آزاد جموں کشمیر انتخابات کی تیاریاں
آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات 10 سے 25 جولائی کے درمیان متوقع ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کے بیشتر ممکنہ امیدوار اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں عید الفطر کے بعد ہی غیر اعلانیہ انتخابی مہم شروع کر چکے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر نے اپنی جماعت کے امیدواروں کے انٹر ویوز کر کے سفارشات پارٹی قیادت کو بھیج دی ہیں۔دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت پر آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتیں وزرا کو لامحدود پٹرول کی سہولت دینے پر تنقید کی جا رہی ہے اور الزام لگائے جا رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کی جانب سے غیر ترقیاتی اخراجات میں بے پناہ اضافہ اس جماعت کیلئے عام انتخابات میں مسائل کے پہاڑ کھڑے کر سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی حکومت میں ہونے کے باوجود اندرونی انتشار اور دھڑے بندی کی شکار ہے جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چوٹی کے قائد ین انتخابی مہم میں عدم دلچسپی دکھا رہے ہیں اور جماعت کے سینئر سیاستدان فیصل ممتاز راٹھور کو وزیر اعظم بنانے پر بھی ناخوش ہیں ۔ یہ صورتحال آنے والے انتخابات میں اس جماعت کی حمایت کو متاثر کرسکتی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں صدارتی انتخابات کا معاملہ بھی ہائی کورٹ میں پہنچ گیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اس سال 31 جنوری کو انتقال کر گئے تھے۔ آزاد جموں وکشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974 کے تحت تیس روز کے اندر نئے صدر کا انتخابات عمل میں آنا چاہے۔ صدارتی الیکشن میں تاخیر کے خلاف آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں دو الگ الگ رٹ پٹیشنز دائر کی گئی ہیں جنہیں منظور کرتے ہوئے سماعت کیلئے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس لیاقت شاہین نے لارجر بنچ تشکیل دیا ہے۔ ابتدائی سماعت پر ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف آزاد جموں و کشمیر کو کہا کہ وہ صدارتی انتخاب یقینی بنائے اور اس میں تاخیر آئین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ اس کیس کی اگلی سماعت کی تاریخ کا اعلان ابھی تک نہیں ہوا تاہم یہ ایک آئینی معاملہ ہے اور اس پر عدالت اگلی سماعت میں اپنا حتمی فیصلہ بھی سنا سکتی ہے۔
ادھر اسی صدارتی انتخاب کے حوالے سے ممبر آزاد جموں و کشمیر کونسل حنیف ملک نے ایک پٹیشن کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ 2016ء میں آزاد جموں وکشمیر کے آئین کی تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے اراکینِ کشمیر کونسل کو صدارتی ووٹ کے حق سے محروم کردیا گیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا کہ عدالت حکومت اور الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کرے کہ نئے صدر کے انتخاب کے حوالے سے جموں و کشمیر کونسل کے اراکین کو صدار تی انتخاب کیلئے ماضی کی طرح الیکٹورل کالج کا حصہ بنایا جائے اور صدر کے انتخاب کیلئے اراکین کشمیر کونسل کا ووٹ بحال کیا جائے۔اس پر عدالت نے کہا کہ تیرہویں ترمیم ایک آئینی معاملہ ہے اس پر عدالت کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی اور اراکین کشمیر کونسل کا ووٹ آئین میں تبدیلی کے بعد ہی بحال ہو سکتا ہے جو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے منتخب اراکین کا کام ہے، عدالت اس میں کچھ نہیں کر سکتی ۔ ادھر ممبر کشمیر کونسل نے ہائی کورٹ میں ہی صدارتی انتخاب روکنے کیلئے حکم امتناعی کی درخواست بھی دی کہ جب تک کشمیر کونسل کے اراکین کے ووٹ صدر کے انتخاب کیلئے دوبارہ بحال نہ کئے جائیں عدالت الیکشن کمیشن کو صدارتی الیکشن کرانے سے روک دے جس پر عدالت نے کہا کہ چونکہ اراکین کشمیر کونسل کے ووٹ کی بحالی کا معاملہ ایک آئینی مسئلہ ہے جس پر عدالت کچھ نہیں کر سکتی لہٰذا صدارتی الیکشن کو روکنے کیلئے حکم امتناعی خلاف آئین تصور کیا جائے گا۔ یوں عدالت نے صدارتی الیکشن روکنے کیلئے حکم امتناعی کی درخواست ابتدائی سماعت میں مسترد کر دی گئی۔
ادھر آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے قانون سازاسمبلی کے آنے والے انتخابات کیلئے آزاد کشمیر کے 10 اضلاع کے 33 انتخابی حلقہ جات اور مہاجرین مقیم پاکستان کے 12 حلقہ جات کیلئے انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کے عمل میں، جو کہ 24 مارچ سے شروع ہوا ، توسیع کرتے ہوئے ووٹ کے اندراج کی تاریخ 7 اپریل سے بڑھا کر 13 اپریل کر دی ہے۔ 18 سال کی عمر کے جن ریاستی باشندگان نے ابھی تک اپنا ووٹ انتخابی فہرست میں درج نہیں کروایا وہ 13 اپریل تک انتخابی فہرستوں میں اپنا ووٹ درج کروا سکتے ہیں۔ ریاستی باشندہ مہاجر مقیم پاکستان جموں و کشمیر اور متاثرین منگلا ڈیم کی انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کا عمل بھی 7 اپریل سے بڑھا کر 13 اپریل کر دیا گیا ہے۔ کشمیری مہاجرین مقیم پاکستان جنہوں نے ابھی تک انتخابی فہرستوں میں اپنا ووٹ درج نہیں کروایا وہ بھی 13 اپریل تک اپنا شناختی کارڈ اور ریاستی باشندہ ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے اپنا ووٹ شناختی کارڈ میں لکھے گئے مستقل پتہ پر درج کروا سکتے ہیں۔علاوہ ازیں آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں کے کام کی تفصیلات کی فراہمی اور مقررہ طریقہ کار کے حوالے سے رجسٹریشن افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں جاری انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کے کام کی مکمل تفصیلات فراہم کریں ۔چونکہ اس وقت انتخابی فہرستوں پر کام مختلف اقسام اور کیٹیگریز پر کیا جا رہا ہے۔ تمام رجسٹریشن آفیسرز مقررہ شیڈول کے مطابق متعلقہ ضلعی الیکشن دفاتر کو یہ تفصیلات فراہم کریں گے۔ مقررہ وقت میں تعمیل نہ ہونے کی صورت میں مجموعی انتخابی فہرستوں کے عمل میں خلل واقع ہو سکتاہے۔رجسٹریشن آفیسرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ کیٹیگری واضح طور پر درج کی جائے، نئے دوٹرز کا اندراج، ووٹر زکے کوائف میں تبدیلی اور وفات یا دیگر وجوہات کی بنا پر حذف شدہ اندراجات کا اخراج،تصدیق شدہ ریکارڈ اور وہ اندراجات جن کی متعلقہ سرکاری حکام نے تصدیق کی ہو وہ بھی شامل کی جائے۔