بلوچستان میں سیلاب اورمعاشی دباؤ
بلوچستان میں حالیہ موسلا دھار بارشوں اور سیلابی صورتحال میں ہونے والے نقصانات کے حوالے سے پی ڈی ایم اے بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق 16 افراد جان بحق اور 161مکان مسمار ہو گئے۔
مویشیوں کی ہلاکت کا نقصان اس کے علاوہ ہے۔بلوچستان کے دیہی علاقوں میں مویشی ہی اکثر لوگوں کا بنیادی ذریعہ معاش ہیں۔ 161 گھروں کا متاثر ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیلابی ریلوں نے کس شدت سے انسانی آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا۔یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، فرنٹیئر کور اور متعلقہ ادارے متحرک ہوئے اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔مگر اس سانحے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلیوں اور غیر متوقع بارشوں سے نمٹنے کیلئے کب تیار ہوں گے؟
ملک کو درپیش معاشی دباؤ علاقائی کشیدگی اور توانائی بحران کے تناظر میں حکومت بلوچستان کی جانب سے اختیار کی گئی کفایت شعاری اور عوامی ریلیف کی پالیسی ایک بروقت اقدام ہے۔ بلوچستان حکومت کا اپنے حصے سے وفاق کو 7 ارب روپے فراہم کرنا اورتوانائی کے شعبے میں نمایاں بچت کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت مشکل حالات میں قومی مفاد کو مقدم رکھے ہوئے ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے جس انداز میں وزیر اعظم شہباز شریف کے کفایت شعاری ویژن کو عملی جامہ پہنایا وہ قابل ستائش ہے۔ ایک طرف مالی وسائل کی بچت دوسری جانب عوام کو ریلیف فراہم کرنا متوازن حکمت عملی کا ثبوت ہے۔ حکومت کی جانب سے گرین اور پنک بسوں میں ایک ماہ کے لیے مفت سفری سہولت کا اعلان عوامی فلاح کے عزم کا اظہار ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جب عام آدمی کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوچکا ہے ایسی سہولیات ریلیف فراہم کرتی ہیں اور حکومت پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتی ہیں۔ اسی طرح کسان کارڈ کے ذریعے 15 ہزار روپے کی سبسڈی زرعی شعبے کے لیے بڑی اعانت ثابت ہو گی۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے مارکیٹوں، شادی ہالز اور ہوٹلوں کے اوقات کار مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر یہ اقدامات سخت محسوس ہوتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں یہ ناگزیر ہیں۔ دنیا بھر میں بحرانوں کے دوران ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں تاکہ وسائل کا ضیاع روکا جاسکے اور نظام کو مستحکم رکھا جائے۔ تاجروں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرنا حکومت کی سنجیدگی اور مشاورت پر یقین کا مظہر ہے۔وزیراعلیٰ کی جانب سے سرکاری اخراجات میں کمی، سرکاری گاڑیوں کا محدود استعمال اور وزیراعلیٰ ہاؤس میں اصلاحات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت صرف عوام سے قربانی کا مطالبہ نہیں کر رہی خود بھی مثال قائم کر رہی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو سبسڈی فراہم کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت نہ صرف بحران کا ادراک رکھتی ہے بلکہ اس کے تدارک کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہی ہے۔ عوام کو 15 دن کے اندر اپنی گاڑیوں کی مفت رجسٹریشن کی سہولت دینا بھی ایک مثبت قدم ہے جو نظام میں شفافیت لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔علاقائی حالات خصوصاً ہمسایہ ملک میں جاری کشیدگی کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کا عوام کو سبسڈی دینا اور معاشی دباؤ کم کرنے کی کوشش قابل تحسین ہے۔ دوسری جانب ایران میں مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی ایک انسانی بحران کی جھلک پیش کرتی ہے۔ ہزاروں پاکستانیوں کا گبد ریمدان اور تفتان بارڈر کے ذریعے وطن واپس آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کی غیر یقینی صورتحال نے عام لوگوں کی زندگیوں کو کس قدر متاثر کیا ہے۔ سرکاری اداروںاور سکیورٹی فورسز نے واپس آنے والے شہریوں کے لیے بارڈر پر مؤثر انتظامات کئے۔تاہم اس صورتحال نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایسے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ، ہنگامی انخلا کے نظام اور سفارتی رابطوں کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کی کوششوں سے امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی خوش آئند ہے، خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان کو اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کرنی چاہئیں تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار حالات کو پیدا ہونے سے روکا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشت پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤاور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث پٹرول کی قلت نے معیشت کو متاثر کیا اور عام آدمی کی زندگی کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔پاکستان میں مہنگائی کا بوجھ اٹھائے عوام کے لیے یہ صورتحال کسی بڑے صدمے سے کم نہیں۔ پٹرول کی بندش اور قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے جس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیا مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔ سبزی، آٹا، چینی اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کی قوتِ خریدکا امتحان ہے۔ دیہاڑی دار طبقہ، مزدور اور کم آمدنی والے افراد اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جن کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ جیسے ہی عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں یا سپلائی متاثر ہوتی ہے اس کا اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل میں غیر یقینی صورتحال نے نہ صرف توانائی کے بحران کو جنم دیا ہے بلکہ صنعتی سرگرمیوں کو بھی سست کر دیا ہے جس سے بیروزگاری میں اضافے کا خدشہ ہے۔عوامی سطح پر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آمدن وہی ہے مگر اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ بجلی، گیس اور پٹرول کے نرخ بڑھنے سے گھریلو بجٹ شدید متاثر ہو چکا ہے۔ شہری علاقوں میں ٹرانسپورٹ کا بحران اور دیہی علاقوں میں زرعی لاگت میں اضافہ کسانوں کے لیے نئی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں نہ صرف پیداوار متاثر ہو رہی ہے بلکہ خوراک کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کو یقینی بنانا، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور قیمتوں پر کنٹرول ناگزیرہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو متبادل توانائی ذرائع کی طرف راغب کرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اگرچہ ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن اس کے اثرات ملکی سطح پر عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت، تاجر برادری اور عوام مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں تاکہ اس مشکل دور سے نکلنے کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔