رمضان کی تیاری

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن


نیت، عمل اور اخلاق، رمضان کا مکمل سبق

رمضان مسلمانوں کیلئے رحمت ،مغفرت اور تقویٰ کا مہینہ ہے۔ یہ نہ صرف روزہ رکھنے کا موقع ہے بلکہ دل و دماغ کی تربیت، اخلاق کی اصلاح اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا بہترین وقت ہے۔ قرآن و سنت نے اس مہینے کو خاص اہمیت دی ہے اور ہمیں تیاری کی ہدایت دی ہے۔

رمضان کی اہمیت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا، جو لوگوں کیلئے ہدایت اور حق و باطل کو واضح کرنے والا ہے‘‘(سورۃ البقرہ: 185)۔رمضان  ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اعمال کا  اجر بڑھ جاتا ہے اور رحمت کے دروازے کھول  دیے جاتے ہیں۔

تیاری کا پہلا مرحلہ: نیت اور دل کی صفائی

روزہ اور عبادت کی اصل کامیابی دل کی صفائی اور نیت کی درستگی پر ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرو، اور باہمی اختلاف و نزاع سے بچو، ورنہ تم ناکام ہو جاؤ گے اور تمہاری قوت و طاقت ضائع ہو جائے گی (سورۃ الانفال: 46)۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی‘‘ (صحیح بخاری)۔ اس لیے ہماری زندگی کے ہر عمل کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔

تیاری کا دوسرا مرحلہ: جسمانی تیاری

روزہ جسمانی طور پر بھی مشقت کا باعث ہے، اس لیے جسم کو رمضان کیلئے تیار کرنا ضروری ہے۔کھانے پینے کے اوقات کو معمول کے مطابق کریں۔ بھاری کھانے سے پرہیز کریں۔ پانی کی مقدار بڑھائیں تاکہ جسمانی توانائی برقرار رہے۔

تیاری کا تیسرا مرحلہ: عبادات کی منصوبہ بندی

رمضان میں عبادات کو بڑھانا ضروری ہے، اور اس کیلئے منصوبہ بندی مفید ہے۔ قرآن کی روزانہ تلاوت کا ہدف مقرر کریں۔ نمازیں باجماعت ادا کریں اور نفل نمازیں بڑھائیں۔ تراویح کیلئے وقت مقرر کریں۔دعا اور اذکار کا معمول بنائیں۔

تیاری کا چوتھا مرحلہ: اخلاقی اور سماجی تیاری

رمضان صرف روزہ اور عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ اخلاق کی تربیت کا بھی مہینہ ہے۔ جھوٹ، بد زبانی، غیبت اور حسد سے بچیں۔ والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اختیار کریں۔ خیرات اور نیکی کے کام بڑھائیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا روزہ حفاظتی ڈھال ہے، جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔(صحیح مسلم)

تیاری کا پانچواں مرحلہ: علم اور نصیحت

رمضان میں علم حاصل کرنا اور دوسروں کو نصیحت دینا بھی اہم ہے: قرآن کو پڑھیں، سنیں اور سیکھیں۔ آسان احکام فقہ اور عبادات یاد کریں۔گھر والوں اور بچوں کو رمضان کے احکام سمجھائیں۔

تیاری کا چھٹا مرحلہ :روحانی تیاری اور دُعا

رمضان میں روحانی تربیت سب سے زیادہ اہم ہے:دن اور رات میں دعا کریں۔اللہ سے معافی مانگیں اور توبہ کریں۔دل سے اللہ کی رضا کا مقصد رکھیں۔

رمضان کے بعد جائزہ اور اصلاح

رمضان کے بعد اعمال کا جائزہ لینا ضروری ہے، روزے اور عبادت میں کی گئی غلطیوں کو دیکھیں۔ اچھے اعمال یاد رکھیں اور برائیوں سے سبق لیں۔ اگلے رمضان کیلئے بہتر منصوبہ بنائیں۔

رمضان کی تیاری کے عملی نکات

نیت کو مضبوط کریں اور دل صاف کریں۔ جسم کو روزہ اور عبادت کیلئے تیار کریں۔ عبادات کا منصوبہ بنائیں اور قرآن کی تلاوت بڑھائیں۔اخلاق اور سماجی رویے درست رکھیں۔ علم حاصل کریں اور دوسروں کو نصیحت کریں۔ روحانی تیاری کریں، دعا اور توبہ کو معمول بنائیں۔ رمضان کے بعد اعمال کا جائزہ لیں اور اصلاح کریں۔ رمضان کا مہینہ ایک روحانی اور اخلاقی تربیت کا بہترین موقع ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی برکتوں سے مستفید ہونے، اپنی رضا پانے اور اعمال کی اصلاح کرنے کی توفیق دے۔ آمین یارب العالمین

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء : سورۂ انبیا میں فرمایاگیا ہے: لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور وہ غفلت کا شکار ہیں، دین کی باتوں سے رو گردانی کر رہے ہیں اور جب بھی نصیحت کی کوئی نئی بات ان کے پاس آتی ہے تو توجہ سے نہیں سنتے‘ بس کھیل تماشے کے انداز سے سنتے ہیں اور نبی کریم کو اپنے جیسا بشر قرار دیتے ہیں‘ قرآن کو جادو‘ خوابِ پریشاں‘ شاعری اور خود ساختہ کلام قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء :سترہویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔

اعتکاف قرب الٰہی کا سنہری موقع

اعتکاف کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے(بیہقی) ’’جو شخص اللہ کی رضا کیلئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کر دیتا ہے، ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے‘‘ (طبرانی، بیہقی)

صلوٰۃ التسبیح گناہوں کی معافی کا عظیم تحفہ

ایک بہت اہم اور عظیم نماز جس کی احادیث میں بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں، وہ ’’صلوٰۃ التسبیح‘‘ہے۔ اس نماز کی ادائیگی میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگتا ہے لیکن فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر پورا دن بھی لگ جائے تو زیادہ نہیں۔

مسائل اور ان کا حل

تکبیر تحریمہ کے بعد مقتدیوں کا پیچھے بیٹھے رہنا سوال:۔ جب حافظ صاحب تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز تراویح شروع کر دیتے ہیں، تو عموماً مساجد میں دیکھا جاتا ہے کہ کچھ لوگ بلا عذر پیچھے بیٹھے رہتے ہیں اور جب حافظ صاحب رکوع میں جاتے ہیں تو فوراً کھڑے ہو کر رکوع میں شامل ہو جاتے ہیں، ان لوگوں کا یہ عمل شرعاً کیسا ہے؟

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔