ذرا مسکرایئے

تحریر : روزنامہ دنیا


ایک سردار کا ایک ریسٹورنٹ تھا۔ ایک آدمی اس کے پاس آیا اور کہا:سردار جی! سوپ میں مکھی ہے۔

 سردار نے جواب دیا: دل بڑا کرو یار، اس نے کس قدر پی لینا ہے۔

٭٭٭

گاہک نے روسٹ ران کا آرڈ دیا تو بیرے نے مودب ہو کر پوچھا: جناب! اس کے ساتھ کچھ اور پسند کریں گے۔

گاہک بولا:ہاں! اگر ران پچھلے ہفتے جیسی ہے تو ساتھ درانتی بھی لیتے آنا۔

٭٭٭

ایک بیمار بچے کو اس کا باپ ڈاکٹر کے پاس لے گیا ۔

ڈاکٹر نے دل کی حالت دیکھنے کیلئے لڑکے کے سینے پر آلہ لگایا اور کہا: بیٹے ذرا دس تک گنتی گنو‘‘۔

 لڑکا گھبرا کر بولا: ابا جان! آپ تو کہتے تھے مجھے ہسپتال لے جائیں گے مگر یہ تو اسکول ہے۔

٭٭٭

ایک لڑکا فخریہ لہجے میں دوست کو بتا رہا تھا کہ میں پانی کے اندر آدھ گھنٹے تک رہ سکتا ہوں۔ کیا تم ایسا کر سکتے ہو؟

میں قیامت تک پانی کے اندر رہ سکتا ہوں۔ دوسرے نے کہا۔

’’وہ کیسے؟‘‘ کیونکہ مجھے تیرنا نہیں آتا۔

٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 26)

سورۃ الاحقاف:اس سورہ میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا تاکیدی حکم ہے اور ماں نے حمل اور وضع حمل کے دوران جو بے پناہ مشقتیں اٹھائیں، ان کا ذکر ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 26)

سورۃ الاحقاف:قرآن پاک کے چھبیسویں پارے کا آغاز سورۃ الاحقاف سے ہوتا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ مشرک کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جو شرک کرتے ہیں‘ ان کو کہیے کہ اگر وہ سچے ہیں تو کوئی سابقہ کتاب یا علم کا ٹکڑا اپنے موقف کی دلیل کے طور پر لے کر آئیں۔

چوکوں چھکوں کی بہار،6میدان تیار

پاکستان سپرلیگ سیزن10:11روز بعد شروع ہونیوالے پی ایس ایل11میں8ٹیمیں شرکت کریں گی:ہر ٹیم لیگ مرحلے میں 10 میچ کھیلے گی، پلے آف مرحلہ 28 اپریل سے شروع ہوگا، لیگ میں 12 ڈبل ہیڈرز کھیلے جائیں گے

خلاصہ قرآن(پارہ 25)

اللہ سے کچھ پوشیدہ نہیں: پارے کا آغاز سورہ حم سجدہ سے ہوتا ہے ۔ پارے کی ابتدا میں بتایا گیا ہے کہ قیامت‘ شگوفوں سے نکلنے والے پھلوں‘ حمل اور وضع حمل کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جائے گا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 25)

اللہ سے کچھ پوشیدہ نہیں:قرآنِ پاک کے پچیسویں پارے کا آغاز سورہ حم سجدہ سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پچیسویں پارے کے شروع میں ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے‘ اسی طرح ہر اُگنے والے پھل کا علم اس کے پاس ہے اور ہر عورت کے حمل اور اس کے بچے کی پیدائش کا علم اللہ کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ خود بنانے والے ہیں‘ اس لیے ان سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 24)

سورۃ الزمر: اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کو جھٹلانے والے کو جہنمی قرار دیا گیا اور سچے دین کو لے کر آنے والے‘ یعنی رسول اللہﷺ اور ان کی تصدیق کرنے والے (مفسرین نے اس سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مراد لیا ہے) کو متقی قرار دیا گیا ہے۔ آیت 38 میں بتایاکہ اللہ کی قدرت پر کسی کا بس نہیں چلتا۔