن سنتے، پھر اس کو حفظ کر لیتے اور بعد میں لکھ لیتے۔

اصلاح کا سبب

رابیعہ ایک خوش حال گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی۔ قدرت نے اسے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ بے پناہ صلاحیتیں بھی دی تھیں۔

جادوئی ہانڈی

ایک غریب عورت اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی تھی۔ ایک دن ایک امیر آدمی ان کے گھر آیا تو ماں نے اپنے بیٹے سے کہا، جائو مہمان کے کھانے کیلئے کچھ لے آؤ۔ بیٹے نے ہانڈی میں چاول کا صرف ایک دانہ ڈالا اور اسے پکنے کیلئے چولھے پر چڑھا دیا۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

بارش کیوں ہوتی ہے؟

ٹوٹ بٹوٹ نے بکری پالی

ٹوٹ بٹوٹ نے بکری پالیدبلی پتلی ٹانگوں والی

پہیلیاں

کھائے لوہا اگلے آگگائے ہر دم موت کے راگ